daughters 1

‏”بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتیں”

عورت کا ہر روپ خوب صورت اور لائق تحسین و محبت ہے
عورت جب بیٹی ہوتی ہے تورحمت ،بہن ہوتی ہے تو دعا، ماں ہوتی ہے تو جنت
پر عورت بوجھ ؟
نہیں عورت اور بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں
عورت کو دنیا میں بھیجا تو کائنات کا حسن کی تکمیل مکمل کے رب العالمین نے
جو بیٹی بن کر سب خاندان کے دلوں پر راج کرتی ہے۔بہن بن کر بھائی کی سچی اور مخلص دوست اور دعا کی صورت ڈھال بنتی ہے اور ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور جنت کا وسیلہ بنتی ہے
عورت جب بیوی ہوتی ہے تو ایک پختہ اور ہمیشہ ساتھ نبھانے والی شریک حیات اور جب وہ ماں بنتی ہے تو اللہ اس کا رتبہ اتنا بلند کر دیتا ہے کہ جنت کو اٹھا کراس کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ”جس شخص کی بیٹیاں ہوں اس کو برا مت سمجھو اس لئے کہ میں بھی بیٹی کا باپ ہو“۔

جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ
”اے لڑکی تو زمین پر اُتر میں تیرے باپ کی مدد کرونگا“۔

اس کے باوجود بیٹی کو کیوں بوجھ سمجھا جاتا ہے؟
اکثر ماں باپ بیٹی کو بوجھ سمجھ کر اس کو پڑھنے نہیں دیتے۔ میں جانتی ہوں کہ آج کل کے واقعات کی وجہ سے بیٹیوں پر اور پابندی لگائی جاتی ہے۔لیکن اگر میں کہوں کہ والدین نے پرورش اچھی کی ہے تو وہ اپنا دفاع کر سکتی ہے اسے پتا ہوتا ہے کہ میرے والدین کی عزت انمول ہے۔
آج کتنے شعبے ہیں جن میں بیٹیاں اپنا اولین فریضہ سر انجام دے رہی ہیں محفوظ بھی ہیں۔ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو اپنے والدین کو کبھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتیں۔ پھر بیٹیوں کو بوجھ کیوں سمجھا جاتا ہے کیوں۔

سب باتوں کے باوجود یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیوں بیٹی کو ایک بوجھ کی طرح سمجھا جاتا ہے آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں دو باتیں ہر کسی کی زبان پر ہوتی ہیں ۔بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں ،جتنی جلدی اتر جائے اچھا ہے۔ بیٹیاں پرایادھن ہوتی ہیں۔کتنی ہی بیٹیاں جہیز نہ دینے کی وجہ سے معاشرے کی نظر میں اپنے والدین کے کندھوں کا بوجھ بن کر رہ جاتی ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج ہمارے مسلمان طبقے نے جہیز جیسی لعنت کو گلے کا طوق بنا لیا ہے۔افسوس اس وقت بڑھ جاتا ہے جب لڑکی والوں کو وہ چیزیں بھی بیٹی کو جہیز میں دینے کے لئے خرید تے دیکھا ہے جو خود ان کے اپنے گھر میں بھی موجود نہیں ہوتیں۔

شادی کے بعد بھی لڑکی کے ساتھ جہیز کے نام پر مارپیٹ کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے تم ہم پر بوجھ بن کر رہ گئی ہو اور رشتہ قائم رکھنے کے لیے جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات لڑکی اپنے باپ کی عزت بچانے کے لئے اپنی سانسوں کا دم توڑ دیتی ہے۔

”دیکھی جو گھر کی غربت تو چپکے سے مرگئی

ایک بیٹی اپنے باپ پہ احسان کر گئی۔“

سچ کہتے ہیں بیٹیاں اپنے والدین کو پریشان نہیں دیکھ سکتی وہ خود تو سب کچھ سہہ لیتی ہیں مگر اپنے والدین کے سامنے خود پر مظلومیت کا ٹیگ نہیں لگاتیں صرف اسی لیے کہ کہیں ان کے والدین پریشان نا ہو جائیں کیونکہ بیٹیوں کے ماں باپ بہت کمزور ہوتے ہیں لیکن ان کمزور والدین کی بیٹیاں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ سب کچھ سہہ کر بھی اپنے والدین کے سامنے ایک سسکی تک نہیں لیتیں۔۔
جب والدین پریشان یا تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں تو صرف اور صرف بیٹیاں ہی ان کا سہارا بنتی ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بیٹیاں جی جان کی بازی لگا دیتی ہیں اپنے والدین کا سایہ بن کر ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔
میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ بیٹیوں کو بوجھ نہیں سمجھو کیونکہ بیٹیاں بوجھ نہیں والدین کا سہارا ہیں۔
بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق نہ کریں۔ ان کو برابر سمجھا جائے۔

کیونکہ بیٹی وہ نعمت ہے کہ!!
“جب حضرت فاطمہ(ض) گھر تشریف لاتی تھیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی استقبال کو اٹھ کھڑے ہوتے تھے کہ میری بیٹی آئی ہے”

باپ کے آنگن کا پھول ہے بیٹی
ماں کے آنچل کی خوشبو ہے بیٹی
زندگی میں آنے والا ہر رنگ ہے بیٹی
کبھی رحمت،کبھی چاہت ہے بیٹی
کبھی سکون،کبھی راحت ہے بیٹی
چنچل سی کھلتی ہوئی کلی ہے بیٹی
شکر گزار ہوں رب کی کہ میں ہوں بیٹی

تحریر ؛ سارہ مہر

آپ سارہ مہر کو ٹویٹر پر بھی @sarahmehar7 فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں