siasidugout 1,063

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی جنسی زیادتیوں کی وجوہات کیا ہیں؟

آج کی باتیں حقائق سے زیادہ دل کی باتیں ہیں سو دل سے پڑھیں گے تو شاید میری بات سمجھ سکیں پاکستان اس وقت ان چند بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی شرح بتدریج بڑھتی جا رہی ہے، کبھی 6 سال کی بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور کبھی 6 ماہ کی بچی ہے ساتھ، کس کس کا رونا روئیں، کس کس کی قسمت کو پیٹیں، ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی جو نہ پوری طرح اسلام اپنا سکے نا پوری طرح مغربی طرزِ زندگی، بیچ میں لٹکا ہوا یہ ریوڑ جسے ہم دل خوش کرنے کے لیے کبھی کبھی “قوم” کہہ لیتے ہیں، انکی حالت یہ ہے کہ پِند و نصائح سے یوں بھاگتے ہیں جیسے تیتر شکاریوں کو دیکھ کر. خیر اس سب بگاڑ کی ایک وجہ معاشرے میں “Smartphone” کا اندھا دھند استعمال اور ایک ایسے ملک میں نیم برہنگی کو فروغ دینا بھی ہے جہاں نہ تو کوئی نائٹ کلب ہیں نہ پورن سینیما، یہاں میرا مطلب ہرگز Rape Victim کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں ہے، وضاحت کرتا چلوں کہ جب دن رات سستے نیٹ پیکج لگا کر موبائل-فون پر پورنوگرافی دیکھی جائے گی تو انسان کو حیوان بنتے دیر نہیں لگتی اور حیوان جب بھوک مٹانے پہ آئے تو اسکے لئے کیا بچہ کیا بڑا. یہاں اس بابت سب سے بڑی ذمہ داری PTA کی ہے کہ جو انٹرنیٹ کو مکمل طور پر مونیٹر کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتی اور پھر ذمہ داری ہر گزری اور موجودہ حکومت کی بھی ہے جن کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ اس نازک معاملہ کی طرف توجہ دے سکیں جہاں چھوٹے چھوٹے بچے بھی پورنوگرافی دیکھنے میں لگے ہیں. پھر سب سے اہم ذمہ داری ان کی والدین کی بھی بنتی ہے جو سمارٹ فون پر Child Mod یا Child Monitoring آن کیئے بنا ہی اپنی جان چھڑانے کے لیے بچوں کو فون لے دیتے ہیں، کچی عمر میں پورنوگرافی دیکھ دیکھ کر وہی بچے جب زرا کچھ کرنے جوگے ہوتے ہیں تو نشانہ خود سے چھوٹے بچوں کو ہی بناتے ہیں. پھر ذمہ داری سکولوں کی ہے کہ جہاں بچوں کو Bad Touch کے بارے اور ایسی ممکنہ صورتحال سے بچنے کی بابت کچھ بھی نہیں سکھایا جاتا خیر ذمہ داری تو یہاں معاشرے کی بھی ہے جو Child Molester کو شرف قبولیت بخشتا ہے، معافی دیتا ہے جبکہ مغرب میں کسی پر ایسا الزام بھی لگ جائے تو اسکے پاس سوا خودکشی کے کوئی چارہ نہیں بچتا، پچھلے دنوں ضلع خوشاب کے ایک دور دراز گاؤں جوڑا کلاں میں ایک شخص “عمر دراز” جو کہ پیشے سے قُلفی فروش ہے، اس نے ایک 8-9 سالہ بچے کو اغوا کر کے زیادتی کی کوشش کی لیکن بچے کے شور مچانے پر اہل علاقہ نے اس درندے کو پکڑ لیا اور خاطر تواضع کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا، پولیس نے کوتاہی نہ برتی، مقدمہ درست مرتب کیا، درندہ جیل جا پہنچا لیکن ہوا کیا؟ بچے کے والد نے پیسے لے کر آج صلح کر لی اب وہ درندہ آج یا کل جیل سے آزاد ہو جائے گا، پھر کیا ہوگا؟ درندے کو پھر سے بھوک لگے گی، پھر کسی معصوم کو نشانہ بنائے گا اور اب اس بات کا بھی خیال رکھے گا کہ اہل علاقہ پکڑ نہ سکیں پھر وہ درندہ اسی معاشرے میں آزاد گھومے گا جس معاشرے کی روش ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کو باہر بھیج دیتا ہے، مجرموں کو ہیرو بنا دیتا ہے، ڈاکو اور چور لٹیروں کو اسمبلی پہنچا دیتا ہے، ظالم کی پوجا کرتا ہے مظلوم پہ مزید ظلم کرتا ہے تو پھر میں کیوں نہ کہوں کہ “ہم مسلمان جنہیں دیکھ کے شرمائیں ہنود”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں