siasidugout 167

“روٹی، کپڑا اور مکان”

ایک دفعہ کا زکر ہے کہ کسی علاقے میں ایک بہت اور معزز اور نیک شخص رہتا تھا، اسی علاقے میں ایک بھکارن تھی جسکا گزر بسر لوگوں سے مانگ تانگ کر ہوتا تھا، صبح اٹھتی اور چل پڑتی اپنے کام پر، یعنی کے بھیک مانگنے کیلئے اور جہاں سے کچھ کھانے کو مل گیا وہاں سے کھایا اور آگے کو چل دی۔
وہ معزز شخص بھی اس بھکارن کو ایسے ہی آتے جاتے لوگوں سے مانگتے دیکھ چکا تھا، لیکن ایک دن پتہ نہیں اسکے دل میں کیا خیال آیا کہ اس نے سوچا یہ بھکارن اچھی خاصی ہے اور مانگ کر اپنا گزارا کرتی ہے تو کیوں نہ اسے اپنے گھر لے آؤں اور اس سے شادی کر لوں اور اسے ایک اچھی زندگی دوں، میرا گھر بھی بس جائے گا اور اسکا بھلا بھی ہو جائے گا اور ثواب الگ سے۔

اسی ارادے سے ایک دن وہ شخص اس بھکارن کے پاس گیا اور اپنا مدعا بیان کیا، اندھے کو کیا چاہیے؟ بس دو آنکھیں۔۔۔۔ اس نے فورن ہاں کر دی اور سادگی سے نکاہ کر کے وہ اسے اپنے گھر لے آیا اور زندگی ہنسی خوشی گزرنے لگی۔
ایک دن وہ شخص معمول سے کچھ جلدی گھر آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ اسکی بیوی گھر کی الماری کے آگے کھڑی آوازیں لگا رہی ہےکہ اللہ کے نام پر کچھ کھانے کو دے دو اور پھر الماری کے ایک خانے سے کچھ کھانا نکالتی اور کھا لیتی، ایسے ہی وہ کرتی رہی جب تک کہ کھانا مکمل نہیں ہو گیا۔ شوہر بڑا حیران کہ یہ کیا ماجرا ہے، اس نے بیوی سے ہوچھنے کا فیصلہ کیا اور اسے بلا کر حقیقت پوچھنے لگا، پہلے تو وہ ٹال مٹول کرتی رہی لیکن پھر اسکے بے حد اسرار پر بتانے پر مجبور ہو گئی۔
پھر اسکے بعد اسکی بیوی نے جو اسے بتایا تو اسکے ہوش اڑ گئے کہ آخر یہ کیا ہے؟ بیوی کا کہنا تھا کہ میں بچپن سے مانگتی آ رہی ہوں اور اس مانگنے کی اتنی عادت ہو چکی ہےکہ اب اگر مانگ کر نہ کھاؤں تو کھانا کھانے کا مزا ہی نہیں آتا۔

اس تمام واقعے کو اپنے دماغ میں رکھتے ہوئے زرا سوچئے کہ ہمارے سیاست دانوں کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، انہوں نے ہمارے ذہنوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے، ہم بھی یہ سب مانگنے کے عادی ہو چکے ہیں اور انہوں نے بھی ہمیں اسی گول چکر میں الجھا کر رکھا ہوا ہے۔
روٹی دیتے ہیں تو کپڑا چھین لیتے ہیں، کپڑا دیتے ہیں تو مکان چھین لیتے ہیں، غرض یہ کہ انہیں کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ہم اپنی قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیں تاکہ انہیں کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو، وہ اپنے لئے خود روٹی، کپڑا اور مکان کا انتظام کر سکیں۔
لیکن ایسا تب ممکن ہے جب وہ ملک سے وفادار ہوں، آپ سے وفادار ہوں، انکے دل میں اس ملک اور اس میں رہنے والوں کیلئے محبت ہو۔
بھکاری بننا چھوڑئیے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں، مہنگائی کا رونا چھوڑ کر اپنی قوت خرید بڑھانے پر توجہ دیں۔ حکومت کی طرف دیکھنا بند کریں کہ وہ ہمیں کچھ دینگے، اپنے لئے خود کچھ کریں اور یاد رکھیں کہ اللہ کبھی محنت کرنے والوں کی محنت ضائع نہیں کرتا۔

تحریر ؛ سدرہ کنول

آپ سدرہ کنول کو ٹویٹر پر بھی @SidrraKanwal فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں