Pakistan our first priority 10

‏سب سے پہلے پاکستان

بہت دنوں سے سوچ رہی ہوں ہم اپنا لیڈر اپنی جماعت اور اپنی سوچ کے لئے اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ہر غلط بات بھی ٹھیک لگتی ہے کوئی برائی نظر نہیں آتی الٹا ہم شخصیت پرستی کی آخری حد تک چلے گئے ہیں کہ اپنے لیڈران کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے مگر ایسا کیوں ؟
کیوں ہم اپنے ہی گھر میں اپنے ہی بھائی اور بہن کی بات سننے کے روادار نہیں چھوٹی سی بات پر اختلاف رائے ہونے سے ہم اپنی تربیت حسب نسب سب بھول کر گالی دینے اور جان لینے تک آ جاتے ہیں
کیا یہ سب ٹھیک ہے کیا ہمارا طرز عمل اور رد عمل ٹھیک ہے؟؟
ہمارا ملک اسی لیے حاصل کیا گیا تھا کہ ہم فرقوں میں بٹ کر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے درمیان پس کر رہ جائیں کیا ہمارے بزرگوں نے اس لیے جانیں قربان کیں تھیں کہ ہم
چھوٹی سی بے بنیاد بات کو وجہ بنا کر اپنے ہی گھر کو جلانے لگ جائیں توڑ پھوڑ یہ جلاؤ گھیراؤ کہاں سے آیا ہم میں
کبھی سوچیں ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کتنی خوب صورتی سی نفرت کا بیج بویا ہم میں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوا کب ہم سب ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے نہ صرف خلاف کھڑے بلکہ جانی دشمن بن گئے
ان کی مفاد پرستی کے لئے ہم اپنے ہی گھر کو جلانے نکل پڑتے ہیں ہم ان عظیم الشان شخصیات کے لئے ایک لفظ بھی نہیں سن سکتے ہم مرنے مارنے پر آ جاتے ہیں
کبھی ہم نے سوچا اس سب میں ہمیں کیا ملا ؟
ہمارا کیا فائدہ ہوا؟
نہیں ہم نے کبھی بھی نہیں سوچا کیوں کہ ہماری سوچ کو مفلوج کر دیا گیا ہمیں وہی دیکھنا پسند ہے جو ہمیں ہمارے لیڈران دکھاتے ہیں زمینی حقائق سے ہمارا کوئی سروکار نہیں غریب مرے یا جۓ ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں ہم سب اپنی اپنی جگہ دن میں دس بار انہی مسائل کا سامنا کرتے ہیں لیکن ڈھیٹ پنے کی انتہا کہ ہم پھر بھی اف تک نہیں کرتے یہی سوچتے ہوئے کہ لوگ کیا کہیں گے حلقہ احباب کے سامنے خود کو چھوٹا نہیں ہونے دینا جھوٹی انا میں
ہم نے سرا سر نقصان اٹھایا ذاتی طور پر بھی اور ملکی سطح پر بھی
ذرا سوچیں یہ ملک کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں نہ کسی کی ذاتی جاگیر ہے یہ ملک ہمارا ہے اور اس کے حصول کے لیے
ہمارے آباؤ اجداد نے اپنا لہو بہایا جانوں کی عزتوں کی قربانیاں دیں
تو یہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا انشاء اللہ کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی یہ مقدس سر زمین روز آخر تک سلامت رہے گی شہداء کی وراثت ہے اور شہداء کبھی نہیں مرتے
یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان اسے زندہ باد رہنا ہے
ہاں اس پر حکمران آتے جاتے رہے ہیں اور رہیں گے کرسی اور اقتدار کی جنگ میں ہم عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح استمعال کیا جاتا ہے اور کیا جاتا رہے گا کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر
کبھی غربت کے خاتمے کا عزم لیے کبھی عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کی دھن سنا کر
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھئے یہ ملک کسی بھی سیاسی جماعت کے دم سے قائم نہیں نہ ان کھوکھلے نعروں کے پیچھے کھڑے چند افراد میں اتنا دم خم ہے اس دھرتی کو سنمبھالنے والے اس کے بہادر سپہ سالار اور اس کا مضبوط دفاع کرنے والے اس کے شیر دل بیٹے ہیں جو دن رات مادر وطن کی آبرو و تکریم کی خاطر سرد موسموں تپتی دوپہروں
ریگستانوں چٹيیل میدانوں اور برفانی طوفانوں سے ٹکرانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں
بنا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کے بنا کسی مذہبی انتہا پسندی کے انکا مقصد وطن عزیز کی حفاظت ہے اور اس کی حفاظت کے لیے دن رات کفن باندھے اپنے اپنے محاذ پر کھڑے ہیں دشمن کو پسپا کرنے کی ہمت و استقلال کی لازوال داستان بننے کو تیار رہنے والے یہ ملک پاکستان کے بیٹے ہیں
اور باخدا انکی نہ کوئی سیاسی جماعت ہوتی ہے اور نہ کسی شخصیت کے دیوانے ہیں انکا مقصد پاکستان ہے
انکی زندگی انکی موت سبز ہلالی پرچم کی توقیر کو قائم رکھنا
تو آئیں سوچیں کسی سیاسی و مذہبی جماعت سے بالاتر ہو کر کہ ہم سب پاکستان ہیں کسی بھی رنگ نسل فرقے مذہب سے تعلق رکھنے والے ہم سب پاکستانی ہیں
ہم میں کوئی تفریق نہیں جہاں کہیں ہم پر مشکل آئی تاریخ گواہ ہے ہم کوہ ہمالیہ کی چٹانوں کی مانند تن کر یک جان ہو گئے اور ہمارا یہی اتحاد ہمیں دنیا بھر میں غیور و خوددار رکھتا ہے آئیں وعدہ کرتے ہیں ہم دشمن کو اس کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ہم بلوچستان کے وسیع و عریض میدانوں میں ایک
ہم خیبر پختون خواہ کے سنگلاخ پہاڑوں میں بھی ایک
ہم گلگت کے سرد موسم میں بھی ایک
ہم سندھ کے گہرے نیلے پانیوں میں بھی ایک
ہم کشمیر جنت نظیر کی خوب صورتی میں بھی ایک ہم پنجاب کے پنج دریاؤں میں بھی ایک
اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کی ہمت نہیں رکھتی
الحمدللہ یہی ایک حقیقت سب سے بڑی اور حسین ہے کہ سب سے پہلے پاکستان
پاکستان ہماری جان

سندھی ہم بلوچی ہم پنجابی ہم پٹھان ہم
اس پرچم کے نیچے پاک فوج کے جوان ہم

تحریر ارم چوہدری

Twitter: ‎@IrumWarraich4

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں