Journey from Mianwali to the Federation 2

میانوالی سے وفاق تک کا سفر

میں جب عمران خان کو اپنے لیڈر کے طور پر دیکھتا ہوں تو انکے ساتھ کھڑے رہنا ان کا خواب پاکستان سےکرپشن کا خاتمہ اور فرسودہ نظام میں تبدیلی کا نعرہ لیئے حالات مشکل برے اچھے سب سوچ رہا ہوں تو آئیں آج اپنے احساسات کو الفاظ کی زباں دینے کی کوشش کرتا ہوں تو شروع عمران خان کی پیدائش سے لے کر اوائل عمری سے کرتا چلوں
عمران احمد خان نیازی
ایک ایسا روشن نام جس نے ہر لحاظ سے خود کو منوایا میانوالی سے تعلق رکھنے والے اکرام اللہ خان نیازی کا گھرانہ اس وقت دولتمند خاندانوں میں شمار ہوتا انکے اکلوتے بیٹے عمران خان نیازی کی پیدائش
25 نومبر، 1952 کو لاہور میں ہوئی وہ پشتون قبائل کے مشہور قبیلے نیازی سے تعلق رکھتے ہیں انکا خاندان زیادہ تر لاہور میں ہی رہتا تھا اس طرح عمران خان کے لڑکپن کا بیش تر حصہ لاہور میں ہی گزرا
لیکن ان کی والدہ شوکت خانم صاحبہ چونکہ انتہائی سادہ طبیعت کی مالک تھیں تو وہ زیادہ تر میانوالی میں سکونت پزیر رہیں عمران خان چار بہنوں کے بعد اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے بیٹے تھے
عمران خان
اپنے لڑکپن میں ایک خاموش اور شرمیلے مزاج کے حامل تھے ان کے دوست انکو کم گو اور اپنے آپ میں مگن رہنے والا لڑکا کہتے ہیں جو اکثر اپنے آپ میں ہی رہتا کسی سے بے جا گفتگو نہ کرنے والا اور اپنے مقصد کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنے والا لڑکا تھا جسے پڑھنے کا شوق اور سکول میں ہی انہیں کرکٹ سے بے حد لگاؤ تھا عمران خان کی دلچسپی کی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ انکے
دو ننھیالی کزن جاوید برکی اور ماجد خان آکسفورڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کر چکے تھے اور انہی سے متاثر ہو کر عمران خان کا شوق پروان چڑھا اور عمران خان نے تیرہ سال کی عمر میں ہی کرکٹ کھیلنا شروع کر دیا تھا
ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر لاہور کے کیتھڈرل سکول گئے اور اس کے بعد برطانوی شہر ورسسٹر میں رائل گرامر سکول میں تعلیم مکمل کی اور
آکسفورڈ یونیورسٹی کے کیبل کالج سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری لی آکسفورڈ میں دوران تعلیم وہ 1974 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے کرکٹ کا سفر تیزی سے جاری رہا اور بلآخر
پاکستان کو 1992 میں دنیائے کرکٹ کی ایسی تاریخ رقم کی جو آج تک پاکستان دوبارہ حاصل نہیں کر سکا اپنی قیادت میں ورلڈ کپ کی پہلی اور آخری فتح دلوانے کے بعد انہوں نے اپنے اسپورٹس کریئر کو دوام عروج پر خیر آباد کہہ دیا 1992 تک کے کیرئیر میں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 362 وکٹیں اور 3807 رنز بنا چکے تھے
کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کینسر اسپتال بنانے کا خواب لیے عمران خان نے ہر امیر اور غریب کے دروازے پر دستک دی اسپتال بنانے میں سب سے پہلے 92 کی فاتح ٹیم نے فنڈنگ کی
کینسر اسپتال پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایک خواب ہی تھا مگر اسکو حقیقت کا روپ عمران خان کی شب و روز محنت نے دیا
اسپتال بنانے کے مقصد کے پیچھے انکی مرحومہ والدہ شوکت خانم کی کینسر جیسی موذی مرض سے وفات تھی جسے عمران خان نے دل میں محسوس کیا اور عام عوام کے لئے ایشیا کا پہلا کینسر اسپتال بنا کر قوم کو ایک اور تحفہ دیا
پھر انہی دنوں برطانیہ کے مایہ ناز کاروباری و سیاسی شخصیت جیمز گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائمہ سے پیرس میں 1995 میں شادی کی جمائمہ اور عمران خان کے دو بیٹے
سلیمان اور قاسم نے انکی زندگی میں رنگ بھر دیے مگر یہ رنگ بہت عارضی تھے جمائمہ اور عمران خان کی ازدواجی زندگی کے 9 سال ساتھ رہنے کے بعد طلاق ہوگئی
یہ دور عمران خان کی زندگی کا بہت تکلیف دہ دور رہا لیکن بہت جلد عمران خان نے اس غم کو اپنے اندر محفوظ کر کے نئے عزم سے زندگی کو دیکھا غریب عوام کی حق تلفی قانون کی پکڑ ہمیشہ غریب آدمی تک اور امیر کا قانون الگ یہی سوچ اور فکر
اور عام آدمی کا استحصال عمران خان کو سیاست میں لے آیا اور 25اپریل 1996 کو باقاعدہ طور پر تحریک انصاف پارٹی کا اعلان کیا
اور پھر سے ایک جدو جہد کا نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ پے در پے ناکامیوں کے بعد بھی عمران خان ثابت قدم رہے پہلی بار الیکشن میں ایک سیٹ ملی تو مخالفین نے خوب مذاق اڑایا اور تضحیک آمیز جملے کسے
تب عمران خان نے تاریخی الفاظ کہے عمران خان نے کہا میرے ووٹر ابھی چھوٹے ہیں جب یہ بڑے ہوں گے تو اصل تبدیلی تب آئے گی اور عمران خان کے انہی وٹروں میں میرا شمار ہوتا ہے طالب علمی کے زمانے 2012 میں پی ٹی آئی کے کارواں کا حصّہ بن کر اپنے لیڈر کے لئے انتھک کوششیں کیں اور مجھ جیسے لاکھوں نوجوانوں نے ایک ایسی مضبوط تحریک کا آغاز کیا اور دن رات ایک کر کے عمران خان کے کرپشن کے خلاف جنگ میں انکے ساتھ کھڑے رہے اور پھر ہم نے وہ حسین مناظر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے جب پکارا گیا
عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 وزیرِ اعظم منتخب ہو گئے ہیں قوم کو مبارک باد پیش کی جاتی ہے ریاست مدینہ کی طرح پاکستان کو سنوارنے کی جستجو لیے نیا پاکستان کا خواب لیے بلآخر 22 سالہ تاریخ ساز محنت لگن تکالیف کے بعد عمران خان پاکستان کے وزیرِ اعظم منتخب ہو گئے اس خوشی میں پورا پاکستان
ہر گھر ہر گلی محلے گاؤں شہر اور دیہاتوں میں جشن منایا گیا ایک ایسے سسٹم کے خلاف طویل جد وجہد کے بعد عمران خان نے یہ بات سچ کر دکھائی کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی مورخ لکھ رہا ہے عمران خان جیسے بیٹے صدیوں بعد بھی پیدا نہیں ہوتے جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور اپنے ارادوں پر مکمل اعتماد ہو اور وہ تنہا چلیں اور پھر کارواں بنتا جائے
ایسے لوگوں کو تاریخ سنہری حروف میں لکھتی اور بہت با وقار انداز میں یاد رکھتی ھے
آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مثال کے طور پر ایک عظیم لیڈر کے نام سے جانا جائے گا
جو جھکا نہیں جو بکا نہیں جس کے صادق ہونے کی تعریف دشمن بھی کرتے ہیں وہ بولتا ہے تو ہجوم سنتا وہ چلتا ہے تو ہوائیں دعاؤں کی طرح حصار کرتی ہیں کیوں کہ عمران خان کروڑوں دلوں پر راج کرنے کے لئے پیدا ہوا اور یہ راج اس نے ملک و قوم کی خدمت کر کے حاصل کیا
انشاء اللہ ابھی تو شروعات ہیں ابھی تو کئی منزلیں طے کرنا باقی ہیں ابھی پاکستان کے لیے بہت کچھ بہترین کرنے کے لیے عمران خان کی پاکستان کے لوگوں کو ضرورت ہے اللہ تعالیٰ میرے لیڈر کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین یارب العالمین

بقول وسیم بریلوی

‏دعا کرو کہ سلامت رہے مری ہمت
یہ اک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

تحریر؛ حافظ اسامہ ابوبکر

آپ اسامہ ابوبکر کو ٹویٹر پر بھی فالو @AmUsamaCh کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں