siasidugout 146

کیا واقعی ذمہ دار ٹک ٹاک ہے؟

ایک مشہور کہاوت ہے کہ ہر انسان کے اندر دو ریچھ ہمیشہ باہم دست و گریبان رہتے ہیں، ایک ریچھ اچھائی اور ہر اچھی عادت کا جبکہ دوسرا برائی اور ہر بری عادت کا استعارہ ہوتا ہے، انسان جس ریچھ پر توجہ دے کر اسکی دیکھ بھال کرتا ہے وہی جیت جاتا ہے، اسی طرح شیخ سعدی سے منسوب ایک قول ہے جس میں سوال کیا گیا کہ انسان، فرشتے اور جانور میں کیا فرق ہے تو جواب ملا، نفس
پوچھا گیا کیسے؟ جواب ملا، نفس کی مان کر ضمیر کو خاموش کر دو تو جانور، نفس کو خاموش کر دو تو فرشتہ اور دونوں میں توازن پا لو تو انسان
یوں تو یہ قول بھی آپ نے سن رکھا ہوگا جو صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب کیا جاتا ہے کہ کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اسکی نوجوان نسل میں بے حیائی پھیلا دو
خیر آجکل پے در پے مختلف ایسے واقعات ہو رہے ہیں جن سے ایک عام شہری کا سر نا صرف شرم سے جھک جاتا ہے بلکہ اپنی بہن بیٹی و گھر کی دیگر عورتوں کے لیے شدید خوفزدہ بھی ہو جاتا ہے، کچھ واقعات ہوتے ہی ایسے ہیں اور کچھ کو ایسا بنا کر دکھایا جاتا ہے، پھر ٹویٹر پر ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں اور عوام ہمیشہ کی طرح منقسم نظر آتی ہے، حالیہ دنوں میں ہونے والے منار پاکستان واقعہ کے بعد ٹک ٹاک اور اس جیسی دیگر ایپس پر شدید تنقید دیکھنے کو ملی تو آج ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں، کیا واقعی ٹک ٹاک ہی معاشرے میں بڑھتی بے حیائی کی واحد ذمہ دار ہے؟
اس سوال کا جواب زرا الجھا ہوا ہے تو تھوڑا سا ماضی میں لیئے چلتا ہوں آپکو، میری عمر اس وقت 32 سال ہے، میں 90s کے بچوں میں شمار کیا جا سکتا ہوں حالانکہ پیدائش تو 1989 کی ہے، خیر ہمارے بچپن میں ایک ہی چینل ہوا کرتا تھا یعنی PTV جس پر صبح سویرے مارننگ شو اور کارٹون دکھائے جاتے تھے اور یہی کارٹون دیکھنے کی خاطر اکثر سکول سے دیر ہو جایا کرتی تھی، گاؤں میں رہتا تھا تو نا کوئی کیبل تھی اور نا ڈش، تب تک گھر میں ڈش لگانا ایسے معیوب سمجھا جاتا تھا جیسے گھر میں کوئی کنجر خانہ کھول لیا ہو، خیر تب تک معلوم ہی نا تھا کہ ڈش نامی کوئی چیز ہوتی بھی ہے، زرا سا وقت بدلا اور PTV کے ساتھ PTV World بھی چل نکلا، یہ وہ وقت تھا جب PTV World کی نشریات شام چار بجے شروع ہوا کرتی تھیں اور ہم صرف چینل بدلنے کا شوق پورا کرنے کے لیے چار بجے تک انتظار کیا کرتے تھے. یہ وہ وقت تھا جب ہر نیوز کاسٹر کے سر پہ دوپٹا، ہر مارننگ شو میں اینکر کے سر پہ دوپٹا ہوا کرتا تھا اور اخلاقیات ان شوز کا جزوی عنصر ہوتا تھا، یعنی والدین کو یہ پریشانی نہ ہوتی تھی کہ بچا TV سے کچھ غلط سیکھے گا، قاری سید صداقت علی شام کے وقت قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے جو پروگرام مجھ سمیت کئی بچے شوق سے دیکھتے تھے، حالانکہ باقاعدہ تعلیم قرآن کے لیے مقامی مسجد جانا بھی لازم تھا.
پھر وقت بدلنے لگا، زرا سے بڑے ہوئے تو گاؤں میں ویڈیو سینٹر نام سے کچھ بیماریوں نے جنم لیا، یہ وہ وقت تھا جب لڑکپن میں داخل ہو چکے تھے تب تک بھی ابو، چاچو اور ماموؤں کا اتنا خوف ہوتا تھا کہ ویڈیو سینٹر والی گلی سے گزرتے ہوئے بھی دس بار سوچتے کہ کسی نے دیکھ لیا تو اچھی خاصی کُٹ پڑے گی
زرا سے اور بڑے ہوئے تو محلے میں کسی دوست کی بیٹھک پر کزن وغیرہ پیسے ملا کر VCR کرائیے پہ اٹھا لاتے اور یہ احتمام اتنا خفیہ طریقے سے ہوتا جیسے CIA کو کوئی آپریشن ہو، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی جاتی، اس دوران فلم دیکھتے ہوئے کوئی ایسا سین آ جاتا جس میں ہیرو ہیروئین بغل گیر ہوتے یا پھر فلم کے دوران ہیئر ریموول کریم کا کوئی اشتہار آ جاتا تو مجھ سے بڑا کزن فوراً میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتا کہ یہ سین تمہارے دیکھنے لائق نہیں. پھر وقت اور بدلا اور بات CD Player اور DVD Player پر جا پہنچی، لوگوں نےDVD Player خریدنا شروع کر دیئے، آہستہ آہستہ معاشرے نے اس بابت Acceptance دکھائی اور ہر گلی کوچے میں DVD Shops کھلنے لگی، تاہم تب تک بھی کیبل عام نہ ہوئی تھی، اسی دور میں ہمارے گاؤں میں کیبل نیٹ ورک آیا تو گاؤں والوں نے تاریں اکھاڑ پھینکی کہ یہ بے حیائی کا نیٹ ورک ہے. خیر پھر موبائل-فون کا دور شروع ہوا اور آخر کار ٹچ موبائل-فون یا پھر سمارٹ فون آنا شروع ہو گئے، اب والدین خود بچوں کو یہ کھلونا لے کر دیتے، لیکن معلوم کیا تھا کہ اس میں تو وہ سب کچھ موجود ہے جس سے والدین ماضی میں چڑھ کھایا کرتے تھے.
مجھے اچھے سے یاد ہے کہ 14-15 سال کی عمر تک محلے کے لڑکے لڑکیاں اکٹھے کھیلا کرتے تھے پھر وہ کرکٹ ہو یا چھپن چھپائی، ایک دوسرے کے گھر ٹائم فکس کر کے تمام محلے کے بچے اکٹھے ہوتے اور فکس بھی اسکے گھر ہوتا جس کا گھر زرا بڑا ہوتا، مسجد میں قرآن پاک کے سبق کے بعد سے لے کر مغرب تک بس کھیلنا ہوتا تھا اور کبھی کبھی مغرب کے بعد بھی، میزبان گھر کی مائیں بچوں کے لیے رنگین پانی بناتی، چائے بنتی تو وہ بھی پیش کی جاتی اور دیر ہو جاتی تو کھانا بھی، یہ سب ہماری ثقافت کے رنگ تھے کہ اس عمر میں بھی ہمیں آجکل کے Nibba اور Nibbi کی طرح افیئرز کے بارے کچھ معلوم نہ تھا، کیونکہ نا TV پہ ایسا کچھ دیکھنے کو ملتا، نہ ہی کارٹونز میں اور فلمیں تو پھر جمعرات کی رات وہ لگتی تھیں جن میں ہرو ہیروئین بھول کر قریب آ بھی جاتے تو سامنے پہیا گھومنے لگتا یا پھر پھول اور اکثر تو بس کبوتروں کا جوڑا
یہ سادہ وقت بھی نہ جانے کہاں چلا گیا، اتنی جلدی بس گزر گیا، اور اسکے گزرتے ہی کیبل عام ہونے لگی، ہم سے بعد والی نسل کو کارٹون بھی وہ دیکھنے کو ملے جس میں ہر بچے کی ایک گرل فرینڈ ہوتی، پرائیویٹ چینلز کے TV ڈرامے آ گئے جس میں کبھی سالی بہنوئی کا چکر، کبھی بہو سسر کا، کبھی دیور بھابھی کا تو کبھی کسی کا، غرض کہ ہر رشتے کو پامال کر کے دکھایا گیا، برائی ہر معاشرے میں موجود ہوتی ہے لیکن برائی کی ترویج اس مسئلہ ہے کہ ترویج سے معاشرے میں Acceptance پیدا ہوتی اور یہی Acceptance معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے جیسا کہ انگریزی کی کہاوت ہے
“What Goes In, Comes Out”
اسی کے مصداق میڈیا کی 10-15 سال کی لگاتار انتھک محنت کے بعد اس شعوری نابالغ معاشرے نے ہر چیز کا مطلب پہلے منفی لینا شروع کیا بعد میں کچھ مثبت نکلتا، اسی تناظر میں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ پاکستان جو کہ اسلامی مملکت ہے ہمیشہ سے کھینچا تانی میں رہا، طاقتور اشرافیہ اسے یورپ کی طرح “آزاد خیال” اور “سیکولر” بنانا چاہتا ہے جبکہ ہم جیسے اکثریت پینڈو اپنا دین اور ثقافت بچانے کے لیے زور لگاتے ہیں، حالانکہ ہم اکثریت میں ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طاقت میں نہیں.
خیر جیسا کہ عرض کیا یہ شعوری نابالغ معاشرہ جو کہ کسی بھی نئی چیز سے سب سے پہلے منفی کام ہی لیتا ہے اسکو تیز ترین انٹرنیٹ میسر ہو گیا اور ہر ہاتھ میں سمارٹ فون، بس پھر کیا تھا، جس کا فون کھولو اس میں فحش فلمیں، جس نوجوان لڑکے کو دیکھو اسکی کوئی نہ کوئی گرل فرینڈ، آن لائن اس کلچر کو خوب فروغ دیا گیا اور کافی حد تک معاشرتی پزیرائی میسر ہونا شروع ہوئی. بس پھر رہی سہی کمی ٹک ٹاک نے آکر پوری کر دی اور جو سالوں کا گند ہمارے اندر چھپا تھا وہ ٹک ٹاک کے ذریعہ باہر نکلنے لگا، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ، سستی مشہوری، گالم گلوچ، کیا کچھ نہیں دیا ٹک ٹاک نے، یا پھر یوں کہیں کہ ٹک ٹاک کے ذریعہ ہم نے اس برائی کے ریچھ کو آزاد کر دیا جو کب سے ہمارے اندر پنپ رہا تھا، ایک ایسے معاشرے میں جہاں سر عام ریلیشن شپ نہیں چل سکتے، جہاں کلب نہیں، جہاں قحبہ خانے سرعام نہیں، اس معاشرے میں ایک سزا جب گند ایسے لگاتار بھرا گیا تو وہی ہوا جو ہونا تھا، جیسا کہ اوپر عرض کیا “What Goes In, Comes Out” پھر جو اندر جمع کیا تھا وہ نکلنا شروع ہوا، یوں بھی پورن اور فحش مواد کی بہتات تو ہوئی لیکن ہر ایک کی رسائی نہ تو جسم فروشی کے اڈے تک تھی نہ طوائفوں تک تو طوائفوں نے بھی خود کو Digitize کر لیا اور ٹک ٹاک پر نت نئے طریقے ابھرنے لگے بدنام ہونے کے،
کسی شاعر نے کہا تھا کہ” بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا؟ ”
بس اسی چیز کو اکثریت نے اپنا نصب العین بنا لیا، میں یہاں خدانخواستہ ہر ٹک ٹاکر کو طوائف بالکل نہیں کہہ رہا، لیکن اکثریت ایسی ہی ہے
خیر وہ عورت جسے سات پردوں میں رہنے کا حکم ہے ٹک ٹاک پر سرعام ناچنا شروع ہوئی، کپڑے کم سے کم اور چُست ست چُست ہوتے چلے گئے کیونکہ سٹار بننا تھا، لطیفے گھٹیا سے گھٹیا ہوتے گئے اور لڑکوں نے فیم کے لیے لڑکیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا، سرعام گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ہونے لگا، گھر کی عورتوں کو ٹک ٹاک پہ نچایا جانے لگا، ہمارے دور میں تو ایسے مردوں کے لیے ایک خاص لفظ استعمال ہوا کرتا تھا، چلیں خیر چھوڑیں، اب کس کو کیا کہا جائے
اور جب یہ سب عروج پہ پہنچا تو جنسی جرائم میں اضافہ تو ناگزیر تھا، پھر عورتوں کی تنظیموں کے رونے دھونے شروع ہوئے کہ دیکھیں عورت کی آزادی چھینی جا رہی ہے، عورت کیا اب پارک میں بھی نا جائے؟ تو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں جو ٹویٹر پہ ہی کہیں پڑھی تھی کہ “ہر شخص کو بینک سے رقم نکلوانے کی آزاری ہے لیکن وہی شخص ٹک ٹاک پہ اعلان کر دے کہ میں کل فلاں وقت اتنے لاکھ روپے فلاں بینک سے نکلوا کر فلاں جگہ پر بیٹھوں گا اور پھر اس شخص پہ ڈاکہ پڑ جائے تو قصور تو ڈاکوؤں کا بھی ہے لیکن زیادہ قصوروار کون ہے؟ یہ آپ بھی سمجھ گئے ہونگے”
اسی طرح ٹک ٹاک پر بیہودہ ترین ویڈیوز بنانے کے بعد خود کو تقریباً طوائف ثابت کرنے کے بعد ایک لڑکی اگر پبلک میٹنگ کرتی ہے وہ بھی بنا سکیورٹی اور پولیس کو آگاہ کیئے تو کیا ہوگا؟ یہ آپ دیکھ چکے ہیں
اوپر بیان کردہ اتنی باتوں سے کچھ ثابت کرنا چاہتا تھا تو بس یہ کہ ٹک ٹاک معاشرے میں بے حیائی کی وجہ ضرور ہے لیکن واحد وجہ نہیں، اس کے ذریعہ تو بس برائی کا ریچھ آزاد ہوا ہے، باقی وہ معاملات جنہوں نے اس ریچھ کو پال پوس کر اس قابل کیا ان پر بھی غور کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہمیں اپنی ثقافت اور خصوصاً اپنے دین کی ترویج کی ضرورت ہے، اپنا خاندانی نظام مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، قباحتیں دور کرنے اور نکاح آسان بنانے کی ضرورت ہے، ایک سے زائد نکاح کا رواج ڈالنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب نکاح کو فروغ ملتا ہے تو زنا کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، خاندانی نظام کو فروغ ملتا ہے تو بے حیائی دم توڑتی ہے، نوجوان نسل کی سرکشی کو قابو میں لانا آسان ہو جاتا ہے، فیصلہ 14 اگست 1947 کو کر لیا گیا تھا کہ یہ مملکت اسلام کا قلعہ ہوگی لیکن اس فیصلے کو عملی جانہ ابھی تک نہیں پہنایا جا سکا

تحریر، ملک محمد اسد

Follow on twitter: @Asadyaat

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں