siasidugout 61

قاتل مہینہ ‏اگست

‏اگست کا مہینہ کیلنڈر کے حساب سے سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔اس کا نام 8 قبل مسیح میں رومن شہنشاہ ایگسٹس سیریز کے نام پر رکھا گیا ۔ یہ مہینہ ہمیشہ سے مجھے قاتل مہینہ لگتا ہے اس مہینے ایشیا میں بھی بہت ستم ڈھائے گیے ہیں ۔ ویسے تو اگست میں پیدا ہونے والے بچے اپنی پیدائش پر بڑا فخر کرتے ہیں کیونکہ leo ستاروں کے حساب سے بہت مضبوط ستارہ سمجھا جاتا ہے ۔اور اسلامی نظریے کے مطابق ہم کسی مہینے کو برا نہیں کہہ سکتے سب مہینے اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور سب مہینے اچھے ہیں۔ مگر کچھ مہینے ہر انسان کی زندگی میں اتنے بھاری ہو جاتے ہیں کہ جب بھی وہ مڑ کر آتے ہیں  بیتے غم تازہ ہو جاتے ہیں اور اس مہینے سے ڈر سا لگنے لگتا ہے۔
اگست کا حال بھی میری زندگی میں کچھ ایسا ہی ہے مجھےکوئی 15 سال پہلے کی آج بھی وہ گھورتی ہوئی مردہ انکھیں یاد اتی ہے جو نانی کی حویلی کے صحن میں تھی جب بھی اگست کی پہلی تاریخ اتی ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے مانو خالہ میری سوچ میں زندہ ہو گئ مگر ان کی آنکھیں مردہ ہی رہتی ہے وہ نانی کی 29سالا جوان بیٹی کی لاش آج بھی میری آنکھوں کے آگے ویسے ہی اتی ہے ۔
اگست کے بارے میں فسادات  پڑھتے پڑھتے 1947 میں پہنچ گئ جہاں مجھے ایک بڑا سا کنواں نظر آرہا تھا جیسے ہی کنویں کی طرف دیکھتی ہو تو عورتیں اپنی آبرو بچانے کے لیے بھاگ بھاگ کر اس میں گود رہی ہوتی ہیں کچھ کے ہاتھ میں بچے ہوتے ہیں کچھ کے باپ ، بھائی ، خاوند انہیں زبردستی کھینچ کھینچ کر کنویں میں پھینک رہے ہوتے ہیں  میں ان عورتوں کو بچانے کے لئے کنویں کی طرف لپکتی ہوں اور کیا دیکھتی ہوں اندر پھولی ہوئی لاشیں تیر رہی ہیں ۔
اس روز  13 اگست جمعہ کا دن تھا عجیب سی بےچینی تھی جیسے کچھ ہونے والا ہے میں بار بار فون پکڑ کر دیکھتی کہ کوئی میسج تو نہیں آیا ۔ پھر ڈر کر  فون رکھ دیتی۔  اس دن تو ٹائم بھی رفتار سے تیز گزر رہا تھا اور میرے اندر کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی جمعہ کے بعد اچانک سے فون کی گھنٹی بجی ڈرتے ڈرتے فون اٹھایا تو خوشخبری سننے کو ملی کے وہ بہتری کی طرف جا رہی ہیں عجیب سا سکون آ گیا دل میں کے نہیں اب کے اگست قاتل نہیں ہو  گا ۔ ابھی عصر ہی تو پڑھی تھی کے خبر نے آنکھوں کی بینائ کو پانی میں ڈھال دیا جس کا خوف تھا وہ ہو گیا عزرائیل نے امانت لے لی اگست نے  پندرہ سال بعد دوبارہ اپنی تاریخ دہرائی بس کردار اور دن بدل گیا اگست نے ظالم ہونے کا تمغہ اپنے پاس ہی رکھا۔
اگست کا مہینہ ہی تھا جب لاکھوں کی تعداد میں جاپانی قتل ہوئے تھے اگست کا مہینہ ہی تھا جب بٹوارے پر مسلمان، ہندو، سکھ ایک دوسرے سے بدلہ کی آگ میں جلس گیے تھے ۔ ہاں وہ اگست ہی تھا جب مانو خالہ اپنے خاوند کے ظلم کے بھینٹ چڑھ گئ اور اگست ہی ہے جب فری خالہ کو ڈاکٹرز نے مار دیا ۔ مجھ سمیت لاکھوں آج بھی سوچتے ہیں اگست کے مہینے میں نے انہیں کیا دیا ۔

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

تحریر؛ ندا ابرار

آپ ندا ابرار کو ٹویٹر پر بھی فالو ‎@Nid_z0 کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں