176

طالبان کی کابل میں پہلی نیوز کانفرنس۔ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلامی قوانین کے مطابق رکھا جائے گا . ذبیح اللٰہ

ذبیح اللٰہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں ہیں عورت کے حقوق کا خیال اسلامی قوانین کے مطابق رکھا جائے گا. ہم کسی بھی قسم کے اندرونی اور بیرونی دشمن نہیں چاہتے۔

طالبان کی پہلی پریس کانفرنس کے اہم نکات

  1. ہم معافی کا اعلان کرتے ہیں کسی سے کسی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائے گا.
  2. عورت کے حقوق کا خیال اسلام کے مطابق رکھیں گے.
  3. پرائیویٹ میڈیا آزاد رہے گا مگر نیشنل انٹرسٹ کے خلاف بالکل بھی نہیں آزادی ہوگی.
  4. افغانستان سے کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی.
  5. افغانستان منشیات پاک ملک ہوگا.

انہوں نے کہا کہ عورتوں کو اسلامی قوانین کے مطابق تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی آزادی ہو گی اور وہ معاشرے میں میں اہم کردار ادا کریں گی. انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں حالات بہتر ہونے کے بعد نئی حکومت تشکیل دی جائے گی.
ذبیح اللٰہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان میں کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی قسم کے پروپیگنڈہ کی اجازت نہیں ہوگی اور یہی بات صدر ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں بھی ہوئی تھی اسی معاہدے کے ساتھ صدر جو بائیڈن کی حکومت میں میں امریکی فوجوں کا انخلا ہوا.
یونائیٹڈ نیشن کے مطابق افغانستان میں دنیا کی سب سے زیادہ ہیروئن کاشت کی جاتی ہے ہے جو کہ کہ اب نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہم عالمی کمیونٹی سے مدد کے خواہاں ہے کہ وہ ہمارے کسانوں کو کو دوسری فصلیں اگانے میں مدد کریں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو آزادی ہونی چاہیے جو لوگ افغانستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جانا چاہتے ہیں۔ نیٹو کا مقصد افغانستان کو ایک کامیاب ریاست بنانا تھا۔
خوفزدہ امریکی فوج کے افغانستان سے نکلنے پر بہت زیادہ تنقید کی جا رہی ہے.جرمنی کے صدر فرینک والٹر کا کہنا تھا کہ کابل ائیر پورٹ کے مناظر مغرب کے لیے شرم کا مقام ہے۔
بہت سے افغان شہریوں یو نے خوف کا اظہار کیا کہ طالبان ظالمانہ طریقے سے حکومت کریں گے جیسے انہوں نے نے اپنی پچھلی حکومت میں کیا تھا.

آپ افغانستان کی پہلی نیوز کانفرنس کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں کمنٹس میں ضرور بتائیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں