siasidugout 119

طالبان کا افغانستان کے%80 علا قوں پر قبضہ کرنے کا دعوٰی

2001 میں امر یکی قیادت والی افواج نے افغانستان پر حملہ کر کےطالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا ، لیکن طالبان نے امریکہ کےخلاف مزاحمت جاری رکھی اور آہستہ آہستہ دوبارہ طاقت حاصل کر لی اور علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیے۔ طالبان اور امر یکی افواج کے درمیان جنگ 2 دہائیوں تک جاری رہی. امریکہ نے 2 دہائیوں کی جنگ کے بعد افغانستان سے فوجی انخلا کا اعلان کر دیا. امریکہ 11 ستمبر تک اپنا انخلا مکمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے ، طالبان نے افغان فوجی چوکیوں ، قصبوں دیہاتوں اور بڑے شہروں کو گھیرے میں لے لیا ہے ، اور ایک بار پھر اس خدشے کو ہوا دے رہے ہیں کہ وہ حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔

افغان طالبان کی ایک تصویر

2018 میں امریکہ افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں داخل ہوا اور فروری 2020 میں دونوں فریقوں میں امریکی افواج پر حملوں کی روک تھام اور امر یکی افواج کے با حفاظت انخلا کے لیے دوحہ میں افغان طالبان اور امر یکی قیادت کےدرمیان ایک امن معاہدہ کیا گیا. لیکن اس کے بعد طالبان نے افغان سکیورٹی فورسز اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔ اب ، جیسا کہ امریکہ نکلنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ گروپ ملک بھر کے بیشتر علاقوں میں قبضہ کرتے ہوے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

Afghan-Taliban-and-US-agreement-of-peace-in-Doha-Pictures
افغان طالبان اور امر یکی قیادت کےدرمیان ایک امن معاہدہ کی تصویر

مندرجہ ذیل دی گئی تصویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے آسمانی رنگ والے علاقے افغانستان گورنمنٹ  کے قبضے میں ہیں اور سرخ رنگ والے علاقے طالبان کے قبضے میں ہیں۔ اور جن علاقوں کا رنگ پیلا ہے، وہ علاقے طالبان اور افغان گورنمنٹ کے درمیان جنگ کا شکار ہیں اور ان علاقوں پہ کسی کا قبضہ نہیں۔

afghanistan_control_map_in_Afghanistan

موجودہ صورت حال کے مطابق طالبان نے غیر معمولی علاقوں اور دیگر دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور اب شہروں کی جانب رخ کرتے ہوے ان پر لگاتار حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں افغان فورسز بے بس ہیں اور امریکی فوج کی مدد سے طالبان کو روکے ہوے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے حملوں کی وجہ سے طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔  اس بات کا فیصلہ اب آپ  نے کرنا ہے کہ  افغانستان اسی طرح خانہ جنگی کا شکار رہے گا یا افغان گورنمنٹ اور طالبان میں سے کوئی ایک فتح یاب ہوگا ؟

ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں