siasidugout 73

افغانستان، آنے والا وقت اور خطہ

(حصہ اول)
یوں تو اللہ کریم کے علاوہ کوئی بھی مستقبل کے بارے کچھ بھی نہیں جانتا، لیکن موجودہ حالات اور ہونے والی Developments کے نتیجہ میں کیا کچھ ہو سکتا ہے اس بارے اندازہ لگانے کے لیے کوئی ماہر سیاسیات ہونے کی ضرورت نہیں، یہی کچھ عروض ہیں جو آج نقطہ بہ نقطہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا
قبل ازیں اپنے کالمز میں عرض کر چکا ہوں کہ اس وقت افغانستان سے یوں تو تمام خطے اور مابعد تمام دنیا کے بڑے تجارتی ممالک کے اہم مفادات جڑے ہوئے ہیں لیکن سب سے اہم اس وقت چار ممالک ہیں ١) پاکستان ٢) چین ٣) روس ٤) ترکی ان ممالک کے مفادات افغانستان سے براہِ راست اور سب سے زیادہ ہیں جبکہ انکے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستیں، چند یورپی ممالک اور امریکہ بھی اپنے اپنے مفادات کی حفاظت میں جُٹے نظر آتے ہیں، مضمون کو مختصر رکھنے کے لیے ہم درج بالا چار ممالک اور وسطی ایشیاء کے تناظر میں کچھ باتیں کریں گے
تجارتی رستہ: افغانستان اپنے جغرافیہ کے حوالے سے انتہائی اہم سرزمین ہے جو کہ جنوبی ایشیاء کو وسطی ایشیاء سے بھی ملاتا ہے اور روس، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان وغیرہ کو گرم پانیوں تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے، چین جو کہ اپنے تجارتی ماڈل کی وجہ سے اس وقت دنیا کی پہلی تجارتی سپر پاور بن چکا ہے، اسے اپنی تجارت کے لیے سمندر کا لمبا رستہ بھی استعمال کرنا پڑنا تھا اور اس کے لیے امریکہ کا بھی کسی حد تک محتاج رہنا پڑتا ہے، ساؤتھ چائنہ سی روٹ پر امریکہ، جاپان، چین سمیت دیگر ممالک اپنا حق جتاتے ہیں جو کہ الگ سے ایک لمبا موضوع ہے، جبکہ صرف سی پیک ہے ذریعہ چین کا تجارتی رستہ 60-70 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، رستہ کم ہونے کی صورت میں لاگت بھی کم ہوگی اور یوں چین جو کہ پہلے ہی دنیا سے آدھی قیمت میں مصنوعات بیچنے کے معاملہ میں مشہور ہے اسکی مصنوعات ناصرف مزید سستی ہونگی بلکہ انکی پہنچ باقی ماندہ دنیا تک بھی ممکن ہو جائے گی،
یہی افغانستان کی سرزمین پر سے جب ون بیلٹ ون روٹ گزرے گا تو روس و دیگر ملحقہ ریاستوں کو گوادر تک یعنی دنیا کے سب سے بڑے ڈیپ سی پورٹ اور گرم پانیوں تک رسائی حاصل ہوگی، اور یہی رسائی دیگر ممالک کو بھی حاصل ہوگی، یوں افغانستان میں استحکام ان ممالک کی اولین ترجیح ہے
پھر ایران کی بابت بات کریں تو ایران جو کہ ایک شیعہ ریاست ہے اور طالبان جن میں اکثریت دیوبندی یا وہابی ہیں، یوں تو ان دونوں مسالک میں زرا نہیں بنتی لیکن ٹریڈ کے حوالے سے ایران کو پابندیوں کے باوجود مفاد نظر آ رہے ہیں، سو ایران بھی افغانستان حکومت کا مکمل ساتھ دے گا
جبکہ پاکستان کو افغانستان میں استحکام کی صورت میں نا صرف اپنے دو بارڈر یعنی ایران و افغانستان بارڈر محفوظ ملینگے بلکہ سی پیک کی کامیابی پاکستان کے لیے اہم معاشی اور سٹریٹیجک ایڈوانٹیج ثابت ہوگی اور پھر پاکستان کو صرف ایک بارڈر پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی
ترکی کی بابت بات کریں، تو ترکی کا مقصد افغانستان میں پاؤں جمانا ہے، جس سے ترکی کو روس سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک، سی پیک اور پاکستان تک آسان رسائی بھی میسر ہوگی بلکہ ترکی کا نئے بننے والے ایشیائی بلاک میں کردار بھی مضبوط ہوگا
معدنی ذخائر
افغانستان جو کہ معدنی لحاظ سے انتہائی مالامال ہے اور سونے پہ سہاگا یہ کہ ان معدنی وسائل کو ابھی تک استعمال میں بھی نہیں لایا جا سکتا، یا کم از کم اسطرح سے نہیں جس طرح سے باقی ممالک اپنے وسائل استعمال میں لاتے ہیں، اس بابت چین، ترکی اور پاکستان کو اہم ذمہ داریاں ملیں گی، پاکستان کا چونکہ اس بابت تجربہ اتنا زیادہ نہیں لہٰذا یہ اہم ترین کام ترکی اور چین کے ذمہ ہوگا، جبکہ اس سے فائدہ پاکستان بھی اٹھائے گا،
انفراسٹرکچر کی تعمیر ترکی و چین اور ٹریڈ روٹس کی تعمیر چین کو ملے گی، پاکستان سے سکیورٹی کے شعبے میں بہرحال کسی نہ کسی سطح پر ضرور تعاون لیا جائے گا اور امید یہی ہے کہ وہ تعاون سرعام ہوگا، یا پھر انٹیلیجنس کی صورت میں خفیہ تعاون بھی ہو سکتا ہے، نامساعد حالات میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کرکٹ ٹیم بنا کر دی تو افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں ایک قابل فوج بنا کر دینا کچھ بعید نہیں
پاکستان طالبان کی مدد سے افغانستان میں موجودی اینٹی پاکستان عناصر کے خلاف کارروائی تیز کرے گا، اور افغانستان میں پرو پاکستان عناصر و جذبات پروان چڑھائے جائیں گے، اس کا پہلا ثبوت ذبیح اللہ مجاہد کا اے آر وائی کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان کو دوسرا گھر کہنا بھی ہے
خیر آگے چلتے ہیں، تو اوپر دی گئی باتوں سے پہلے کچھ اہم. معاملات جن میں وادی پنجشیر، طالبان حکومت کا کنٹرول، و طرز حکومت سمیت حکومت کیسے چلے گی جیسے کئی امور زیر بحث لانا باقی ہیں
افغان حکومت کے پاس فی الوقت زرمبادلہ کے کتنے ذخائر ہیں یہ کوئی بھی درست طور پر نہیں جانتا، تاہم اچانک کابل فتح کرنے پر انہیں کئی ذخیرہ شدہ ڈالرز کے انبار ملے ہیں، دیگر یہ کہ طالبان کے ماضی قریب میں افغانستان کے غریب علاقوں پر قبضہ کے دوران محصولات، غنی حکومت کے امیر علاقوں سے جمع کیئے گئے محصولات سے زیادہ تھے، تو اب امیر علاقے بھی طالبان کے کنٹرول میں ہونے کے بعد بلاشبہ محصولات میں اضافہ ہوگا، چار کروڑ آبادی کے اس غریب ملک کو Survive کرنے کے لیے کم از کم چار ارب ڈالر سالانہ درکار ہونگے، جس میں زیادہ قیاس یہ کیا جا رہا ہے کہ طالبان حکومت کی امداد بحال کر دی جائے گی جو کہ فی الوقت افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں کے ہمراہ فریز کر دی گئی ہے، امریکہ بہرحال طالبان حکومت کو تسلیم کرے گا کیونکہ کسی نا کسی صورت امریکہ اس خطہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے تکہ چین و روس پر نظر رکھ سکے، اہم تجارتی رستہ ہونے کے باعث اور طالبان کا داعش کے خلاف ایک مضبوط موقف اور لڑنے کا ارادہ ہونے کے باعث بھی دیگر مغربی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہونگے اور اس بابت حالیہ G7 کے اجلاس سے بھی کئی اشارے ملتے ہیں، پھر برطانیہ کے وزیراعظم اور جرمنی کی چانسلر کے بیانات بھی آن ریکارڈ ہیں
طالبان حکومت کے ساتھ ہی پنجشیر مزاحمتی فرنٹ کھڑا ہو گیا، جسے سوا بھارت کے کوئی مغربی حکومت بشمول امریکہ واضع سپورٹ دینے سے انکاری ہے، اور یوں بھی سابقہ شمالی اتحاد کے زیادہ تر دھڑے طالبان کے ساتھ الحاق کر چکے ہیں تو پنجشیر میں موجود امراللہ صالح فرنٹ کو اکیلے پن کا سامنا ہے، اور اس لڑائی کا اختتام طالبان کے حق میں ہونا ناگزیر ہے پھر چاہے وہ مذاکرات سے ہو یا جنگ کے نتیجہ میں، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایسا مذاکرات کے ذریعے ہی ہوگا، طالبان جو کہ پہلے دن سے مخلوط حکومت کی بات کر رہے ہیں، اس صورت میں پنجشیر فرنٹ کو بھی حکومت میں شامل کیا جا سکتا ہے

مزید کے لیے حصہ دوم کا انتظار کیجئے

تحریر: ملک محمد اسد
Twitter | @Asadyaat

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں