2

قائد اعظم یونیورسٹی کے باہر منشیات فروخت ہونے لگیں: وائس چانسلرڈاکٹر محمد علی.

اسلام آباد: قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے انکشاف کیا ہے کہ منشیات یونیورسٹی کے باہر کچھ کیوسک(kiosks) میں فروخت کی جاتی ہیں اور ان کیوسکوں کے مالکان منشیات کی اس ڈیلنگ میں ملوث ہیں۔

یہ انکشاف بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔

ڈاکٹر علی عباس نے اجلاس کو بتایا کہ یونیورسٹی کی ملکیت 700 ایکڑ رقبے پر ہے اور اس میں سے زمین کے ایک حصے پر غیر قانونی طور پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے ۔

اس پر وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول اعزاز شاہ نے کہا کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کے لیے کوئی سرکاری بحالی مرکز (Rehabilitation Center) بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بحالی مرکز (Rehabilitation Center) کی تعمیر کے لیے تین ماہ کی مدت مانگی تھی لیکن ایک بھی بحالی مرکز(Rehabilitation Center) قائم نہیں کیا جا سکا۔

اعجاز شاہ نے کہا ، “جس ملک میں گندم ، چینی اور دال کی کمی ہو وہاں منشیات کے کنٹرول کو ترجیح کیسے ملے گی”

میٹنگ کے دوران اعجاز شاہ نے کہا کہ نئے قانون میں بھنگ اور چرس کے استعمال اور ڈیلنگ میں ملوث ہونے کی سزائیں بڑھا دی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں