siasidugout 115

کراچی جلسہ اور شریفوں کی اداکاریاں

کافی سنجیدہ موضوعات پر لکھتے لکھتے آج دل کیا کہ اپنی پرانی روش اپناؤں اور کچھ چلبلی سی تحریر آپکو پیش کروں، لوگ مزاح کے لیے شاید سٹیج ڈرامہ یا کامیڈی سکیچ دیکھتے ہوں لیکن میرے نزدیک پاکستان کی خاندانی سیاسی پارٹیاں جوکرز سے کم نہیں، جتنا ڈارک ہیومر یا سیاہ مزاح اور ٹریجک کامیڈی یہ پیش کرتی ہیں اتنا تو شاہد شیکسپیئر بھی پیش نہ کر سکا ہو
چلیں اس سے پہلے ایک کہانی سن لیں، ارے سن لیں مزیدار ہے
ایک دفعہ کسی گاؤں میں فوتگی ہو گئی، گاؤں کا ماحول تھا تو سب گاؤں والے اکٹھے ہو گئے، وہیں سے پاس کے گاؤں کا ساجھا مراثی بھی گزر رہا تھا، ساجھے نے بندوں کا اکٹھ دیکھا تو کسی سے دریافت کیا کہ کیا چکر ہے، معلوم پڑا کہ گاما پہلوان فوت ہو گیا ہے، اسکا تَڈا(فوتگی کا اجتماع) ہے، ساجھے بھی اجتماع میں چل پڑا کہ چلو اور نہیں تو آج مُفت کا کھانا ہی مل جائے گا، فوتگی پہ بیٹھے لوگ مرحوم کے بارے باتیں کر رہے تھے کچھ کلام پاک پڑھنے میں مصروف تھے اور خاندان کے کچھ بچے اداس و پریشان بیٹھے تھے کہ ان کا دادا فوت ہو گیا تھا، بس پھر کیا تھا ساجھے نے جاتے ہی وہ رونا دھونا شروع کیا کہ لواحقین خود حیران رہ گئے، بھلا یہ کون شخص ہے جو ہم سے بھی زیادہ رو رہا ہے، لواحقین میں سے ایک نے بڑھ کر پوچھا، آپ اس گاؤں کے تو نہیں ہیں، پہلے آپ کو دیکھا نہیں
ساجھے نے جواب دیا، جی نہیں اور پھر زار و قطار رونا جاری رکھا
پھر سوال ہوا، پھر کہیں آپ داداد جی کے سسرال میں سے تو نہیں؟
جواب ملا جی نہیں
مکرر سوال ہوا، پھر آپ دادا جی کے شاگردوں میں سے ہونگے؟
ساجھے نے جواب دیا، جی نہیں میں ساتھ والے گاؤں کا ساجھا مراثی ہوں
تو سوال کرنے والے نے پوچھا، بھئی پھر تم اتنا رو کیوں رہے ہو؟ دادا جی سے کیا تعلق تھا؟
ساجھے نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا
مینوں میرا اپنا دادا یاد آ گیا سی(مجھے میرا اپنا دادا یاد آ گیا تھا)
….
آج کے دن ہی خبر سنی کہ شہباز شریف صاحب کراچی کی حالت زار بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے، پہلے تو کافی ہنسی آئی، پھر سوچا ارے یہ کیوں رونے لگ گئے؟ انکی تو اتنے عرصہ ملک پر حکومت رہی ہے، پنجاب پر تو پھر انکی بادشاہت رہی، خیر ملک کو بھی ابا جی کی جاگیر سمجھ کر ہی لوٹا کھسوٹا، لیکن اب کہاں سے اتنا درد اٹھ پڑا کراچی کا؟
پھر جواب خود سے مل گیا، کہ اداکاریاں، اس خاندان پر اداکاریاں ختم ہیں، جیسے بالی وڈ کے کئی اداکار گھرانے مشہور ہیں مثلاً، کپور خاندان، خان برادرز، بچن خاندان وغیرہ وغیرہ، پاکستان میں اگر اداکاری کا ایوارڈ کسی ایک خاندان کو Impartial ہو کر دیا جائے تو بلا شبہ شریف خاندان نمبر ایک ہوگا، کبھی حکومت میں رہتے ہوئے اداکاری تو کبھی حکومت سے نکل کر، کبھی ملک آنے کے لیے اداکاری تو کبھی ملک سے بھاگنے کے لیے، اپنوں کی موت پر بھی اداکاری، غیروں کے مصائب پر بھی اداکاری، خوشیوں پر بھی اداکاری، غموں پر بھی اداکاری، غرضیکہ اس خاندان نے اداکاری کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا، خود کو مظلوم دکھانا تو کوئی ان سے سیکھے، سیکھے، ارے سیکھے نا )تھری ایڈیٹس کا چَتُر یاد آ گیا). خیر اداکاری تو کی، پر روئے کیوں؟ ابھی بھی جواب نامکمل تھا، تو اوپر جو کہانی بیان کی دوبارہ پڑھ لیجیے گا، مزہ بھی دوبارہ آئے گا اور سارا معاملہ بھی سمجھ آ جائے گا
یہاں کسی کو کسی کا درد نہیں، ہر کوئی اپنے دادے کو روتا ہے، آج کراچی کی حکومت ن لیگ کو مل جائے، زرا برابر بہتری نہ ہوگی، ہاں یہ ہے کہ انتظامی معاملات میں شہباز شریف پیپلز پارٹی سے ہزار درجہ بہتر ہیں لیکن اتنا پھر بھی قیامت کے چوتھے دن تک نہیں کریں گے جتنی یہ شیخیاں بگھارتے ہیں.

تحریر: ملک محمد اسد
Follow on Twitter | @Asadyaat

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں