siasidugout 186

داماد کا بیٹیوں کے والدین کے ساتھ سلوک

داماد
اوروہ کہتی “مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ میری دادی میری گڑیوں کی وجہ سے میری ماں کو کیوں ڈانٹتی رہتی تھی،ہر وقت میری گڑیا کو اٹھا کر پھینکتی اور کہتی، چولہے میں کیوں نہیں ڈال دیتی ان گڑیاؤں کو، ان کی وجہ سے میرا ہوتا نہیں آ پاتا” اور جب بھی وہ اپنی گڑیا کے چھوٹے چھوٹے کپڑے سوئی سے سلائی کرنے لگتی تو بھی دادی بڑبڑانا شروع ہو جاتیں کہ ہر وقت جس جگہ لڑکیوں والے رنگ برنگے کپڑے بکھرے ہوںگے، وہاں اللہ کی طرف سے خیر کیسے ہو گی۔ اسے یہ سب الفاظ اپنے وجود کی نفی کرتے محسوس ہوتے، اسے لگنے لگتا کہ یہ نفرت گڑیوں سے نہیں اس کے وجود سے کی جارہی ہو۔ اسی محبت اور نفرت کے ادھیڑ بن میں چلتے چلتے ایک دن دادی کی طبیعت بہت خراب ہوئی، جب وہ دادی کو پانی پلانے گئی تو پہلی بار دادی نے سر پر ہاتھ پھیرا، آنکھوں میں آنسو آئے اور بولی، ہائے میرا بیٹا ساری عمر داماد کے بوجھ تلے لدا رہے گا۔ میری بیٹی باپ کا خیال رکھنا، اپنے گھر کی بات اپنے باپ کے سامنے کرے گی تو وہ تیری خوشی کے لئے سب کرے گا تو، لیکن باپ کو کسی مشکل میں مت ڈالنا۔ چھوٹی سی عمر کی ثانیہ کو یہ سب سمجھ نہیں آیا لیکن جب شادی کے بعد پہلے دن واپساپنے باپ کے گھر گئی تو دادی کی کہی ہر بات اس کے ذہن کی سلیٹ پر صاف عیاں ہو گئی۔
نکاح کی رات ہی داماد صاحب نے واشگاف کہہ دیا تھا کہ یہ نا ہو کہ میں تیرے گھر جاؤں اور تیرے ماں باپ میرے آگے پیچھے نا پھریں ایسا کچھ ہوا تو نا میں کبھی اس گھر جاؤں گا،نا تجھے جانے دوں گا۔ اور اسے یوں لگا جیسے بابا نے اس کے چہرے پر لکھی تحریر پڑھ لی ہو، بابا اماں اور سب بہن بھائی سارا وقت نئے نویلے داماد کی خدمت میں بچھے جارہے تھے۔ اور وہ گم صم تھی، کہ یہ تھی وہ وجہ جس سے دادی جان چڑتی تھیں۔
دادی کو گڑیوں سے یا بیٹیوں سے نفرت نہیں تھی، اس تضحیک کاخوف تھا جو بزرگ ہونے کے باوجود صرف بیٹی کے ماں باپ ہو کر والدین کو سہنی پڑتی۔
ہر بار جب ثانیہ کو گھر آنا ہوتا تو لازم ماں کو پہلے بتانا پڑتا کہ لازم بکرے کا گوشت پکا ہو،چارپائی پر نئی چادر بچھی ہو اور میاں صاحب کے آرام کا ہر خیال رکھا جائے، بوڑھا باپ جیسے جیسے بیٹیاں بیاہتا گیا، اسے بیٹے نا مل پائے،ملے تو صرف داماد، کہ جن کے ناز نخرے اٹھانے میں کوئی کمی رہ جاتی تو واپس جا کر بیٹی کو باتیں سننا پڑتیں۔
اور وہ کبھی نا سمجھ پائی کہ وہ جس گھر میں بیاہ کر آئی وہاں تو دال سبزی بھی کھائے گی،سارا گھر بھی سنبھالے گی، بیٹیوں کی طرح سب کے دکھ سکھ بھی نبھائے گی، اور ساس سسر کی خدمت بھی
لیکن داماد اس کے باپ کے گھر میں جا کر بیٹا بن کر یہ نہیں کہے گا کہ بابا آپ بیٹھیں میں بازار سے سودا لاتا ہوں۔
کہاں غلطی رہی؟
ہم بیٹوں کو کیوں یہ سکھاتے رہے کہ بیٹی کا باپ بھی اتناہی قابل احترام وعزت ہے جتنا بیٹے کا باپ۔
اگر یہ خوبصورت رشتے مکمل محبت سے نبھائے جاتے تو کسی بزرگ کی کمر نا جھکتی بیٹیوں کے بوجھ سے۔
کوئی دادی اٹھا کر گڑیا اور اس کے کپڑے کوڑے دان کی نظر نا کرتی۔
بیٹیوں کے لئے کبھی مشکل نا ہوتا شوہر کے گھر کو اپنا لینا اگر ہر پلک ھی اپنی کبھی اپنے والدین کی عزت پاؤں میں پڑی نظر ناآتی۔
بیٹیاں یوں محبت و نفرت کی کنفیوژن کے درمیان نا پلتیں، مکمل اعتماد سے اپنے گھر کے سپنے دیکھتیں،کہ اس گھر میں بیٹی بن کر جا رہی تو اس گھر کا بیٹا بھی میرے والدین کے گھر بیٹا ہی بن کر آئے گا، صرف داماد بن کر نہیں۔
اور افسوس کامقام۔یہ ہے کہ عورت ہی یہ تربیت کر رہی ہوتی کہ بلی کو پہلے ہی دن لت ماردینا اگر سسرال میں عزت چاہئے تو، ورنہ وہ تجھے جوتے کی نوک پر رکھیں گے۔
ہمارا اسلامی معاشرہ نفرت کی بنیاد پر نہیں بنا تھا، معاشرے کی بنیاد خالص محبت اور باہنی عزت واحترام پر ہی استوار کرنا،امر ضروری ہے۔
پھر چاہے وہ بہو ہو یا داماد۔ ہر رشتہ محبت میں گندھ کرخاص ہوجاتا۔
خدارا اتنے خوبصورت رشتوں کو انا کی بھینٹ چڑھانا بند کریں تاکہ ہمارے معاشرے میں پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرزبیٹی کو زندہ درگور کرنے کی رسم نا چل پڑے۔
بیٹی کا باپ ہونا کوئی گناہ نہیں ہے، میرے نبی کی سنت ہے، اور دو بیٹیوں کی یوں پرورش کرنے والا باپ کہ بیٹیاں اسلامی شعار کا گہوارہ ہوں تو جنت کی بشارت ہے، بیٹیوں کے مان باپ بھی اتنی ہی عزت کے مستحق ہیں جتنا کہ بیٹے کے والدین۔
اللہ ہمیں اسلامی شعائر پر صحیح معنوں میں عمل کرنے والابنائے۔ آمین۔

تحریر: ہمیرہ الیاس

Follow on Twitter: @humma_g

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

داماد کا بیٹیوں کے والدین کے ساتھ سلوک“ ایک تبصرہ

  1. بہت خوبصورت 🌹🌹🌹
    ہر کھر کی کہانی ھے میرا اپنا تجربہ ھے کہ داماد اور بہو
    یہ سودا نصیبوں کا ھے ۔ دیکھنے میں تو نہیں آیا لیکن سننے میں آتا ھے فلان کی بہو بہت اچھی ھے ۔ لیکن اچھی اور بری کی عادات ہوتی کیا ہیں۔ ہم شریعت سے دور ہیں ۔ ورنہ داماد کا سالیوں کے سامنے اور دیور کا بھابیوں کے سامنے آنا منع کیا گیا ھے ۔
    لیکن ہم ہر حد سے آذاد ہیں اس لیے یہ مسائل آتے ہیں اور آتے تھیں گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں