8

خدا اور انسان

سورۃ الانفطار آیت نمبر 6
ترجمہ
اے انسان کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا؟؟

رب کو معلوم ہے ہر شخص کی نیت”
لوگ کتنا ہی تماشہ عبادت کر لیں”

احسان فراموش جاہل انسان کسے دھوکہ دے رہا ہے؟؟
اللہ کو؟؟ لوگوں کو؟؟ یا اپنے آپ کو؟؟

درحقیقت ہر انسان اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے ہر انسان کا ضمیر اس کے کردار کا سب سے بڑا گواہ ہے انسان سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بنا پھرتا ہے
جب کبھی زلزلہ طوفان آندھی یا کوئی قدرتی آفت آئے تو لوگ خدا کو پکار اٹھتے ہیں اور جیسے ہی خدا ایسی آفتوں کو لوگوں پر سے ہٹا لے تو لوگ اسی وقت سر کشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں
لوگ اللہ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اللہ کو برا بھلا کہتے ہیں اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں لیکن ان سب نافرمانیوں کے باوجود بھی اللہ رب العالمین کا ظرف دیکھیے کہ اس نے ہر انسان کا عیب چھپا رکھا ہے
لیکن انسان کی اوقات ملاحظہ کیجئے
انسان اس قدر جاہل واقع ہوا ہے کہ جب اسے طاقت مل جائے تو وہ سرکش ہو جاتا ہے جب اسے عزت مل جائے تو اپنی اوقات بھول جاتا ہے اور جب کسی انسان کا عیب معلوم ہو جائے تو وہ اسے پھیلانے لگ جاتا ہے
جتنے بھی لوگ میرا یہ کالم پڑھ رہے ہیں کیا وہ خدا کو گواہ بنا کر یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ وہ معصوم الخطا ہیں پارسائی کا پیکر ہیں؟؟
ہرگز نہیں کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے ہر انسان غلطیوں اور گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور گناہ بانجھ نہیں ہوتے بچے دیتے رہتے ہیں لیکن کامیاب انسان وہ ہے جو گناہوں کے ارتکاب کے بعد خدا سے معافی مانگ کر اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہونے کے بعد اپنا کردار صاف کر لے

بالکل اسی طرح جیسے کیچڑ میں گر جانے کے بعد انسان اپنا لباس صاف کر لیتا ہے
زبیر عمر کی ویڈیو دیکھ کر مجھے دلی افسوس ہوا اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس مجھے ان لوگوں پر ہوا جو اس ویڈیو کو ثواب سمجھ کر ملک کے کونے کونے میں پھیلا رہے ہیں جشن مناتے ہوئے اس کو ایک سے بڑھ کر ایک برے القابات سے نواز رہے ہیں
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تنہائی کے عالم میں تم سب کے سب زبیر عمر ہو تم سب یہی حرکتیں کرتے ہو اور جو لوگ تم پر بطور حکمران مسلط ہیں وہ بھی اس غلاظت اور گندگی سے محفوظ نہیں عالم جنرل جج سیاست دان صحافی تجزیہ نگار ڈاکٹر انجینئر وکیل تاجر دکاندار استاد سٹوڈنٹ وہ کون سا ایسا طبقہ یا انسان ہے جو اس گندگی سے محفوظ ہے؟؟
ان سوالوں کا جواب آپ مجھے نہ دیں بلکہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور شکر ادا کریں اس خدائے بزرگ و برتر کا جس نے تمہاری بدترین منافقت اور بدکرداریوں سے لتھڑے ہوئے کردار کے باوجود تمہارے عیبوں پر پردہ ڈال رکھا ہے
جب اللہ انسانوں کا رب ہونے کے باوجود میرے اور تمہارے گناہوں پر پردہ ڈال کر ان عیبوں کو چھپا سکتا ہے تو پھر تم اللہ کے نائب ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے عیبوں کو کیوں پھیلاتے ہو کیوں ہر وقت ایک دوسرے کے عیبوں کو ٹٹولنے میں لگے رہتے ہو؟؟

اللہ کا فرمان تو یہ ہے کہ
اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے گا تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس انسان کی ستر پوشی کرے گا
اللہ تعالی ہرگز بھی پسند نہیں کرتا کہ فحاشی اور بے حیائی کی چیزیں معاشرے میں پھیلائی جائیں
اگر کسی کا عیب تمہیں معلوم ہو جائے تو اسے اپنے پاس رکھو کیا ضرورت ہے ڈھنڈورا  پیٹنے اور لوگوں کو دکھانے کی البتہ غلطی کا ارتکاب کرنے والے کو یہ حوصلہ ضرور دینا چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں پر اللہ سے معافی مانگ کر راہ راست پر آجائے اللہ پھر بھی تمہیں معاف کر دے گا !!!!

تحریر: تیمور خان
Twitter: @iTaimurOfficial

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں