siasidugout 35

قبضہ مافیا کا راج

اپنے عوام کی جان ومال کی حفاظت کرنا ; انہیں معاشرے کے جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم کرنا اور قانون کی بالادستی یقینی بنانا کسی بھی حکومت کی اولین زمہ داری ہوتی ہے ریاست کا وجود ہی اس نظرے پر قائم ہوتا ہے کہ وہ اپنے باشندوں کو اندرونی بیرونی حملہ آوروں لٹیروں اور سماج دشمن عناصر سے نجات دلاے ۔ قرآن پاک میں سورہ قریش میں وضاحت سے معاشرے میں وقوع پزیر ہونے والے دو سب سے بڑے جرائم اور دو سب سے بڑے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ترجمہ۔ اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھوک اور کھانا اور خوف میں امن دیا۔ گویا۔بھوک اور خوف دو سب سے بڑی سزائیں ہیں جبکہ امن اور معاشی خوشحالی دنیا میں سب سے بڑے انعامات ہیں لیکن اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں جس طرح قانون اور انصاف کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور لاقانونیت کو قانون بنادیا گیاہے ۔
اس سے پورا معاشرہ خوف اور جرائم کا معاشرہ بن گیا ہے جرائم پیشہ افراد عوام کو دن دہاڑے انکی جان و مال سے محروم کر دیتے ہیں اور قانون کے محافظ نہ صرف اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں بلکہ لٹے ہوئے عوام کو دردر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں لکھاری معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتے ہیں جو مظلوموں کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا فریضہ اداکرتے ہیں تاکہ معاشرے سے نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ کیا جائے لیکن جب ایسے افراد بھی نوسرباز اور جرائم پیشہ افراد کے فراڈ کا شکار ہو کراپناسب کچھ لٹا بیٹھتے ہیں تو پھر یقیناً معاشرہ جرائم کی ایک ایسی بند گلی میں محصور ہو جاتاہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں نکتا ۔اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی اور متعلقہ اداروں کی طرف سے ملزموں کے خلاف بر وقت کاروائی نا کی گئی تو کوئی بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے پاکستان کے پر امن اور قانون کا احترام کرنے والے شہری ہونے کی حیثیت سے ہم حکومت وقت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ قبضہ مافیا گروپ سے وابستہ سماج دشمن عناصر کے خلاف کڑی سے کڑی کاروائی کرے گی۔

از کالم غلام رسول

Twitter: @pak4army

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں