siasidugout 126

وردی والے

جیسا کہ ہم سب با خوبی جانتے ہیں ارض پاک کی ابتداء
ہی شہادتوں سے ہوئی ہے پھر وہ 23 مارچ قرارداد پاکستان سے پہلے مسمانوں کی شہادتیں ہوں یا 1947 کی تقسیم ہند کی شہادتیں ہوں شہادتوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور مورخ نے لکھا ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی داستانیں جن سے واضع ہوتا ہے کہ وہ اقوام ہمیشہ سرسبز و شاداب اور ترقی کی جانب گامزن رہتی ہیں جو اپنے شہداء اور اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں
کبھی سوچا ہے کہ
جب ہم اپنے گھروں میں پر سکون زندگی گزار رہے ہوتے خوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں
کہیں شادی کہیں مہندی تو کسی سکول کالج، یونیورسٹی
میں بچوں کے لئے چھوٹی چھوٹی خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں
کہیں ڈھول کی تھاپ پر زندگی رقص کرتی ہے کہیں ننھے بچوں کی پیدائش پر پورے گاؤں میں مٹھائیاں بانٹتے ہیں کہیں نوکری ملنے کی خوشی میں مائیں اولاد کی بلائیں لیتی ہیں تو کہیں بہن بھائیوں کی کامیابی پر خوشی سے نہال ہوتی ہے
تو وہیں کہیں ہم میں سے کئی گم نام بیٹوں کی عظیم
مائیں سجدوں میں اپنے لخت جگر کی سلامتی مانگ رہی
ہوتی ہیں جن کی بدولت ہمیں با حیثیت آزاد قوم یہ ساری
نعمتیں میسر ہیں مائیں اپنے بیٹیوں کے ماتھے پر بوسہ شفقت دے کر اور باپ بیٹے کے کندھے پر تھپکی دے کر رخصت کرتے ہیں اور وہی ہنستا مسکراتا بیٹا سبز ہلالی پرچم میں لپٹا چار دوستوں کے کندھوں پر گھر لوٹ کر آتا ہے تو کبھی سوچا اس ماں کا دل کیسے ٹھہرا ہو گا کبھی خیال آیا اس بزرگ باپ کے کندھوں نے وہ صدمہ کیسے اٹھایا ہو گا
خاکی وردی کا شوق تو سب کو ہوتا کبھی ان خاکی وردی والوں کے غم دیکھنے کی کوشش کی ہے بھری جوانی میں والدین کو تنہا چھوڑ جانے کا ظرف ہنستی مسکراتی اولاد سے جدائی کا صبر دہلیز پر نظریں جمائے بیوی کو بیوہ کر جانے کا فیصلہ یہ سب باتیں کوئی معمولی تو نہیں ہیں اور نہ یہ کسی
Fantasy World
کی کوئی افسانوی کہانیاں نہیں یہ ہمارے وطن پر قربان ہونے والے عظیم شہداء کے گھروں کی حقیقت ہے ایسے حوصلے میرے وطن کی ماؤں کے ہی ہیں جو ہر روز اس مٹی کو اپنے بیٹوں کے لہو سے سیراب کر رہی ہیں
کہیں تپتی کڑکتی دوپہروں میں جلتے بدن کے ساتھ تو کبھی رگوں میں خون کو جما دینے والی ٹھنڈ میں سردی سے ماوراء ہو کر کہیں بارشوں میں بھگتے وطن کے لوگوں کے لیے خود کو تھکاتے ہوئے تو کہیں سنگلاخ پہاڑوں کے سینے کو چیر کر ہمیں محفوظ رکھتے ہوئے تو کسی ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لئے چوکس اور ہر دم تیار اور ایسی کتنی ہی ان گنت قربانیوں کے مقروض کر جاتے ہیں ہمیں میری مٹی کے عظیم بیٹے
میری
رب کریم سے التجاء ہے اے میرے پرودگار ہر ماں کی گود آباد
رکھ ہر باپ کا بازو مضبوط رکھ ہر دلہن کا سہاگ سلامت
رکھ ہر بہن کا آنچل محفوظ رکھ اور ہر بھائی کی طاقت قائم رکھے
آمین یارب العالمین

تحریر ؛ ارم چوہدری

آپ ارم چوھدری کو ٹویٹر پر @IrumWarraich4 بھی فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں