tv-entertainment-and-ethics 3

‏ٹی وی انٹرٹینمنٹ یا اخلاقیات کا جنازہ

ہمارے بچپن میں پی ٹی وی کو درس و تدریس کے طور پر لیا جاتا تھا سلائی کڑھائی کا پروگرام ہو یا کوکب خواجہ، زبیدہ آپا کا کچن سیگمنٹ شام کو پنجابی زبان میں کسان پروگرام یا ماں اور بچے کی نگہداشت کارنر ڈاکٹر یاسمین راشد
کے ساتھ اور یہ کوئی صدیوں پرانی بات نہیں محض چند برس قبل کی بات ہے جب عورت کے سر پر دوپٹہ خاندانی ہونے کی دلیل سمجھا جاتا تھا جب خبریں پڑھنے والی عشرت ثاقب بھی ٹی وی پر خبر نامے کے ساتھ آتی تو گھر کے مرد عزت سے کہتے جیوندی رہ پُتر اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دور بدلا ٹی وی پرگرامز کا طرز انداز بدل گیا سر سے دوپٹہ اترا تو پینٹ کے ساتھ شارٹس کا رواج چلا اسلامی و اصلاحی پروگرامز کی جگہ بے ہنگم تماشوں نے لے لی آزادی نسواں کے نام پر بڑے عمدہ طریقے سے عورت کی حرمت کو بے آبرو کیا جانے لگا ہر ٹی وی اخبار اشتہارات چاہے وہ سگریٹ کے ہوں یا کسی چائے بسکٹ کے ساتھ ٹائیرز کی تشہیر عورت کو نمائش بنانے والے لبرلز کو آزادی کا کارڈ مل گیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریت و رواج تہذیب و تمدن کو بہت خوب صورتی سے دھکیل کر پرانا زمانہ کہہ کر بے حیائی کو ترویج دی گئی
پی ٹی وی پر نئے لوگوں نے نئی بیہودہ تہذیب کو عام کیا اور پھر پی ٹی وی کو چھوڑ کر دوسرے پرائیویٹ چینلز کے پاس ساس بہو میں جھگڑا، لڑکیوں کےکالجز یونیورسٹیز کے نام پر افیئرز دیکھانا جادو ٹونے اور لا تعدادقسم کے واہیات کانٹینٹ موجود ہیں جس سے وہ اپنے ناظرین کو چوبیس گھنٹے گھر خراب کرنے کی تراکیب اور نکاح جیسے مقدس رشتے کو مشکل اور کسی لڑکی سے غیر اخلاقی تعلق رکھنے کو آسان بنانے میں مصروف رکھنے کے علاوہ کوئی قابل قدر معلومات فراہم نہیں کرتے اور پھر رونا رویا جاتا ہے زنا اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کا اور پھر اسی کو آڑ بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لبرل ازم کی بنیاد رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں
باقی سونے پر سہاگہ رہی سہی کسر پرائیویٹ چینلز کے ایوارڈ شوز نے پوری کر دی ہے جن میں آدھ ننگے جسموں کے ساتھ تھرتھراتے نوجوان لڑکے لڑکیاں الگ ہی طرح کا منظر پیش کر رہی ہیں جسے دیکھ کر با حثیت عورت میری آنکھیں جھک جاتی ہیں اور پھر بار باریہ خیال اور سوچ پریشان کرتی ہے ایسے شوز مرتب کرنے والوں کے پاس کیا ضمیر و حیا نہیں ہے جو اس قدر اخلاقیات سے گر گئے ہیں کہ اپنی معاشرتی اقدار کو بلکل فراموش کر کے اغیار کے طرز زندگی کو ہمارے بچوں کے معصوم ذہنوں میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں
میں بھی مانتی ہوں ہمارے معاشرے میں بے حد برائیاں پھیل چکی ہیں اور بہت سارا بدلاؤ ایسا بھی ہو رہا جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیاتھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہورہاہے ۔کیوں کہ ہم ٹی وی اور سوشل میڈیا کا صحیح سے استعمال نہیں جانتے ۔اگر ہم دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق اس کا صحیح استعمال جان لیں تو اس سے نئے بدلاؤ سے کئی فائدے ہوسکتے ہیں
جس طرح کے ٹی وی شوز انٹریمنٹ کے نام پر دکھائے جا رہے ہیں معزرت کے ساتھ لکھ رہی ہوں
ایسے جگہوں کو ہمارے ہاں طوائف کا کوٹھا کہا جاتا تھا جو اب ہر گھر ہر وقت دستیاب ہے
ننگے وجود ہاتھ میں ایوارڈ اور آنکھوں میں بے حیائی کو کیش کرنے کی خوشی کسی بھی طرح سے ایک اسلامی ملک کی تصویر کشی نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران اتنے ہی کمزور ہیں جو ایسے چند لوگوں کو اتنی چھوٹ مل گئی ہے کہ جیسے چاہیں اسلامی ریاست کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور ہمارا پیمرا وہ بھی لگتا کسی یورپی ملک کے قوانین کی پیروی کر رہا جس کی سنسرشپ میں مرد اور عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے وہ گلے میں بانہیں ڈال کر گھومیں یا بیڈ روم کا منظر نامہ پیش کریں کوئی اخلاق اور حیا نام کی چیز باقی نہیں رہی تو ہم اپنی آج کی نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کو انٹرٹیمنٹ کے نام پر یہ زہر دے رہے ہیں ؟
کیا یہ ہمارے معاشرے کی اصلاح و تعمیر کریں گے ؟ تو پھر پیمرا ڈمی کو بھی ختم کر کے مکمل بے حیائی کا سرٹیفیکٹ عام کر دیں جہاں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جائے اور پوچھنے بولنے والا کوئی ناں ہو اور یہ سب سرا سر تباہی کا باعث ہے اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے بھی ہمارے معاشرے کی موت ہے میرا جسم میری مرضی والوں کے اہم کارناموں میں سے خواتین کو
بے حیا بنانے اور اخلاق باختہ کرنے کے لیے عورت کو آزادی کارڈ دیا جا رہا اور آپ کو ہمارے ملک کے بے شمار ایسے نوجوان ملیں گے جو خود کو آزادی کی تصویر کہتے ہیں جن میں حیا نام کی کوئی چیز نہیں مذہب کی تعلیمات جب علماء اور دانشوروں کی بجائے ساحر لودھی، شائستہ واحدی اور عائشہ عمر اور ریما خان سے “رمضان ٹرانسمیشن” کروائیں گے عامر لیاقت اور فہد مصطفیٰ سے شرم و حیا کا جنازہ نکلوائیں گے تو کیسے ممکن ہے آپ کے گھر میں تہذیب باقی رہ جائے گی جب آپ کے معاشرے میں مولوی اور علماء کو مذاق اور گالی بنا کر دین، اسلام کو کاروبار بنایا جا رہا ہے تو ایسے میں مجھے لگتا ہم قدرتی آفات و مصائب کے ہی مستحق ہیں۔

اخلاق سے ہو گئی عاری دنیا
سر تا بہ قدم ہے کاروباری دنیا
مہلک ہے بہت جوہر انساں کا زوال
کس جال میں پھنس گئی ہماری دنیا

تحریر: ارم چوہدری

آپ ارم چوہدری کو ٹویٹر پر بھی @IrumWarraich4 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں