siasidugout 198

آج کا نوجوان طبقہ

قوموں کا عروج و زوال انکی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ عزت و ذلت بھی خود آج کل کی نسل کے ہی ہاتھوں میں ہے تو غلط نہیں ہوگا تربیت و حیا سے ماوراء ایسا ہی ایک زوال پذیر واقع کُچھ دن پہلے 14 اگست یوم آزادی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موقع پر گریٹر اقبال پارک میں پیش آیا-
وہ اقبال پارک جہاں قرار داد پاکستان پیش ہوئی بلکہ منظور بھی ہوئی اسی گریٹر اقبال پارک میں ایک اوباش قماش لڑکی نے سستی شہرت کے لئے چند گمراہ نوجوانوں کے ساتھ مل کر جو کھیل رچایا اس نے پوری قوم کا سر جھکا دیا تو وہاں پر بھی کمی تربیت کی نظر آئی مرد اور عورت دونوں کو تربیت کی ضرورت ہے صرف مرد کو غلط کہنا اور عورت کو مبرا قرار دینا سرا سر غلط ہے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں رہن سہن کے طور طریقے معاشرتی لحاظ سے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ایسے کچھ قاعدے قوانین ہیں جن کی حدود و قیود میں رہنا ہم پر فرض ہے مگر ان اقدار و روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں اور کُچھ ملک دشمن قوتوں کو مزید ملک کے خلاف بولنے کا مواد مل گیا لبرل لوگوں نے لڑکی کی بھر پور حمایت کی اور مرنے مارنے تک آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہرت کی ہوس میں ڈوبی وہ لڑکی بھول گئی تھی کہ اس کے گھٹیا طرز عمل نے پاکستان کا سر شرم سے جھکا دیا اور آنے والے کئی سالوں میں ہم ساری دنیا کو وضاحتیں دیں گے کہ ہمارا ملک ہر لحاظ سے دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے تو جب نوجوان نسل تعلیم یافتہ تہذیب و تمدن سے گندھی ہوئی اپنی معاشرتی اور مذہبی، تعمیراتی سوچ کی حامل ہو تو ملک و قوم کے لئے ترقی کے سنہرے ادوار کھول دیتے ہیں
ہمارے ملک میں آج کا نوجوان دوہری شخصیت کا مالک ہے ایک طرف تو وہ اعلی تعلیم یافتہ ہے تخلیقی صلاحیتوں سے بھر پور ہر دم کُچھ کر گزرنے کا عزم لیے
اور دوسری طرف مذہب اور نظریات کی جنگ میں الجھا ہوا فرقہ وارانہ گروہوں میں بٹا ہوا
کبھی ٹک ٹاک پر بے ہودگی کر کے شہرت کا خواہشمند تو کبھی فضول اور اخلاقیات سے عاری ٹی وی شوز میں عجیب و غریب حرکات کرتے نظر آتے ہیں
آج کے نوجوان کے لئے سب کچھ دولت اور شہرت ہی ہے وہ اس کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے
آج سے دو تین دہائیاں پہلے مرد اور عورت دونوں کی یکساں تربیت کی جاتی تھی
عورت اگر سر ڈھانپ کر رکھتی تھی تو مرد کی نگاہ میں بھی حیا ہوتی تھی
کچھ عرصہ پہلے کے نوجوان مثبت سوچ و فکر رکھتے تھے ان کے پاس کرنے کے لئے مثبت کام اور تعمیراتی کام ہوتے تھے لیکن آج کے نوجوان جس کی ذہنی تربیت ناقص اور کمزور ہے
جسے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نعرہ لگانا تو آتا ہے مگر عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوش نہیں مارتا کہ وہ اپنی اصلاح کر سکے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے لیکن وہ فرقوں کی تقسیم میں اپنے ہی ملک کے لوگوں کی املاک جلانا اپنی ریاست کے خلاف جانا اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانا آج کے نوجوان کو نہ صرف ذہنی بلکہ دینی تربیت کی بھی شدید ضرورت ہے کسی بھی ملک کا پہہ نوجوانوں کے زور بازو پر چلتا اور اگر نوجوانوں کی نشوونما فکری، اخلاقی اور نظریاتی تعلیم و تربیت سے مربوط ہے
تو ایک مہذب معاشرے میں والدین اور اساتذہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت مکمل دیانتداری اور خلوص دل کے ساتھ کریں تو ہمارے معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اوع آنے والی نسلوں کے لئے بہترین راہ عمل تیار ہو سکتی ہے
تعلیمی، ثقافتی اور مذہبی طور پر مضبوط نوجوان ملک و قوم کی روشن تقدیر کے ضامن ہوتے ہیں
حکومتی سطح پر بھی پڑھے لکھے ہنر مند نوجوانوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں
ہر نوجوان اگر دفتر اور کاروبار کرے گا تو میرے ملک میں مزدور کہاں سے آئے گا ہنر مند کاری گر کہاں سے آئے گا تو ضرورت اس امر کی ہے نوجوانوں کیلئے نہ صرف وسائل کی فراہمی ممکن بنائی جائے بلکہ انکی ذہنی اور نفسیاتی تربیت بھی کی جائے حکومت کو چاہیے ایسے ادارے قائم کرے جہاں کم تعلیم یافتہ مگر ہنر مند افراد کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے تا کہ آج کا نوجوان نہ صرف ملک و قوم بلکہ انفرادی حثیت میں بھی اچھا انسان بن کر اچھی زندگی گزارے اور اپنے ملک اور معاشرے کے لئے فائدہ مند ہوں مگر آج کی عقل و شعور سے عاری نوجوان نسل تعلیم کو برائے ضرورت حاصل کرتی ہے نہ کہ تعلیم کو بطور زیور
آخر میں صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ
ایسا کوئی عمل نہ کریں کہ آپ کے کسی برے عمل کی وجہ سے آپ کے والدین کو گالی دی جائے۔

تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

Follow on Twitter: @AmUsamaCh

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں