The role of women 1

‏خواتین کا کردار

انسانی زندگی میں ایک خاتون کا کردار محور کی طرح ہے۔تمام خاندان کی زندگی خاتون کے گرد ہی گھومتی ہے۔پیدائش پر رحمت بن کر آنے والی بیٹی، باپ کیلئے رحمت، بھائیوں کیلئے محبت کا گہوارہ، ماں کیلئے توجہ کا مرکز، بنے ہوئے زندگی کی ابتداء کرتی ہے۔یہاں والدین کی بہت بڑی ذمہ داری جو خالقِ کائنات نے رکھی ہے وہ تعلیم و تربیت ہے۔والدہ اپنی بیٹی کو تربیت کے مختلف مراحل سے گزارتی ہے تو والد اس کی مناسب تعلیم کا بندوبست کرتا ہے۔
اسی اثناء میں بیٹی جوانی کی حدود میں قدم رکھتی ہے زندگی کا چکر اسے نئی نسل کا امین بنانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فرمان ہے، “بیٹا باپ کے گھر اور بیٹی شوہر کے گھر عروج پاتی ہے”۔ یعنی ذمہ داری پڑنے پر ہی اپنی جگہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جیسے خاندان میں ایک خاتون محور ہوتی ہے، یعنی “خاتون اعلٰی” بیٹوں کی ماں، شہر کی عترت، بزرگوں کیلئے خدمت و خیال رکھنے والی شخصیت، بیماری میں تیماردار، غم میں مونس، خوشی میں خاندان کا ستون۔۔۔۔

یہ ہے وہ محور خاندان کیلئے جسے عورت، خاتون یا خاندان کی حوّا کہتے ہیں۔ لبرل کیا کہتے ہیں،مجھے یہاں اس پر بحث نہیں کرنا لیکن ایک خاندان میں خاتون کیا مقام رکھتی ہے کیسے معاشرے میں اپنا مقام بناتی ہے، وہ سب سے اہم ہے۔

کسی بھی شخص، عورت ہو یا مرد، اس کی پہلی تربیت گاہ کسی ماں یعنی عورت کی گود ہوتی ہے۔پہلی پرورش گاہ اس عورت کی کوکھ ہوتی ہے۔تربیت دونوں مقام پر یکساں ہوتی ہے۔کبھی آزما لیں اور آج سائنس بھی اس کو مان رہی ہے کہ ماں کے رحم میں ہی پرورش پاتا ہوا بچہ اپنی تربیت کے ابتدائی مراحل سے گزرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک حافظہ ماں اپنے ایامِ حمل میں قرآن کی تلاوت کرتی ہے تو اولاد بھی قرآن کو ناصرف جلد حفظ کر پاتا ہے بلکہ ایک بار تو ایک بچہ پیدائشی طور پر ہی قرآن کو درست تلفظ سے پڑھتا تھا، جب بولنے کے قابل ہوا تو ایک بار آیت سن کر فورا” پڑھنے لگتا تھا۔ اسی طرح گانے بجانے اور طرب و موسیقی کی محفلوں کی دلدادہ ماں کی اولاد اسی طرح موسیقی کی دلدادہ اولاد کی ماں بنتی ہے۔ خیر شکم مادر میں تربیت ایک امر مشکل ہے، ناممکن نہیں۔ البتہ یہاں ہم بات کریں گے کہ معاشرے میں خاتون کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔

ایک معاشرے کیلئے خاندان سب سے چھوٹی اکائی ہوتا ہے۔کئی خاندان مل کر ایک معاشرہ ترتیب دیتے ہیں۔ جیسے کسی محلہ میں آپ اکثر ایک جیسا ماحول دیکھتے ہیں۔ وہاں رہنے والے سب ہی ایکدوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں اور سب ہی ایکدوسرے کے غموں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب ہم دیکھتے تو روز ہیں لیکن کبھی اس کے بارے میں تدبر اختیار نہیں کرتے۔

چند محلے مل کر ایک گاؤں، قصبہ یا شہر بنتے ہیں، اور عمومی طور پر اسے معاشرہ کی تشکیل کہا جاتا ہے۔ کسی معاشرے کی چند خوبیاں یا خامیاں عام ہو جاتی ہیں۔ انہیں اس معاشرے کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ جیسے مہمان نوازی، مددگار لوگ، ہنس مکھ، غصیلے، بہادر، نڈر، بزدل، بدمعاش، بدقماش، مجرمانہ ذہنیت کے مالک، جرم سے نفرت کرنے والے، وغیرہ۔۔۔ یہی خصوصیات قومی سطح پر اس معاشرے کی پہچان بن جاتی ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی پہلی اور آخری اکائی چونکہ خاندان ہوتا ہے اس لئے خاندان کا محور جو ماں ہوتی ہے اور تربیت کا پہلا زینہ، وہی خاندان کی تربیت کو اچھا یا برا کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر وہ معاشرہ اس عورت کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اگر خاتون کی کی گئی تربیت میں عورت کی عزت کرنا، بزرگوں کا ادب، بچوں پر شفقت کرنا، اردگرد کے لوگوں کی عزت کرنا اور معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت، تحمل مزاجی، صبر، شجاعت و بہادری سکھاتی ہو تو عام معاشرہ بھی انہی خصوصیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو مرد کا معاشرہ کہا جاتا ہے۔ انتہائی معذرت کیساتھ، کوئی معاشرہ مرد کا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ فقط عورت سے تشکیل پاتا ہے۔

اب اگر کوئی مرد اچھا ہے تو اس کا سہرا اسی ماں کے سر ہے، لیکن اگر کوئی مرد بدقماش، نالائق، ہنجار، بیغیرت، بدکردار ہے تو اس کی ذمہ دار بھی وہی عورت ہے۔ کیونکہ یہ معاشرہ مرد کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتا بلکہ عورت اس کی بنیاد، عورت ہی اسکا ستون ہے۔ مرد اس عورت کا محافظ، غمگسار، ساتھی اور عام طور پر اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے۔

کسی کے بہکاوے میں آکر اپنے معاشرہ کو خراب کرنے کی بجائے اصل بنیاد کو سمجھنا لازم ہے۔ ہر مرد طاقتور ہونے سے بہت پہلے اپنی کمزوریوں کو ایک عورت کی گود میں ہی پروان چڑھاتے ہوئے طاقت و قوت حاصل کرتا ہے۔
فیصلہ آپ کیجئے کہ عورت کا کردار کتنا اہم اور کس قدر مضبوط ہے۔ ان حالات میں ایک ماں کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ آج کی بیٹی کل کی ماں ہے، اس لئے اپنی بیٹی کی تربیت اور تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کریں۔ اگر ایک بیٹی کی تعلیم و تربیت درست ہو جائے تو پوری نسل سنورتی ہے، کیونکہ بیٹیاں نسلوں کی امین ہوتی ہیں۔

تحریر؛ غلام رسول

آپ غلام رسول کو ٹویٹر پر بھی فالو @pak4army کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں