Sparrows 1

چڑیا کے بچّوں آواز آئی

ایک مرتبہ ایک صَحابی کسی جھاڑی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ اُنہیں جھاڑی میں سے چڑیا کے بچّوں کی آواز آئی، وہ  قریب گئے اور چڑیا کے بچّوں کو پکڑ کر اپنی چادر میں رکھ لیا، اِتنے میں اُن  بچّوں کی ماں (چڑیا) آگئی اور اُن صَحابی کےسَر پر چکّر لگانے لگی۔ اُنہوں نے چادر کو ‏کھول اتو وہ چڑیا نیچے آئی اور اپنے بچّوں کے ساتھ بیٹھ گئی، وہ صَحابی اِن سب کو چادر میں لپیٹ  کر نبی ِّکریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہوئے اور پورا واقعہ سُنایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: چادر زمین پر رکھ کر کھول دو! اُنہوں  نے چادر کو کھول دیا لیکن چڑیا اپنے بچوں سے جُدا نہ ‏ہوئی رسولُ اللہ ﷺ نےفرمایا:
کیا تم اِس چڑیا کی اپنے بچّوں سےشفقت و مہربانی پر تَعَجُّب کر رہے ہو؟
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اِس چڑیا سے بھی  زیادہ مہربان ہے پھر رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انہیں واپس لے جاؤ حتٰی کہ انہیں وہیں رکھ آؤ جہاں سے پکڑا ہے، وہ صحابی ‏انہیں واپس چھوڑ آئے۔
(مشکوٰۃ المصابیح ،ج1،ص443،حدیث : 2377 مفہوماً)

محترم قارئین ماں چاہے کسی پرندے، جانور یا انسان ہی کی ہو اُسکے دل میں اللہ پاک نے ایک ایسی محبت رکھی ہے جس کی کوئی ثانی المثل نہیں۔ اُس کی محبت و شفقتِ مادری بے لوث و بے غرض ہوتی ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی
‏مشکل بھی اپنے بچوں کی خاطر جھیلنے سے نہی چوکتی۔
وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنا سب کُچھ اپنی اولاد پر قربان کر دیتی ہے۔
اس سے اُس ماں کو پیدا کرنے والے اپنے رب کی محبت کا اندازہ کریں جو ماؤں سے بھی ستر گناہ زیادہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
تو جب ماں کی اطاعت اور ‏فرمانبرداری کے اس قدر تلقین ہے تو اس پیدا کرنے والے مالک و خالق کی اطاعت کتنا لازم ہو گی۔
اللہ پاک ہمیں اپنے والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق عطا کرے۔ اور ہمارے والدین کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

تحریر؛ غلام رسول

آپ غلام رسول کو ٹویٹر پر بھی فالو @pak4army کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں