siasidugout 316

‏سیاست، سیاستدان اور ہمارا ملک

موجودہ دور میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس لفظ سیاست اور اسکی اہمیت سے واقف نہیں ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس لفظ کا مطلب کچھ اور لیا جاتا ہے اور ہمارے ہاں اسکا مطلب بدل جاتا ہے۔ اب سوچ رہے ہونگے کہ وہ کیسے؟
تو آئیں میں آپکو بتاتی ہوں کہ کیسے ہمارے ہاں اسکا مطلب بدل جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا ذکر کیا جائے تو وہاں سیاست عوام کی بھلائی کیلئے کی جاتی ہے تاکہ عوام کی مشکلات اور عوام کے مسائل کی حل کیلئے قانون سازی کریں یا عوام کے مسائل کو حل کرنے کےلئے براہِ راست طریقہ نکالیں تب ہی وہ ممالک ترقی یافتہ بن گئے ہیں جبکہ ہمارے ہاں سیاست اپنے فائدے کیلئے کی جاتی ہے بلکہ یوں کہیں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ سیاست ہی سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ہے۔

آپ نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہونگے جو کہ سیاست میں آنے سے پہلے خالی ہاتھ تھے اور پھر چند ہی سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کروڑوں اور اربوں کے مالک بن گئے۔ آپ زیادہ دور نہ جائیں اور اپنے چند سیاستدانوں کی مثالیں اٹھا کر دیکھ لیں آپکو ہمارے ہاں لفظ سیاست کی سمجھ آجائے گی۔ اس لیسٹ میں آپ سب سے پہلے شریف خاندان کو لے لیں کہ وہ لوگ سیاست میں آنے سے پہلے کیسے تھے اور اب سیاست میں آنے کے بعد انکے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنے اثاثوں کے مالک بن گئے۔ ان ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اسحاق ڈار کو دیکھ لیں جنکے بارے انکی پرانے وقت غربت کی کہانیاں بہت زبان عام رہی کہ وہ پہلے کس حالت میں تھے اور اب اتنے اثاثوں کے مالک کیسے بنے۔ یہ سب ہمارے ہاں سیاست کے فوائد ہیں اور یہ سیاست بھی اسلئے ہی کرتے ہیں۔
آپ پیپلز پارٹی کو بھی دیکھ لیں، ذوالفقار علی بھٹو کی وفات کے بعد پارٹی کی ملکیت زرداری خاندان کے پاس آئی جہنوں نے اس جماعت کو صرف اپنی ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا۔ بے نظیر بھٹو کے بعد پارٹی کی صدر ان کے شوہر آصف علی زرداری بن گئے جو ‘مِسٹر ٹِن پرسنٹ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد اس جماعت کے ہر وزیر اور مشیر نے پارٹی لیڈران کیطرح ریکارڈ کرپشن کی جس کو جتنا موقع ملا اس اتنے ہاتھ پھیلائے یہی وجہ ہے کہ آج ان کا تقریباً ہر دوسرا وزیر کرپشن الزامات کیوجہ سے تحقیقات کی زد میں ہے
اگر ایسے سیاست دانوں کی لسٹ گنوانا شروع کر دوں تو لسٹ بہت لمبی چلتی جائے گی یہ لسٹ ان سیاستدانوں کی ھے جنہوں نے سیاست کو کاروبار سمجھ کر اس سے کروڑوں اور اربوں روپے بنائے اور انکے بچے بچپن میں ہی کھرب پتی بن گئے۔

ہمارے ملک کی سیاست پیچھلے 40 سال سے دو ہی خاندانوں کے گرد گومتی رہی عوام بھی ایک سے تنگ ہو کر دوسرے کو اور دوسرے سے تنگ ہو کر پہلے کو اقتدار میں لاتے رہے۔ یہ دونوں جماعتیں باری باری اقتدار میں آنے کے باوجود بھی عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے مزید ابتر ہوتے گئے

اس دور میں جب ہمارے ملک میں عوام کے پاس دو جماعتوں کے علاؤہ کوئی اور انتخاب نہیں تھا تو اس روایتی طریقہ کار کو توڑنے کیلئے عوام کو عمران خان کی صورت میں ایک امید نظر آئی۔ 2018 میں عوام نے روایتی سیاست کے بجائے عمران خان کا انتخاب کیا تاکہ وہ اس روایتی اور اپنی مفاد کی سیاست سے عوام اور ملک کو نجات دلا سکے کیونکہ عمران خان کی ریکارڈ کو دیکھا جائے تو وہ سیاست میں آنے سے پہلے بھی عوام کیلئے کیلئے کئی فلاحی ادارے بنا چکے ہیں اور عوام بھی اسلئے امید کر رہی ہے کہ اس ملک کو ان سارے مشکلات سے جو شخصیت نکال سکتے ہیں وہ عمران خان ہے۔

اُمید ہے کہ ہمارا ملک اب وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جلد ہی بہترین ملکوں کی لسٹ میں ہوگا۔ انشاء اللہ

تحریر ؛ سدرہ کنول

آپ سدرہ کنول کو ٹویٹر پر بھی @SidrraKanwal فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

‏سیاست، سیاستدان اور ہمارا ملک“ ایک تبصرہ

  1. جہیز ایک لعنت:
    کل مجھے ایک لڑکی کا میسج آیا کہ کوئی اچھی سی جاب بتا سکتے ہیں ؟؟ جب میں نے وجہ پوچھی تو حیرانی کے ساتھ خاموش سا ہوگیا۔۔۔
    ہوا یوں کچھ دن پہلے اک فیملی لڑکی کو دیکھنے آئی ۔۔ لڑکی ماشااللہ پیاری ہے اور ماسٹر کیا ہوا ہے۔۔چائے دینے کے بعد لڑکی روم میں چلی گئی۔
    کچھ تعریفوں کے بعد بات پکی ہونے لگی تو سوال جہیز کا آگیا ۔ لڑکے کی ماں نے کہا کے ہمارے خاندان میں یہ رواج ہے کہ 15 تولہ سونا 10 مرلے کا پلاٹ اور فلاں فلاں سامان فرنیچر ہوتا اور ساتھ بیٹھا بیٹا چائے کے سپ لیتا رہا۔۔ کچھ دیر پہلے جہاں لڑکی کی بات اور ہنسی مزاق ہو رہا تھا اب وہاں سناٹا تھا۔۔۔
    آخر کار جواب نا ہو گیا۔ لڑکی ڈر کے مارے کمرے سے نا نکل رہی تھی۔ آخر برتن اٹھانے کے لیے آئی تو غیرت مند (پڑھا لکھا بےروزگار )بھائی بولا ” جتنا اس کو پڑھانے پر پیسا لگایا اس سے اچھا تھا جہیز بنا لیتے۔۔ پھر غصہ سے بہن کی طرف مخاطب ہوا کہ اتنا باپ نے پڑھایا ہے کوئی اچھی جاب کر اور جہیز بنا۔۔. وہاں بیٹھا باپ خاموش تھا اور ماں آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
    میں اکثر جو لکھتا ہوں کہانی نہیں حقیقت لکھتا ہوں۔۔
    باقی اگر جہیز کی پوسٹ کردو تو ہر مرد یہاں “جہیز لعنت ہے” کہنے لگتا ہے اور حقیقت میں خاموش بیٹھے چائے پیتے ہیں۔“
    #MubeenAnwar
    ______ اللہ ہمیں ہدایت دے ______
    ___ آمین ثم آمین یا رب العالمین ___

اپنا تبصرہ بھیجیں