148

راشد منہاس قوم کا فخر

15 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہونے والا خوبرو نوجوان جسے ہم منہاس کے نام سے جانتے ہیں اور تاریخ نے سہنری حروف میں لکھا راشد منہاس کا تعلق
راجپوت گھرانے تھا
آپ کے خاندان کے متعدد افراد پاکستان فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے آپ اپنے ماموں سے بہت متاثر تھے انہیں ہی دیکھ کے آپ نے پاک فضائیہ کا انتخاب کیا۔
20 اگست کو آپ کی تیسری تنہا پرواز تھی
راشد منہاس اپنے ٹرینر مطیع الرحمان کے ساتھ جیٹ طیارے میں سوار ہوئے اور پرواز کرنے ہی والے تھے کے آپ کے انسٹرکٹر نے اُسے بھی ساتھ لیے کے جانے کا کہا سولو فلائٹ میں وہ بھی آپ کے ساتھ چل پڑا۔
جیسے ہی جہاز آسمان کی بلندیوں پر پہنچا آپ نے اپنے ساتھ بیٹھے غدار کی نیت بھانپ لی انسٹرکٹر پائیلٹ نے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی بھر پور کوشش کی
دوران پرواز راشد منہاس کی لڑائی جاری رہی
غدار نے آپ کو مار مار کے بیہوش کر دیا اور
طیارے کا کنٹرول اپنے قبضے میں لے کے پرواز کو دشمن ملک اتارنا چاہا سرحد کے پاس جب پہنچا راشد منہاس ہوش میں آئے اور طیارے کو لینڈ نہ کر پانے کی صورت میں طیارے کے لیور کو پوری قوت سے دبایا اور طیارے کو نیچے زمین کی طرف موڑ دیا
طیارہ سرحد کے پاس آ کے زمین کے ساتھ ٹکرایا اورتباہ ہو گیا۔ اپنی جان کی پرواہ نہ کر کے آپ نے ملک کو دشمنوں سے بچایا
راشد منہاس
نے فرض کی ادائیگی میں مادر وطن کے دفاع کو ترجیح دی۔
اور اس سر زمین کے کم عمر ترین پائلٹ کا اعزاز رکھنے والے راشد منہاس نے وطن عزیز کے لیے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے وطنِ عزیز کی خاطر جان قربان کر کے تاریخ میں آپ امر ہوگئے۔

پاک فضائیہ کے پائلٹ راشد منہاس شہید کا آج 50 واں یوم شہادت ہے۔ آج وطنِ عزیز کے لیے نہ صرف جان کی قربانی بلکہ وطن عزیز کے ایک شاندار آفیسر کے ساتھ اس کے خوابوں اور مستقبل کو قربان کر کے کروڑوں پاکستانیوں کو محفوظ کرنے والے کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے

”ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں
اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم

تحریر: فائزہ عبدالرؤف

آپ فائزہ عبدالرؤف کو ٹویٹر پر بھی فالو @FaizaRauf10 کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

راشد منہاس قوم کا فخر“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں