155

پرچم کی تعظیم

پرچم کسی بھی قوم کی جہاں شناخت ہوتا وہیں قوم کا فخر و غرور بھی ہوتا اور اس کا حصول اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا ورثاء کو لگتا ہے۔
با حثیت قوم ہمارے آباؤ اجداد نے اس سبز ہلالی پرچم کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں ہیں
کئی ماؤں کی گودیں اجڑی کئی سہاگنوں کے سہاگ قربان ہوئے ہیں
ہزاروں افراد سر زمین پاکستان تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار گئے اور کئی لٹے پٹے سجدہ ریز ہوئے اس مقدس مٹی کے جبیں پر
ہمارا پرچم محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے اس کا سبز رنگ خوشحالی کی علامت ہے اور سفید رنگ اقلیتوں کے لیے امن کا نشان ظاہر کرتا ہے سبز حصے میں بنا ہلال ترقی کی علامت اور پانچ کونوں کا چمکتا ستارہ روشنی کی عکاسی کرتا ہے ہم پر جن باتوں کا خیال رکھنا لازم ہے ان میں
قومی پرچم کو لہراتے اور اتارتے وقت پاس موجود افراد کو کھڑے ہو کر پرچم کو تعظیم کے ساتھ سلامی دینا ہے
یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ قومی پرچم کو اندھیرے میں لہرایا نہ جائے
ہمارا پرچم ہماری آبرو ہے تو پرچم کو زمین پر نہ گرنے دیا جائے اور
پرچم پاؤں کے نیچے ہرگز نہ آئے
قومی پرچم کو ایسی کسی جگہ پر نہ لہرایا جائے جہاں اس کے گرنے یا گندہ ہونے کا خدشہ ہو
قومی پرچم کو نذر آتش کرنا قانونا جرم ہے
اور پرچم کی بے حرمتی کرنے پر تعزیرات پاکستان کے تحت 3 سال کی قید مقرر کی گئی ہے
پرچم کو قبر میں دفن نہ کیا جائے
اور نہ ہی اسے زمین پر گرنے دیا جائے ضرورت اس امر کی ہے
ہماری نئی نسل کو قومی پرچم کی اہمیت اور اسکے احترام کے تقاضوں سے آگاہ کیا جائے
بلکہ انکو بتایا جائے اس پرچم کے حصول کے پیچھے ہمارے قائد محمد علی جناح رحمت اللہ کی برسوں کی انتھک محنت اور شب و روز کی اعصاب شکن کوششوں کی ایک طویل داستاں رقم ہے
قومی پرچم ہر ملک و قوم کا شناختی نشان اور اس ملک کے نظریے کو بیان کرتا ہے۔پاکستان کا سبز ہلالی پرچم کسی سیاسی جماعت یا طبقے کا نشان نہیں ہے بلکہ قومی پرچم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ پرچم ایک قوم کی پہچان ہے تاریخی لحاظ سے
ہمارے قومی پرچم کا نقشہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ نے بنایا اور
قومی پرچم کا انتخاب 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں ہوا جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اسمبلی میں دو پرچم قائداعظم محمد علی جناح کو پیش کیے تا کہ وہ پرچم کی منظوری دے دیں
لیاقت علی خان کے تاریخ ساز الفاظ
“جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کا پرچم نہیں بلکہ یہ پاکستان کا قومی پرچم ہے کسی قوم کا پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ اس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ کس بات کی نمائندگی کرتا ہے اور میں بلا خوف و تردید یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو پرچم میں نے پیش کیا ہے وہ ان لوگوں کی آزادی حریت اور مساوات کا ضامن ہے جو اس سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں ہماری ریاست امن و امان کی ضامن ہو گی اور دنیا میں امن قائم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گی یہ پرچم نہ صرف پاکستانیوں کی آزادی کا پرچم ہو گا بلکہ دنیا بھر میں امن اور قیام امن کا درخشندہ نشان ہو گا”۔
یہ محض الفاظ نہیں روح میں اترتا وہ پر سکوں احساس ہے جو ہمیں با حثیت پاکستانی اپنے ملک اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں اور اپنے پرچم سے محبت پر مرکوز رکھتے ہیں

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
آمین یارب العالمین

تحریر: ارم چوھدری

آٔپ ارم چوھدری کو ٹویٹر پر بھی ‎@IrumWarraich4 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پرچم کی تعظیم“ ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت خوبصورت اور دلکش طریقہ تحریر ھے ڈاکٹر ہما صاحبہ
    سب آرٹیکلز لیکن آج نظروں سے گزرے پڑھے تو وقت کا پتہ ھی نہیں چلا بہت خوب
    اللہ مزید ترقی و کامیابی دے اپکو

اپنا تبصرہ بھیجیں