siasidugout 65

پاکستان میں “سیاست” کا مطلب

‏سیاست (Politics) جو یونانی زبان کا لفظ ہے، لغت میں سیاست کے معنی ٰ: حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔ اصطلاح میں، سیاست کے معنی فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔تو یہ تھا سیاست کا مطلب اب ہم اتے ہے پاکستانی سیاست کی طرف !!!!

جہاں آپکو سیاست کے معنی کے بلکل برعکس سب کچھ نظر آے گا۔
قائد اعظم کے انتقال کے بعد ہمارے ملک میں سیاست کے نام پر مذاق ہوا ہے، کبھی کسی نے سیاست کا سہارا لے کے اس ملک کو توڑا ہے تو کبھی اس ملک کو بیدردی سے لُوٹا ہے، کبھی کسی نے اس ملک کا آئین توڑا ہے تو کبھی کسی نے سیاست کی آڑ میں معصوم لوگوں کی جانیں لی ہیں۔

سیاست ہمارے ملک میں محض ایک کھیل ہے، جسے لوگوں کی بھلائی کے لیے نہیں اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاست دان اس ملک پر حکمرانی کے خواب تو دیکھتے ہے لیکن انکا جینا مرنا پاکستان سے باہر ہے، ان کے کاروبار باہر، فیملی باہر، علاج باہر لیکن انکو حکومت پاکستان کی کرنی ہے۔ ان سیاستدانوں کو عوام کی بھلائی کی کوئی فکر نہی ہے۔ اور اگر فکر ہے تو بس اپنے آپکو طاقتور بنانے کی، اس ملک کو لوٹنے کی اور یہاں سے پیسا چوری کر کے باہر لے جانے کی!

جب سے پاکستان بنا ہے پاکستان میں دو طرح کی حکومتیں رہی ہیں،
1؛جمہوریت
2؛ڈکٹیٹر شپ
میں نے جمہوریت کے معنی کچھ یوں پڑھیں ہے
“Government of people by the people for the people ”

جب کے ہمارے ملک میں اپ اس کا مطلب کچھ یوں بھی لے سکتے ہیں کہ
“Government of Looters by the illiterate people for the looters”

ہمارے ملک میں کبھی بھی جمہوریت کا تسلسل قائم نہیں رہا ، اکثر یہاں جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ اسکے پیچھے کے محرکات لکھنے کو بیٹھیں تو ختم ہی نا ہوں۔

ویسے تو ہمارے سیاست دان ہمشہ ڈکٹیٹرز کو اس ملک کی تنزلی کا ذمدار ٹھہراتے آے ہیں۔
لیکن جب ہمارے وہ ہی سیاست دان جب انہی ڈکٹیٹرز کے کاندھوں پر سیاست میں آ کر اقتدار پر براجمان ہوتے ہے تو گرگٹ بھی اپنے رنگ بدلنے کی سپیڈ پر افسرده تو ہوتا ہوگا۔

سیاست جو کے ایک عبادت ہے اسے ہمارے ملک میں گالی بنا دیا گیا ہے۔
سیاست کے نام پر اس ملک کے ایک ایک ادارے کو تباہ کر کے اپنے ذاتی مفاد کے لیے تیار کیا گیا کے اگر کل کو ان کے کیے گے کرتوت کسی کے سامنے آ بھی جایں تو انکو پکڑنے والا اور سزا دینے والا کوئی بھی نہ ہو۔
مسلسل پاکستان کو باریاں لگا کر لوٹنے کے بعد جب انکی چوری پکڑی بھی گئی تو ثبوت نا ہونے پر بھی انہی سیاست دانوں کے کرپٹ کیے ہوئے نظام نے انکو وہ تحفظ فراہم کیا کے ہماری تو عقل ہی دنگ رہ گئی۔
خوش قسمتی سے ایک آدھا پکڑ کر جیل میں ڈالا گیا تو وہ سیاستدان سیاسی انتقام اور اداروں پر الزام کا سہارا لے کے سڑکوں پر “مجھ کیوں نکالا” کا راگ الاپتا رہا۔

ہمارا ملک قرضوں کی دلدل میں پھنستا گیا لیکن ہمارے سیاستدانوں کی عیاشی عروج پر تھی،
غریب روٹی نہ ملنے پر خود کشی کرتا رہا اور ہمارے سیاست دانوں کی بیرون ممالک جائیدادیں بنتی رہی۔
ہمارا ملک دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا تو ان سیاست دانوں کی فمیلیز بیرون ملک شفٹ ہوتی گیں۔
یہاں غریب پائی پائی کا ٹیکس دیتے رہے اور ہمارے حکمران اپنے چوری شدہ پیسے کو چھپانے کے لئے فالودے والے اور ریہڑی والے کے اکاؤنٹس میں پیسے جمع کرتے رہے

جھوٹ بولنا اور سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانا تو ان سیاستدانوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔اور ہم پاکستانی لوگ بھی بڑے سادہ یا شاید بیوقوف ہے جو انکے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی آپکو ہر دوسرا نظر انے والا بندہ
“بھٹو زندہ ہے” یا “شیر آیا شیر ” کا نعرا لگاتا نظر آے گا۔ جسے دیکھ کر دل کو لاکھ سمجھانے کے باوجود بڑی شدت سے زبان سے نکلتا ہے
فٹے منہ تواڈا

تحریر؛ سائیرہ عبید

آپ سائیرہ عبید کو ٹویٹر پر بھی @Saira__Sheikh فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں