Pakistan ka maujuda nizam 3

پاکستان کا موجودہ نظام

پاکستان کے موجودہ سیاسی، معاشی، معاشرتی حالات کھچ سازگار نہیں، ہم اس وقت انتظامی طور پر بہت مفلوج ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کا جاءزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم کس قدر سیاسی پستی کا شکار ہیں، پاکستان میں سیاست صرف ذاتی مفاد کے لیے کی جاتی ہے اور الیکشن میں صرف عوام کو سبز باغ دیکھا کر ووٹ ہتھیاۓ جاتے ہیں، یہ لوگ سمعجتے ہیں کہ ووٹ لے کر اتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ ووٹ چھین کر آتے ہیں۔ گالم گلوچ، الزام تراشیاں بہت عام سی بات ہے۔ معاشی طور پر پاکستاں اس وقت بہت نازک دور سے گزر رہا ہے، مہنگاي تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،شرخ سود بھی دنبدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈالر پاکستانی روپے کو پیچھاڑتے ہوے اپنے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر اس وقت روپے 173۔50 پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت دعوے تو بہت کر رہی ہےکہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ عام آدمی تک اس کے اثرات کب پونچھیں گے اگر واقعي پاکستان معاشی طور پر مظبوط ہو رہا ہے؟ اب بات کرتے ہیں معاشرتی منظر نامے پر، معاشرتی طور پر ہم بہت سے فرقوں میں بٹھے ہوۓ ہیں، ہمیں کھبی شیاء سنی فسادات کر وا کر لڑوایا جاتا ہے تو کھبی پاکستان مخالف تحریکیں چلوا کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکھسایا جاتا ہے۔ بقول فوج اور حکومت کے پاکستان کو اس وقت فیفتھ جنریشن وار کا سامنا ہے۔ ہماری 73 سالہ تاریخ کا جاءزہ لیے تو پتا چلتا ہے کہ ہمیں تو شروع سے ہی مختلف جنگوں کا سامنا ہے۔معاشرتی طور ہماری قوم ذہنی غلامی کا شکار ہے بلکہ یوں کہ لیں ہمارے حکمران ہی ذہنی طور پر انکے غلام ہیں تو پھر قوم کیا کرے؟؟
پاکستان میں بڑے زورو شور سے موجودہ نظام پر بحث کی جاتی ہے، ہمیشہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کے لیے کون سا نظام بہتر ہے، پارلیمانی یا صدارتی؟
پاکستان کا آعین پارلیمانی نوعیت کا ہے جو 280 دفعات پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے پورے نظام کا جاّزہ لیں تو یہ کہنا ‏‏غلط نہیں ہوگا کہ ہمارا عدالتی، معاشی، سیاسی، نظام نہایت کھوکھلا ہے، میرے نزدیک یہ نظام پاکستانی قوم کےزہر قاتل ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ قوم کی جڑیں کھوکھلی کرتا جا رہا ہے۔ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ عدالتیں بڑے مجروموں کے سامنے بے بس ہیں یا یو کہ لیں امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب کے لیے الگ قانون ہے۔ عدالتوں میں صرف پیسا چلتا ہے اور عام آدمی کے کیس 10 12 سال تک فاّعلوں میں بند رہتے ہیں۔ اگر آج پاکستان میں قانون کی بالادستی ہو جاۓ تو ہم کہ سکتے ہیں ہمارے 90 فیصد مساثل خود بخود حل ہو جاثیں گے۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور ہمارا آثین ارو قانون اسلامی اصوہوں یا شریعت کے مطابق ہونا چاہۓ، ہم نے 73 سالوں میں اسلام کو ملک میں نافذ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہمارے حکمرانوں نے اسلامی طرز حکومت کو فروغ دینے کی بجاۓ مغربی طرز حکومت کو فروغ دینا بہترین عمل سمجھا اور مغربی غلامی سے نکلنے کی بجاے ہم نے ان کی تقللید کرنا شروع کر دی۔ آج دیکھا جا‎ۓ تو ہمارے ملک میں انگریزی بولنے والے کو ذہین اور قابل سمجھا جاتا ہے اور جو نہ بول سکے اسکا مزاق اڑایا جاتا ہے۔ یہی سے ہماری ذہنی غلامی کا پتا چلتا ہے کہ ہم کس قدر مغربی طرز کو ملک میں فروغ دینے کو کتنا اچھا کام سمجھتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش ہی نہیں کی اگر کی ہوتی تو آج ہمارا ملک ترقی کی منازل طے کر رہا ہوتا۔ پاکستان کی بقا اسلامی طرز کے نطام میں ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اسلامی تعلیمات پر عمل کیا کامیابی سے ہمکنار ہوي اور جنھوں نے اس سے غفلت برتی ذلت اور رسواي کا شکار ہو گی۔
اللہ تعالی ہمیں پاکستان اسلامی طرز حکومت فروغ کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین۔

تحریر ؛ شبانہ

آپ شبانہ کو ٹویٹر پر بھی @its_Shabana_12 فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں