Pak Vs Aus 2

‏پاکستان آسٹریلیا ناک آوٹ مقابلے

1987 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں لاہور میں آسٹریلیا کا پاکستان کو شکست دینے سلسلہ شروع ہوا، 1999 کا ورلڈ کپ فائنل جہاں بہت ہی بہیودہ طریقے سے ہمیں آسٹریلیا نے شکست دی بڑے بتاتے ہیں 2010 کا سیمی فائنل تو میری آنکھوں نے بھی ہلکا پھلکا دیکھا تھا جہاں

‏سعید اجمل کو مائکل ہسی نے تین چھکے مار کر بنا بنایا میچ ہرا دیا، 2015 ورلڈ کپ کے کواٹر فائنل میں ہماری ٹیم اس قدر کمزور تھی کہ آسٹریلیا کی زمین پر ان سے جیتنا ناممکن سا تھا مگر اس بار جب میدان ہمارا تھا اور رواں ورلڈ کپ کے علاوہ دبئی میں ہوئے 16 ٹی ٹونٹی مقابلوں میں ہم ناقابل
‏شکست رہے اور مضبوط ٹیم ہونے کے ہوتے یہ ہار قدرے گراں گزری ہے مگر اس کے کچھ پہلو ہیں
ٹاس ہار جانے اور پہلے بیٹنگ کرنے کا ہم نے زیادہ دباو نہیں لیا نہ لینا چاہئے تھا اور شروع میں آسٹریلیا کے سامنے جارحیت سے کھیلنا ہی بنتا تھا جہاں بابر نے ایک اچھا آغاز کیا اور یہ پارٹنرشپ
‏چودھویں پندرھویں اوور تک جانی چاہئے تھی مگر بابر نے لیگ سپنر کے خلاف ایک بار پھر غلط شاٹ کھیل کر وکٹ گنوا دی اور فخر کو جلدی آنا پڑ گیا، شروع میں فخر کو کافی محنت کرنا پڑی کیونکہ آف سٹمپ سے باہر جاتی گیند اس کیلئے مشکل کا باعث ہوتی ہے اور ہیزلووڈ، کمنز اسے وہیں گیند کرتے رہے
‏جس پر رضوان نے چارج لیا اور اچھا کھیل رہا تھا مگر سٹارک نے موقع پر وکٹ لی، دو ڈراپ چانس ملنے کے بعد بھی لو سٹرائک ریٹ سے سکور کیا جو اچھا نہیں تھا، وہاں چارج کرنے کیلئے فخر موجود تھا حفیظ کو بھیجا جانا چاہئے تھا مگر آصف علی کو بھیج دیا گیا جو ایسی سچویشن کیلئے شاید تیار
‏نہیں تھا خیر وہ وکٹ غیر متوقع تھی، ملک سپن کے خلاف اچھا کھیلتا ہے تو پیس کے سامنے اسے بھیجنا ایک غیرمناسب حکمت عملی تھی خیر فخر کا ایک کیچ ڈراپ ہوا مگر اس کی کسر سٹارک کو چھکے لگا کر پوری کردی کیونکہ اس کا بال سٹمپ پر آ رہا تھا جو فخر کا پسندیدہ ایریا ہے
باولنگ میں مارش کو

‏ایمپائر کال کا فائدہ ہو گیا اور وارنر کے ساتھ پارٹنرشپ کرکے ایک اچھی باری کھیلی، وارنر کو روکنے کیلئے شروع میں حفیظ کو لگایا جا سکتا تھا تا کہ شاہین کا رائٹ ہینڈر اور حفیظ کا لیفٹ ہینڈر پر دباو رہتا مگر عماد سے گیند کروائی جو اس ڈھیلی پچ پر زیادہ کارآمد نہیں رہا خاص طور پر
‏وارنر کے سامنے، خیر شاداب نے اچھی باولنگ کی اور وارنر کی وکٹ تحفے میں مل گئی ریویو نہ لینا آسٹریلیا کو بھاری پڑ سکتا تھا، حارث روف چینج آف پیس کی وجہ سے ابتدائی میچز میں وکٹ لیتا رہا مگر اس کی وہاں کافی کمی دکھائی گئی اور سلو بال پر ہی دھیان تھا، حسن سٹمپ پر تو کر رہا تھا مگر

‏بہت پیچھے اور سلو جس وجہ سے گیند بلے پر آ رہا تھا اور بھرپور فائدہ اٹھایا گیا، چار یا پانچ رن آوٹ چانس دو شاداب ایک شاہین ایک حسن نے مس کر دئے جب پارٹنرشپ کا آغاز ہی ہوا تھا، 9 گیندوں پر جب 18 رہ گیا تب کیچ چھوڑنے سے فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ اختتام کے اوورز میں اوس کی وجہ سے

‏بیٹنگ آسان رہتی ہے اگرچہ آج زیادہ نہیں پڑی
کل ملا کر ایک کھلاڑی پر الزام دینا بس آپ کے بھڑاس نکالنے کا طریقہ ہو سکتا ہے مگر دیکھا جائے تو پوری ٹیم نے ہی انتہائی ناقص کارکردگی پیش کی ہے ویسے بھی آج نہیں تو فائنل میں ہارنے کا میں نے پہلے ہی موڈ بنا رکھا تھا، ایک بار پھر

‏بائیں ہاتھ کا آسٹریلوی بلے باز پاکستانیوں کی امیدوں پر پانی پھیر گیا یہ قسمت ہے اس سے بھاگ نہیں سکتے اس بار نہیں تو اگلی بار آسٹریلیا سے ناک آوٹ مقابلوں میں ہارنے کی روایت بھی ختم ہو ہی جائے گی

تحریر ؛ غلام رسول

آپ غلام رسول کو ٹویٹر پر بھی فالو @pak4army کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں