187

نماز

نمازوں کو پڑھنے میں نمازی ہی دیر کرتے ہیں
تب ہی انصاف کرنے میں بھی قاضی دیر کرتے ہیں

فرشتے ہی تو رزق لاتے ہیں فجر میں اٹھنے والوں کا
مگر اٹھنے کو تو ، ہم صبح میں ہی دیر کرتے ہیں

ہم اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں انسانوں کے آگے ھی
مگر اللہ سے لینے میں ہم اکثر ہی دیر کرتے ہیں

جو چاہئیے ہم دعا سے وہ ہم کو مل ہی جاتا ہے
دعا مانگنے میں رب سے، ہم ھی دیر کرتے ہیں

ایک مسلمان کی نظر میں نماز صرف فرض عبادت ہوتی ہے لیکن اگر اسکے علم میں یہ بات آجائے کہ نماز کیا ہوتی ہے؟ تو شاید وہ کبھی سجدہ ہی نہ چھوڑے.
ایک مسلمان کی نماز دوزخ کی آگ سے بچنے کے لیے ہوتی ہے جبکہ ایک مومن کی نماز معراج ہوتی ہے ایک مسلمان نیکیوں کا ڈھیر جمع کرنے کے لیے نماز پڑھتا ہے اور دیگر فرائض سر انجام دیتا ہے جبکہ مومن کی تمنا صرف دیدارِ الٰہی ہوتی ہے اس لیے اس کی نماز معراج ہوتی ہے اور یہی جنت کا آخری مقام بتایا جاتا ہے کیونکہ نماز کی معافی کسی صورت نہیں ہے

جب کوئی شخص اپنے مجازی محبوب کے مقابل بیٹھتا ہے تو دھڑکنیں رقص کرنے لگتی ہیں، وقت ساکت ہو جاتا ہے، زبان مفلوج ہو جاتی ہے ایک سرور ایک سکون کی کیفیت ہوتی ہے اور نگاہیں محبوب کے چہرے سےنہیں ہٹتی یہ عشق کی معراج ہے.

مگر کہاں عشقِ مجازی اور کہاں عشقِ حقیقی ؟ مومن کے دل میں اللہ ہوتا ہے اور اسکا محبوب اسکا عشق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے.
جب وہ نماز میں سجدہ کرتا ہے تو اسکو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ وہ رب العالمین کے سامنے جھکا ہے.اس وقت اس کا رب اس کی طرف متوجہ ہے اور وہ اس وقت اس رب کے دربار میں سجدہ کر رہا ہے.جب مومن کو اپنا مقام حاصل ہو جاتا ہے تو اسکا قیام روح میں ہو جاتا ہے.تو سجدہ صرف اسکا وجود ہی نہیں بلکہ اسکی روح کر رہی ہوتی ہے.بندے کے پاس کچھ نہیں رہتا سوائے عشقِ حقیقی کے، اسکا وجود اس خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے کہ کہ وہ بادشاہوں کے بادشاہ کے دربار میں کھڑا ہے.اسکا ہر عمل من جانب اللہ ہوتا ہے.وہ کسی سے محبت رکھتا ہے تو اللہ کے لیے اور دشمنی رکھتا ہے تو اللہ کے لیے.

موجودہ مسلمان نماز کو مجبوری سمجھتے ہیں. جبکہ مومن تو نماز میں سلام بھی مجبوراََ پھیرتا ہے.خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں پانچ وقت معراج نصیب ہوتی ہے. تہجد وہ واحد نماز ہے جس کے لیے اذان کی آواز مسجد سے نہیں بلکہ دل سے آتی ہے اور تہجد کی نماز اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے.

رات کے آخری پہر میں اللہ تعالیٰ آخری آسمان پر آتا ہے اور آواز لگاتا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور میں اس کو معاف کر دوں کیا کوئی ہے جو بیمار ہو،مجھ سے شفا و تندرستی مانگے؟ میں اس کی بیماری دور کر دوں. کیا کوئی ہے جو رزق کا سوال کرے اور میں اس کی تنگدستی دور کر کے اس کے رزق میں اضافہ کر دوں

دیکھیں! اللہ تعالیٰ ہم پر کتنا مہربان ہے لیکن افسوس ہم اس وقت سوئے ہوئے ہوتے ہیں پھر ہم کہتے ہیں اللہ ہماری سنتا نہیں.
اللہ تعالیٰ تو خود کہتا مانگ جو مانگنا ہے، وہی تو ہے الواحد الاحد بادشاہ جس کے در سے کوئی خالی ہاتھ واپس نہیں آتا. جس سکون کو ہم لوگ فائیو سٹار ہوٹلوں، موسیقی کی محفلوں، اور روشنیوں میں ڈھونڈا کرتے ہیں وہ سکون صرف اور صرف نماز میں ہے. سورج کی شعائیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان شعاؤں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقت ور ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے.
اور سجدے میں جا کر اللہ سے بات کی تو پتہ چلا کہ وہ آزمائے گا مجھے دنیا کی ہر محبت دکھا کر اور پوچھے گا.بتا کون ہے تیرا ؟ سوائے میرے!!
نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہوتی ہے.

نماز کو مت چھوڑیں کیوںکہ زندگی کی ساری برکتیں، رونقیں اسی میں ہے.نماز محبت سمجھ کر ادا کرو گے تو اللہ تمہیں دوسری نماز کے لیے خود کھڑا کر دے گا.

کوئی عبادت کی چاہ میں رویا!
کوئی عبادت کی راہ میں رویا!

عجیب ہے یہ نماز محبت کا سلسلہ!!

کوئی قضا کر کے رویا!
تو کوئی ادا کر کے رویا!

اختمام حضرت علی علیہ السلام کے فرمان سے کرنا چاہوں گی

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے.
“نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کرلو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاؤ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی”

تحریر ؛سارہ مہر

آپ سارہ مہر کو ٹویٹر پر بھی @SarahMehar178 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں