siasidugout 48

مظلوم وزرائے اعظم

پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ابتدائی دور سے لے کر اب تک سیاستدان طبقے پر ہمیشہ مظلوم کی چھاپ ہی رہی۔ کوئی اپنی برظرفی پر سیاپا احتجاج رہا ، کسی کو جھوٹے مقدمات سے شکایت رہی تو کوئی جلاوطنی پر آہ و بکاء کرتا نظر آیا۔۔ آخر ایسا کیوں ہے ؟ کیوں آج تک کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا ؟ کیوں پاکستان میں پہلی جمہوری حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے 66 سال تک انتظار کرنا پڑا ؟ آج اسی موضوع پر چند سطریں لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں
قائداعظم محمد علی جناح قیامِ پاکستان سے 13 ماہ بعد انتقال کر گئے یوں اس عظیم رہنما کو مضبوط ادارے بنانے کا موقع ہی نہ مل سکا اور پاکستانیت جس شخص کے گرد گھومتی تھی وہ منظر نامے سے ہٹ گیا۔ اسکے بعد طاقت کی کشمکش کا ایسا کھیل شروع ہوا جس نے پاکستان کو عالمی دنیا کیلئے مزاق بنا کر رکھ دیا۔ غیر ملکی سفیروں کو ایک وزیراعظیم سے شناسائی ہو ہی رہی ہوتی تھی کہ اسکو ہٹا کر نیا وزیراعظم مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا جاتا حتی کہ پنڈت جواہر لعل نہرو کہا کرتے تھے “میں اتنی جلدی دھوتی نہیں بدلتا جتنے جلدی پاکستانی وزیراعظم بدل لیتے ہیں”

اپریل 1955 سے اکتوبر 1958 تک ساڑھے تین سال میں پاکستان کے 5 وزیراعظم آئے اور چلے گئے حالاکہ ساڑھے تین سال کی مدت ایک جمہوری حکومت کی آئینی مدت سے بھی کم ہے جبکہ ہم نے 5 تجربات کر ڈالے پھر ان میں سے اکثر کو غدار کا خطاب دے کر منظر نامے سے ہٹا دیا گیا پھر مارشل لاء کا صدارتی نظام شروع ہوا جس میں وزارت عظمی کا تصور ہی نہیں تھا 1971 تک یہی سلسلہ چلتا رہا پھر بھٹو آئے نکال دیے گئے محمد خان جونیجو آئے نکال دیے گئے بینظیر آئیں نکال دی گئیں نواز شریف آئے نکال دیے گئے بینظیر پھر آئیں دوبارہ نکال دی گئیں نواز شریف پھر آئے نکال دیے گئے ظفراللہ جمالی آئے استعفی لے کر چلتا کیا گیا پھر یوسف رضا گیلانی آئے نکال دیے گئے۔۔۔ سیاست دان بلاشبہ دودھ سے دھلے نہیں ہیں مگر سوال یہ ہے کیا پاکستان کو کبھی بھی مخلص وزیراعظم نہیں ملا جو اس قابل ہوتا اپنی آئینی مدت ہی پوری کر پاتا ؟ کیا کبھی بھی پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں آئی ؟ کیا سارا قصور ہمیشہ سیاستدانوں کا ہوتا ہے ؟؟ یہ سوال اپنی جگہ مگر پاکستان میں جمہوریت کے نہ پنپنے میں سیاستدانوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں الیکشن نتائج نہ ماننے کی روایت رہی ہے ہارنے والی پارٹی الیکشن نتائج آتے ہی حکومت گراںے کی جستجو میں لگ جاتی ہے انتشار پھیلانے کا کوئی موقع رائیگاں نہیں دیا جاتا۔ آئینی غیر آئینی ہر داو کھیل کر اقتدارحاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ سیاستدانوں کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر جمہوریت کو کبھی بھی پھلنے پوھلنے نہیں دیا گیا۔۔

تلخ تاریخ سے برعکس موجودہ حکومت ڈٹ کر تمام مصائب کا مقابلہ کر رہی ہے اس حکومت اور وزیراعظم کو گرانے کی جتنی بار کوششیں کی گئیں وہ ناکام ٹھریں اب سب کی نظریں وزیراعظم عمران خان پر ہیں کہ وہ آئینی مدت پوری کرنے والے پہلے وزیراعظم پاکستان بن کر تاریخ رقم کرتے ہیں یا انکا نام بھی مظلوم وزرائے اعظم کی فہرست کا حصہ بنتا ہے

تحریر؛ حسان خان بلوچ

آپ حسان خان کو ٹویٹر پر بھی @HHsirHKBaloch فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں