mazoor hukamy khudawandi 23

منظورِ حکمِ خداوندی

کبھی کبھار ہمیں لگتا ہے کہ جو ہم سوچتے ہیں چاہتے ہیں اگر وہ ہو جائے تو ہماری زندگی سنور جائے
ہمارے ارد گرد خوشی تیتلیوں کی صورت منڈلائے گی
ہر شے بہت خوبصورت ہو جائے
ہم ایسا سوچتے ہیں اور یقیناً ہر شخص یہی چاہتا ہے۔
پر جب ایسا نہ ہو تو ہم اکثر
مایوسی کی راہ پہ گامزن ہو جاتے ہیں افسوس اس چیز کا نہیں ہوتا کہ ہمیں ملا نہیں یا ہمارا کام ہوا نہیں اس سے جاری اُمیدیں ہمیں اس راہ تک لے کے آ جاتی ہیں۔
بعض اوقات ہم ٹوٹ جاتے ہیں اللّٰہ سے شکوہ کرتے ہیں خود کو کوستے بھی ہیں .
بعض اوقات تو ہم خود کو اتنا منفی کر دیتے ہیں اتنا کہ ہر شے ہر شخص سے ہمارا بھروسہ ختم ہونے لگتا ہم کوئی نہ کوئی منفی بات، چیز کو پکڑ کے اُسے لمبا کھنیچتے ہیں اُس پہ غصہ کرتے ہیں اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا
کہ ہم اپنا بے جا غصّہ دوسروں پر نکالتے ہیں!
ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟
ہمیں اُسے قبول کرنا چاہیے ہمیں تقیسم ربی پر آمین کہنا چاہیے یہی تو بندگی کا اصل قرینہ ہے کیوں کہ
نصیب میں جو چیز ہو وہ مل کے رہتی ہے چاہے آپ کو اسکی چاہت اور طلب نہ ہو
اور اگر وہ چیز نصیب میں نہیں تو چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لیں جتنا مرضی زور لگا لیں وہ نہیں ملے گی”
حقیقت کو قبول کر لینے سے آپ کی بہت سی اُلجھنیں دور ہو جاتی ہیں۔ آپ منفی نہیں سوچتے مثبت سوچتے ہیں۔ اور مثبت سوچنے سے ہی آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آپ کی زندگی میں خوشحالی آ سکتی ہے آپ پر سکون رہ کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کر سکتے ہیں یاد رکھئے
یہ دنیا ایک آزمائش کا ٹھکانہ ہے۔ استاد جب جماعت میں کوئی امتحان لیتا ہے وہ بچوں کی قابلیت جاننے کے لیے لیتا ہے کہ بچہ کس حد تک کابل ہے اور جب ایک ذہین اور محنتی بچہ امتحان پاس کر جاتا ہے تو اُسے اگلی جماعت میں بھیج دیا جاتا اور ایسے ہی اُسے کئی امتحانات سے گزر کر ڈگری کی شکل میں کامیابی تھما دی جاتی ہے
ہر چیز ایک ایک کر کے قدم با قدم اُسے کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
اشرف المخلوقات کی زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہے اللّٰہ اس دنیا میں امتحان لیتا ہے اور پھر انسان کے صبر کو دیکھا جاتا ہے اور آخر میں اس جہان فانی سے رخصت ہو جانے کے بعد اللّٰہ ہر کسی کو اس دنیا میں لیے گئے امتحانوں کے بدلے اللہ رب العزت اُسے جنت میں ویسا ہی مقام عطا کرے گا۔ کہا جاتا ہے کہ جب جنت میں انسان اپنا مقام دیکھے گا تو سوچے گا کہ کاش دنیا میں اس پہ مصیبتیں ہی ٹوٹی رہتیں۔

انسان جب اللّٰہ کی عطا کردہ نعمتوں پہ صبر و شکر کے ساتھ خوش رہتا صابر رہتا ہے تو اللّٰہ اُسے بہت سی ایسی چیزوں سے نوازتا ہے کہ جس کا ہم میں سے کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
ضروری نہیں جو ہمیں نظر آئے یا جو ہم سوچیں وہی اچھا ہو کبھی کبھار ہماری سوچ اور نظریہ خدا کی عطا کردہ بہترین چیزوں تک نہیں سوچ سکتا جو کہ ہماری سوچ سے کئی گنا زیادہ اور ہمارے حق میں بہترین ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہمیں منظورِ حکمِ خداوندی پہ راضی با رضا رہنا چاہیئے۔

پیغمبری رضائے الٰہی ہے ورنہ

یعقوب دیکھ سکتے تھے یوسف کو چاہ میں

تحریر؛ فائزہ عبدالرؤف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں