siasidugout 80

خود اعتمادی کامیابی کی کنجی اور کامرانی کی پہلی سیڑھی ہے

خود اعتمادی اپنی ذات پر بھروسے کو کہتے ہیں۔جب کہ اس کا متضاد عدم اعتماد،احساس کمتری ہے۔
خود اعتمادی کامیابی کی کنجی اور کامرانی کی پہلی سیڑھی ہے۔
خود اعتمادی سے سرشار شخص ایک بھرپور اور کامیاب زندگی گزارتا ہے۔بیشتر کامیاب انسانوں کی کامیابی کا راز ان کی خود اعتمادی میں چھپا ہوتا ہے۔ایسے اشخاص مقاصد کا تعین کر لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد اور یقین رکھتے ہوئے منزل پا لیتے ہیں۔
خود اعتماد شخص ہمیشہ مشکل وقت میں صحیح فیصلہ کرتا ہے اور مشکلات کو شکست دیتا ہے۔اسے ہار کا خوف نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس ایسے انسان جن میں خود اعتمادی کی کمی ہو انہیں ہمیشہ ہار اور ناکامی کے ڈر سے ٹھتے اندیشے منزل سے دور رکھتے ہیں۔اندیشے ور خوف ہی ناکامی کی وجہ ہیں۔یہ خوف ہی ہے جو راہی کو خائف کر کہ اس کے مقاصد کو متزلزل کرتا ہے۔ ایسے انسان لوگوں سے ملنے سے ہچکچاتے ہیں اور مشکل حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور زندگی میں آگے بڑھنے سے کتراتے ہیں۔ان کے نہ تو کوئی خواب ہوتے ہیں اور نہ ہی منزل ۔
اب سوال یہ ہے کہ خود اعتمادی کیسے پیدا کی جائے،یا بحال کی جائے؟
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو صلاحیتوں سے نوازا ہے۔اس کے لیئے خود اپنے آپ کو پہچاننا ہو گا۔اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کا ادرک اورا ن کو ابھارنا ہو گا۔
آپ جو ہیں ،جیسے ہیں،یا آپ کے پاس جو ہے جتنا ہے،خود کو قبول کرنا ہوگا۔نہ تو آپ کسی سے کم تر ہیں اور نہ ہی بر تر۔دوسرں کی عزت کریں لیکن خود کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔
دوسروں کی رائے ہمارے بارے میں شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتی،جتنی ہماری خود کی رائے۔اس لیے خود کو کبھی کم تر نہ سمجھیں۔ لوگوں سے بھرپور انداذ میں ملیں جلیں۔اپنے افکار اور خیالات کا اظہار کریں۔
اس کے بعد آپ کو اپنے ماضی سے سیکھنا ہو گا،اپ کو ان غلطیوں کی وجہ جن کر نہیں بہتر کرنا ہو گا۔
اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں،مثبت سوچ سے ہی آپ کھوئی ہوئی توانائی حاصل کر کہ دربارہ جوش و جذبے سے میدان میں اتریں گے۔
اپنے کام کو ہمیشہ پایہ تکمیل تک پہنچاہیں۔کیوں کہ ادھورے کام ہی مایوسی کی وجہ بنتے ہیں ۔کسی بھی کام کو بار بار ایک ہی طریقے سے کرنے سے بوریت کا احساس ہونے لگتا ہیمے اور دل اکتا جاتا ہے۔اس لیے کوشش کریں اپنے کام میں جدت لائیں۔جس سے ہمیں نئی نئی ترکیبیں سمجھ میں آہیں گی اور خفیہ صلاحیتیں بھی اجاگر ہوں گی۔ہر کام کو عمدگی سے انجام دیں جس سے خود پر یقین اور زیادہ پختہ ہو جائے۔
لوگوں کی تنقید کو آپ کیسے لیتے ہیں یہ آپ کی کامیابی و ناکامی میں بہت معنی رکھتی ہے۔اس لیے مثبت تنقید سے خود کو بدلیں جب کہ منفی تنقید کو ہرگز خطر میں نہ لائیں۔منفی تنقید میں خود کو الجھائے رکھیں گے تو آپ کے قدم ڈگمگائیں گے۔اس لیے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔
کوشش کبھی نہ چھوڑیں،کسی بھی ناکامی کو تقدیر کا لکھا کہہ کر راہ فرار نہ اختیار کریں۔
آپ منزل کی ٹھن لیں اور ناکامی کا تصور ذہن سے نکال دیں۔خود اعتمادی ہی کامیابی کی ضامن ہے۔

تحریر؛ ثمرا اشفاق

آپ ثمرا اشفاق کو ٹویٹر پر @sam_IK11 بھی فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں