2

لاشیں تو لوٹا دو

‏چوہتر سال سے جاری تحریک آزادی کشمیر کبھی ایک دم جوش پکڑتی تحریک اور کبھی دن توڑتی کاوش ثابت ہو رہی ہے کشمیریوں نے تحریک آزادی بہت سے فسادات کے جنم لینے کے بعد لڑنے کا فیصلہ کیا چوہتر سال سے جاری تحریک میں لاکھون شہداء کے جانیں قربان کیں کشمیر کو کئی مخلص رہنما بھی ملے اور زیادہ منافق اور دوغلے سیاستدان بھی جنہوں نے کشمیر کے نام پر اپنی روٹیاں تھاپی کشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر المعروف آزاد کشمیر کو تحریک کا بیس کیمپ کہا گیا مگر اس بیس کیمپ میں کشمیر کے مخلص اور تحریک کے وارث نمک میں آٹے کے برابر بھی نہی دکھے البتہ تحریک کے لیے لاکھون نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور اپنے خون سے سرزمین کشمیر کو پاک کرتے ہوئے گواہی دیتے چلے گئے کہ غلامی کشمیریون کی سرشت میں موجود نہی اور مٹی کو قبول نہی چند اہم اور مخلص کشمیری رہنماؤں نے ہتھیار اٹھا کر کشمیر کی تحریک کو جان ڈال کر دشمن کے اہنی پنجوں سے چھڑانے کا فیصلہ کیا مگر کشمیر کے خلاف جو سوچی سمجھی سازشیں ہو رہی تھیں ان سازشوں نے اس وقت کے رہنماؤں کو ہتھیاروں کی بجائے سیاسی حل کا منافقانہ مشورہ دیا یا شاید غلط مشورہ دیا جس سے کشمیری تحریک جو کہ زور پکڑ سکتی تھی اور کشمیری وادی ظالم کے چنگل سے آزاد ہو سکتی تھی اس سیاسی تگ و دو کے فیصلے کی نذر ہو گئی اور روز کشمیری شہید ہوتے چلے گئے اور یہ سلسلہ آج 2021 میں بھی رک نہ سکا بلکہ مخلص کشمیری رہنماؤں کو وقتاً فوقتاً گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ دس دس سالوں سے زیادہ عرصے سے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور کشمیری نوجوان جو وطن کی خاطر نکلتے ان کو طاق طاق کر شہید کیا جاتا رہا یہاں تک کہ اب مجاھدین نہی بلکہ عام عوام کو بھی مجاھد کہہ کر نشانہ بنایا جا رہا اور ظلم کا عالم یہ ہے کہ لاشے تک لوٹائے نہی جا رہے
کشمیر کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں اور بدترین حالات کسی بھی ذہن میں اس سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ کہیں کشمیر پر مکمل قبضہ کا کوئی پلان تو نہی ہو رہا یا کشمیر کی آبادی کا تناسب بدل کر اس میں اپنے لوگوں کی آبادکاری کر کے پھر ریفرنڈم کے نام پر ایک ڈرامہ ہو گا اور کہیں یوں کشمیر پر قبضہ کے خواب تو نہی دیکھے جا رہے؟ اور حد ظلم یہ ہے کہ بےگناہ لوگوں کو گھروں سے نکال کر ‘ گاڑیوں سے نکال کر جھوٹے الزامات لگا کر شہید کیا جا رہا ہے اور پھر کشمیریوں کے احتجاج کے خوف سے لاشیں بھی ورثاء کو نہی دی جارہی اور جب کشمیری ان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو کہا جاتا ہے آپکا کیس یو این او میں پڑا ہے اور یو این او تو یوں خاموش ہے گویا کشمیر میں انسان نہی گاجر مولیوں کو کاٹا جا رہا ہے یو این او تو گویا صرف طاقتور ممالک کا جتھا ہے او آئی سی مسلم ممالک سب یوں آنکھیں پھیرے بیٹھے ہیں گویا آگ انکے گھروں کو پہنچنے کی ہی نہی یہ مت سمجھیں کہ یہ آگ آپکے گھروں کو نہی پہنچے گی کہ چراغ سب کے بھجیں گے ہوا کسی کی نہی
خدارا کشمیر ‘ شام کے لیے بولیے ‘اٹھیے اس سے قبل کے انصاف آسمان سے اترے
یاد رکھنا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قاتل صرف چار تھے جبکہ باقی قوم کا جرم خاموشی تھا

تحریر؛ عامر خان

آپ عامر خان کو ٹویٹر پر بھی @AmirKhan4rmJK فالو کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں