6

صحافی اور ٹوکری

ٹوکری لفظ بہت خوبصورت ہے اور عام طور پر لوگ اسے تحفہ تحائف دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ٹوکری کا استعمال ایک زمانے سے چلا ارہا ہے شادی بیاہ کے مواقع پر دلہن کے لیے جو چیزیں کسی ایک ہی پیکٹ میں سجائی جاتی ہیں اسے ٹوکری کہتے ہیں۔ سامان کی ٹوکریوں کے ساتھ ساتھ فروٹ کی ٹوکری، مٹھائی کی ٹوکری، ڈرائی فروٹ کی ٹوکری اور بتاشوں کی ٹوکری شامل ہے۔ لیکن ہمیں ان ٹوکریوں کا استعمال نیا معلوم ہوا ہے کل یعنی سیاست کی ٹوکری،یعنی صحافتی ٹوکری۔ جی ہاں جیسے پہلے صحافیوں کو لفافے دیے جاتے تھے انکے زاتی مسائل حل کر کے انکی زاتی مدد کی جاتی تھی اور اپنے حق میں راہ ہموار کی جاتی تھی۔ میڈیا کا استعمال چاہے پرنٹ ہو،الیکٹرانک ہو یا پھر سوشل اس پر اپنے زاتی صحافیوں کی مددسے اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کی جاتی تھی۔ صحافی پہلے لفافے لیتے تھے اور لفافہ نا دینے والوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے تھے پھر لفافوں سے کچھ صحافیوں کو اختلاف ہواتو انہیں پلاٹس دیے گئے پیٹرول۔پمپس دیے گئے، پی سی بی کا چیئرمین لگایا گیا، سفیر بنایا گیا۔ جب عام عوام کی طرف سے اس پر غم و غصہ کیا گیا تو کچھ خواتین شامل کی گئیں جنہیں سرکاری دوروں پر ساتھ لے جایا گیا سرکاری حج کروائے گئے، بڑے میڈیا چینلز پر رسائی آسان بنائی گئی۔ جب اس سے بھی کام نا چلا تو پورے پورے چینلز ہائی جیک کیے گئے مخالفین کی پگڑیاں اچھالی گئیں، کچھ صحافیوں کو پیسے تو کچھ کو ٹوکریاں بھیجی گئیں اب سوال یہ ہے کہ ٹوکریوں میں تھا کیا؟ کیا صرف پھل تھا، ڈرائی فروٹ تھا، بتاشے تھے یا پھر ڈالر؟ مریم نواز جوکہ خود کو میڈیا مینجمنٹ کی چیمپئن سمجھتی ہیں وہ یہ نا سمجھ سکیں جنکی ویڈیوز بنانے اور ریلیز، کرنے یا لیک کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں انہیں کی طرف سے انکی آڈیوز لیک ہوجائیں گی۔ ایک آڈیو پہلے لیک ہوئی جس میں اعتراف تھا کہ جیو جنگ گروپ اور دنیا نیوز نے کیسے مخالفین یعنی تحریک انصاف کی جئی تئی پھیر دی ہے۔ اور اب انکی لیک ہونے والے آڈیو میں نا صرف رشوت دینے کی بات ہورہی تھی بلکہ ساتھ نادینے والے صحافیوں کو بھونکنے والا کتا کہا گیا اس سے پہلے بلاول زرداری بھی کتا کہہ چکے ہیں۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ آزادی رائے کے علمبردار حامد میر ہو، سلیم صافی ہو یا عاصمہ شیرازی تاحال خاموش ہیں اب یہ سمجھ سے باہر ہے کہ یہ ساتھ دینے والے کتے ہیں یا بھونکنے والے۔ یہ روایاتکب تک رہے گی کہ انسانوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے انہیں پھر کتا کہیں گے۔ یا یہ بھی کہ جاسکتا ہے کہ ان کی نظر میں دونوں قسم کے انسان کتے ہیں ایک وہ جو پاؤں چاٹتے ہیں اور ٹوکریاں وصول کرتے ہیں اور دوسری قسم ان کتوں پر مشتمل ہے جو ٹوکری نا ؤصول کرنے کے جرم بھونکنے والے کہلائے گئے۔ جہاں سیاسی روایات کو بدلنے کی ضرورت ہے وہیں اخلاقی اور صحافی روایات بدلنے کی بھی ضرورت ہے۔

تحریر؛ ارم رائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

صحافی اور ٹوکری“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں