52

اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار

کسی بھی قوم کی خواتین کا اس قوم کی تعلیم و تربیت میں جو حصہ ہوتاہے وہ کسی تشریح و بیان کا محتاج نہیں. ماں کی گودبچے کی سب سے پہلی درس گاہ بھی ہے اور تربیت گاہ بھی اور یہ ایسی موئثر درس گاہ ہے کہ یہاں کا سیکھا سبق ذہن و قلب پر پھتر کے نقش سے بھی ذیادہ دیر پا ہوتا ہے اور ساری عمر نہیں بھولتا. چنانچہ ملتِ مسلمہ کے لیے جتنی اہمیت مردوں کی دینی اصلاح کو حاصل ہے خواتین کی دینی تعلیم و تربیت اس سے کسی طرح کم اہمیت نہیں رکھتی. ایک تو اس لیے کے اسلامی احکام کا خطاب جس طرح مردوں کو ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہے . بلکہ بعض احکام ایسے ہیں جو خواتین سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور اس لیے کے خواتین کی تربیت باالاخر پوری قوم کی تربیت ہوتی ہے.
دنیا کی ساری چہل پہل اور گہما گہمی تنہاہ مرد کے وجود سے نہیں بلکہ اس کو آباد رکھنے اور چلانے کی صورتوں پر غور کرنے میں عورتوں کا بہت بڑا حصہ ہے. اصبابی زندگی کو باقی رکھنے اور دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کو ہر عورت مرد اپنا ( بقدر اپنی فہم و فراست اور ہمت کے ) اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے. مکان، دوکان ، جائیداد ،آل و اولاد کو سب اپنی چیز سمجھتے ہیں. حالانکہ یہ چیزیں فانی اور جدا ہونے والی ہے دین اور دین سے متعلقہ چیزیں بھی مسلمانوں کا زاتی سرمایہ ہیں اور یہ ایسا سرمایہ ہے جو کبھی بے وفائی نہ کریں اور جس کی محنت و کوش کبھی رائیگا اور ضائع نہ ہو.

دین کا علم و عمل جب مردوں اور عورتوں دونوں کےلیے ہے اور دین کو سیکھنا اور سکھانا سب کی ذمہ داری ہے تو اس فریضہ کو ادا کرنے کے لیے ہر مرد اور عورت کو کوشاں رہنا ازبس ضروری ہے. قرن اول کی عورتوں نے دین کو پھیلانے اور دین کا چرچہ کرنے میں بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں .تاریخ گواہ ہے کہ سب سے پہلے دینِ اسلامی قبول کرنے والی شخصیت عورت کی ہی تھی ” حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا ” اور سب سے پہلے جس نے اسلامی قبول کرنےکی سزا میں جامِ شہادت نوش کیا وہ بھی عورت تھی یعنی حضرت عمارات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی والدہ “حضرت سمیہ رضی اللٰہ تعالی عنہا ” ابوجہیل بدبخت کے نیزا مارنے کی وجہ سے شہید ہوئی . ان سے پہلے کوئی مرد عورت شہید نہ ہوا تھا.

بیوی کی حیثیت سے عورت اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسکا اندازہ حضرت خدیجۃالکبری رضی اللہ تعالی و عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی و عنہ کے پاکیزہ اور تاریخ ساز کرداروں سے لگایا جا سکتا ہے

آج بھی ہمارے معاشرے میں لاکھوں خواتین اپنے بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا اہم کا سر انجام دے رہی ہیں یہی نہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت پردے میں رہ کر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی پُورا کر رہی ہیں عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی عورت نے جنگوں میں زخمیوں کی خدمت کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ صنف نازک میدان جنگ میں بھی خدمات انجام دے سکتی ہیں عہد حاظر میں تعلیم اور نرسنگ کے پیشے میں خواتین بے پناہ خدمات انجام دے رہی ہیں

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردار رہا وہ آج ساری دنیا کی خواتین کے لئے ایک واضح سبق بھی ہے۔

ہماری آج کی خواتین کو چاہیے کہ ام المؤمنین، صحابیات اور تابعیات کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور اپنے اندر خود اعتمادی، عجز و انکسار، خدا شناسی اور بلند ہمتی پیدا کریں۔

تحریر؛ سیدہ ودیعہ انور

آپ سیدہ ودیعہ انور کو ٹویٹر پر بھی @its_Amanat فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں