siasidugout 45

انسانی زات کے حوالے سے کیا جانے والا سب سے زیادہ سوال

‏انسانی زات کے حوالے سے کیا جانے والا سب سے زیادہ
سوال
زندگی کیا ہے؟
یا یوں کہہ لیں کہ زندگی کا مہفوم کیا ہے؟
دوست احباب بہن بھائی سبھی پوچھتے ہیں کیا ہے زندگی؟
میں اگر خود سے یہ سوال کرتی ہوں تو مجھے لگتا کہ اگر
محض چارہ کھا کر زندہ رہا جائے تو جانور کہلائے گا
لیکن زندگی اگر انسانیت کی فلاح کیلئے وقف ہو تو مقدس فریضہ اور اس دنیامیں عارضی قیام سمجھا جائے تو موت ہے
اس سوال کو نہ تو کسی تعلیمی ادارے میں پڑھایا جاتا ہے اور نہ کہیں سے اس کی سمجھ کا کورس یا ڈگری ملتی ہے
یہ تو جنگ مسلسل ہے جو لڑے جانا
ہر کسی کے لئے زندگی کبھی ایک جیسی نہیں ہوتی
کسی کے لئے بہت ساری آسائش سے مرتب سکون میں لکھی تحریر ہے زندگی
تو کسی کے لئے جبر مسلسل ہے زندگی
سورج روز اپنے وقت پر طلوع ہوتا
لیکن اس کی کرنیں سبھی کے لئے طے شدہ روشنی لے کر نہیں آتیں
صبح سریرے کُچھ لوگ سیر کی غرض سے بہترین ٹریک سوٹ پہن کر خود کو قدرت کے قریب رکھنے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں اور کچھ لوگ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھے آج کے دن کی گزر بسر کا انتظام ہو جائے اتنا کام مل جائے تو آج بچوں کے لئے راشن آسانی سے ہو جائے گا یہ سوچ رہے ہوتے ہیں
دونوں طرح کے لوگ اپنی اپنی زندگی کو اپنے نظریے سے دیکھ رھے
کہیں بڑی بڑی گاڑیوں سے ہنستے مسکراتے بچے بے فکری میں بستے اٹھائے نکل رہے ہوتے ہیں تو کہیں وہی کوئی چھوٹاکسی ورک شاپ کا شٹر کھولتے یہ سوچ رہا ہوتا آج کام جلدی مکمل کر کے ماں کو سرکاری اسپتال لے کر جاؤں گا کافی دن سے نڈھال سی رہتی ہے اچھے سے دوائی لے کر دوں گا
کہیں چائے کے ڈھابے پر
ننھی سی جان یہ سوچنے میں ہلکان باجی کے سسرال والے دن طے کرنے آئیں گے تو انکے کھانے کا اہتمام اچھے سے ہو جائے
بچپن تو دونوں طرف ہے مگر زندگی کا مہفوم الگ
کہیں رزق حلال میں غریبی کے ساتھ شکر گزار زندگی تو کہیں کروڑوں اربوں میں گندھی حرام کی بے سکون زندگی بارشیں تو ہر کسی کو پسند ہیں
لیکن بارش سے ڈرتا ہمیشہ غریب ہے ایسا کیوں؟
اس لیے کہ اس کے گھر کی کچی چھت سے جب ٹپ ٹپ پانی گرتا تو وہ بارش کی خوشی نہیں منا سکتا وہ بس یہی دعا کرتا ہے یا اللہ بارش تھم جائے
دوسری طرف بڑے سے کھلے آنگن میں ادھ کھلی کھڑکی میں دور تک برستی بارش کو ہنستے ہوئے دیکھتا کوئی ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے ہلکے میوزک کے ساتھ دعا کرتا یا اللہ یہ موسم ایسے تھم جائے
تو پھر زندگی ایک سی کہاں؟
جبکہ ہم خود سر انا کے مارے ہوئے لوگ اللہ رب العزت
کے اس خوف ہی سے بے خوف ہو گئے ہیں
کہ لوٹ کر تو اسی کے پاس جانا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ موجودہ حالات و واقعات کی بنا پر ہمیں اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہو جانا چاہیے جس دور نفسا نفسی میں ہم ہیں ہر لمحہ ہر انسان کے لب و زبان اور دل و دماغ میں صرف خوف خدا ہونا چاہئے جب کہ ہم دوسروں کی زندگی کے معاملات کی اصلاح میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کے عیبوں پر انکو یاد کرواتے ہیں
کہ خدا دیکھ رہا ہے
خدا تو ہر حال میں ہر ایک کو دیکھتا ہے
کسی کو آزاد فکرے معاش میں پیدا کر کے دیکھتا ہے تو کسی کو وقت کی آہنی بھٹی میں جلا کر زندگی نوازتا ہے
کہیں خوشبو ہے زندگی تو کہیں میلی آلودہ ہے زندگی
کہیں خوشیوں میں بکھری ہوئی ہے زندگی تو کہیں بھوک و افلاس ہے زندگی
کہیں بارش کے پہلے قطرے کی طرح مہکتی ہوئی اور کہیں کیچڑ میں لت پت ہے زندگی
کہیں معصوم بچے کی قلقاری ہے زندگی تو
کہیں بین و ماتم کرتی نوحہ کنا ہے زندگی
کہیں دلہن کے ہاتھوں میں رچی مہندی سی ہے زندگی تو کہیں شہید کے پرچم میں لپٹی ہوئی ہے زندگی
ناں کبھی کوئی سمجھ سکا ہے اور ناں سمجھے گا کیا فلسفہ ہے زندگی لیکن
اطاعت و بندگی اور رب سے جڑے رہنے کا نام ہے زندگی
خود سے وابسطہ رشتوں میں زات کو نفی کرنے انکے لیے باعث راحت و چھاؤں ہے زندگی
کہیں ماں کے آنچل میں قہقہے لگاتی ہے زندگی تو کہیں باپ کے کندھوں پر اٹھائے فکروں زمہ داریوں کا نام ہے زندگی

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
ندا فاضلی

تحریر ؛ ارم چوہدری

آٔپ ارم چوھدری کو ٹویٹر پر بھی ‎@IrumWarraich4 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں