siasidugout 60

‏ہم اور ہمارے دہرے رویے !

وہ میں آپ مل کر ہم وجود میں آتا ہے ہم سب دیکھنے میں تو سب ساتھ ہیں لیکن ہم سب ایک الگ نظریہ رکھتے ہیں وہ ہے ہمارے معاشرے میں دہرے رویے جس کی پہلی مثال غریب اور امیر رشتہ داروں میں رویوں کا فرق ہے اگر ہمارے گھر میں کوئی امیر رشتہ دار آئے تو ہماری کوشش ہوتی کہ اچھی سے اچھی چیزوں اور کھانوں سے انکی خاطر خدمت کی جائے اور اگر کوئی غریب رشتہ دار آئے تو اسے معمولی خاطر داری سے ٹرخانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح ہر کام کیلئے ہمارے پیمانے الگ ہیں ایک دوسرا جو سب سے تلخ رویہ ہے آنے والی بہو کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے ہمارا سسرالی معاشرہ بہت ظالم ہے بیٹی کیلئے الگ سوچ ہے بہو کیلئے الگ پیمانہ اپنی بیٹی کیلئے ہماری سوچ ہے کہ سب سے الگ تھلگ رہے اور بہو کیلئے یہ سوچ ہے ساری زندگی ساتھ رہے حالانکہ شریعتِ نے یہ حق دیا ہے بہو کو الگ گھر کا بندوست کریں اگر الگ گھر نہیں دے سکتے تو کمرہ باتھ روم اور کچن کا انتظام کریں یہ آنے والی کا حق رکھا ہے اس لیے کہ اس نے تمہاری نسل کو سنبھالنا ہے اگر یہ ساس کی بھی سنے سسر کی بھی سنے نندوں کی بھی سنے دیور کی بھی سنے اور پھر خاوند کی بھی سنے وہ بچے کب پالے گی یہ بچوں کی تربیت کب کرے گی اس کو تو بچے پالنے وقت ہی نہیں ملے گا ہماری نسل کیوں برباد ہوئی کیونکہ ماؤں نے اپنی ڈیوٹی چھوڑ دی تین سال کا بچہ سکول میں ڈال رہے ہیں میرے نبی نے کہا سات سال تک نماز کا نہ کہو گلے سے لگا کے رکھو اس کو قریب رکھو تین سال کے بچے کو ڈالتے ہیں سکولوں میں بچے کے لا شعور میں ماں باب سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے تو جب بیوی پر پورے گھر کا بوجھ پڑ گیا وہ اپنے بچوں کی تربیت کب کرے گی اس لیے ہمارے میں بگاڑ پیدا ہو گیا بنیادی مقصد ختم ہو گیا تربیت نہیں ہے اس لیے ہمارا معاشرہ بگڑ گیا ہے ہم سب کو تربیت کی ضرورت ہے جب تربیت ہوگی تو معاشرہ میں سدھار آئے گا
اس کیلئے ہمیں دین کی تعلیم کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے

تحریر؛ ثمن بلوچ

آپ ثمن بلوچ کو ٹویٹر پر بھی فالو @SamanBloch کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں