siasidugout 56

‏ہم اور ہماری اخلاقی پستی

بحثیت قوم، بحثیت مسلمان اور بحثیت انسان ہماری بہت سی ذمداریاں ہیں جو ہم پوری کرنے کے بجاۓ شغل میلا لگانے میں مصروف ہیں۔

بحثیت مسلمان ہمارے کندھوں پر سب سے زیادہ ذمداری ہے۔ ہم اس نبی (حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم )کے امتی ہیں جن کو اللّه نے ایک قوم، ایک شہر ، ایک ملک یا آدھی دنیا کے لیے نہیں بلکے پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ ہمیں سب سے بہترین مہذب اور بہترین کتاب دی ہے۔

ہمارے لیے نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ایک بہترین عملی نمونہ ہے۔ جو ہماری اخلاقیات، معاشرات ، انسانیت ، معاشی معملات غرض زندگی کے ہر معملے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

ہم سے پہلے بہت سی قومیں برباد ہوئی جس کی وجہ ان میں موجود صرف ایک برائی ہوتی تھی، اور میرا رب پوری کی پوری بستیاں پلٹ دیتا تھا۔ پھر اللّه نے اپنے پیارے محبوب حضور اکرم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو پوری دنیا کے لیے نبی اور رحمت بنا کر بھیجا اور دین کو مکمل کردیا اور ہمیں زندگی گزرنے کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات دیا کے جس کے مطابق ہم زندگی گزار کر ایک بہترین انسان اور بہترین مسلمان بنیں۔ لیکن ہم ایسے لوگ بن گے جو ایک نہیں بیشمار برائیوں اور گناہوں کو اختیار کر چکے ہیں۔
چوری ، رشوت خوری ،ملاوٹ ، دوسروں کا حق مارنا ، قتل ، جوا ، شراب نوشی، ناپ تول میں ڈنڈی مارنا اور جھوٹ بولنا تو ہمارے لیے بہت عام سی بات ہے۔

اسلام حقوق اللّه سے زیادہ حقوق العباد پر زیادہ زور دیتا ہے لیکن ہم صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہمیں اپنے آپ سے زیادہ دوسروں کی فکر اس لیے ہوتی ہے کے کہی وہ ہم سے زیادہ ترقی تو نہیں کر رہا۔ہم یہ کبھی نہیں دیکھتے کے ہم کیا کر رہے ہیں لیکن ہم یہ ضرور دیکھتے ہیں کے دوسروں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کسی کے ساتھ اچھا ہوتا دیکھ کر حسد اور برا ہوتا دیکھ کے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنا ہمارا قومی مشغلہ ہے۔
بطور مسلمان ہمیں باقی لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا تھا دنیا کے لیے مثال بننا تھا لیکن ہم خود ہی اپنے راستے سے ہٹ گے ہیں۔ فرقہ واریت اور شدت پسندی اختیار کر چکے ہیں۔ ہمیں اسلام صرف اپنے فائدے کے لیے یاد آتا ہے ورنہ تو ہمیں یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ کتنی نمازیں فرض ہیں۔ آج دنیا مسلمان کو شدت پسند اور دہشت گرد کے نام sسے جانتی ہے اور اس میں ہمارا اپنا قصور ہے، ہم نے پیسے کے لیے اپنا دین ایمان سب کچھ بیچ دیا۔

بحثیت پاکستانی آج ہمارا معاشرہ انتہائی پستی کا شکار ہے ہم نے الگ ملک اسلام کے نام پر حاصل تو کرلیا لیکن اسلامی ملک بنا نا سکے۔اور یہ سب اپنے مذہب سے دوری کی وجہ سے ہے۔
ہمارے پاس فلمیں ڈرامے دیکھنے کا ٹائم ہے نماز کا نہیں، ہم ایک رات میں سیزن تو ختم کر لیتے ہے لیکن قرآن پڑھنے کی توفیق نہیں ہے۔ ہمیں تکلیف کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی تکلیف ہمیں ہوتی ہے۔ ہم اپنی تکلیف کو اپنی آزمائش یا کسی کی نظر بد قرار دیتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف کو ان کے گناہوں کی سزا سمجھتے ہیں۔

ہم نے ماڈرنیزم کے نام پر بےحیائی کو فروغ دینا شروع کردیا ہے۔
ہم نے آزادی رائے کے نام پر اپنے لوگوں کو ہر اس بات کی اجازت دے رکھی ہے جو ناقابل قبول ہے۔
ہمارے ٹی وی شوز ، مارننگ شوز، گیم شوز
اور ڈراموں میں وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو ہماری تہذیب کا حصہ ہے ہی نہیں۔
ہماری نو جوان نسل بے راہ روی کا شکار ہے جس نے اپنے مذہب اور اقدار کو اگے لے کے جانا تھا لیکن وہ نو جوان دوسروں کی تہذیب کو اپناۓ ہوئے ہیں۔
ہم کہیں سے بھی اسلامک مملکت کے باسی نہیں لگتے۔

ہم تو بحثیت انسان بھی نا کام ہوئے ہیں۔
ہم اتنے بےحث ہے کے ہمیں کسی دوسرے کی تکلیف کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
ہماری کوشش ہوتی ہے کے کسی کے پاس اگر ہم سے کچھ بہتر ہے تو یہ ہم اس سے چھین لیں یا وہ کسی بھی صورت دوسرے کے پاس نا رہے۔ ہمارا مذہب ہمیں اپنے چھوٹوں سے پیار اور اپنے سے بڑوں سے احترام سے پیش آنے کا کہتا ہے لیکن ہمیں پیار صرف امیر کے بچے اور احترام صرف امیر کا کرنا آتا ہے۔
ہم بے اپنا معیار اخلاقیات اور تقویٰ کو نہیں دولت کو بنا لیا ہے۔ جو ہماری پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے

اگر ہمیں بحثیت مسلمان اور انسان کامیاب ہونا ہے تو اپنی زندگی اسلام کے بتاۓ ہوئے اصلوں کے مطابق گزارنی پڑے گی ورنہ ہم مزید پستیوں کا شکار ہوتے جاینگے۔

تحریر؛ سائیرہ عبید

آپ سائیرہ عبید کو ٹویٹر پر بھی فالو @Saira__Sheikh کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں