70

ہم اور ہمارا معاشرہ

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ظاہری چمک دھمک کے پیچھے بھاگتے ہیں، کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہیں کرپاتے اور ساری زندگی کا پچھتاوا مقدر بن جاتا ہے ہم اس بات سے لاعلم ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ صرف ہماری لاعلمی کی وجہ سے ہے ، یہ بات کہہ دی جائے تو غلط نا ہوگا ہم معاشرے کی کردار سازی میں اپنا کردار ادا نہیں کررہے ، ہم سب جانتے ہوئے بھی اچھےاور غلط کے فرق میں ناکام ہیں ، غریب کے لیے آواز اٹھانے میں ، برائی کے خلاف آواز اٹھانے میں اور ریاست انصاف دینے میں ناکام ہے

ہمارا المیہ یہ ہے کہ غلطی ایک عورت کرتی ہے اور اسکا تاوان خاندان کی ہر لڑکی کو ادا کرنا پڑتا ہے اور ہر لڑکی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہ جو بےجا سختیاں اور پابندیاں ہوتی ہیں نہ یہی انسان کے اندر ڈر پیدا کرتی ہیں(اور بغاوت پر بھی یہی اکساتی ہیں) اس ڈر کا غلبہ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ایسے ماحول میں پرورش پانے والا انسان اگر محتاط رہتے ہوئے بھی کوئی غلطی کرجائے تو اس غلطی کو چھپانے کے لیے اس انسان سے اور بھی بہت سی غلطیاں ہوجاتی ہیں، اپنے مزاج میں کم از کم اس حد تک تو لچک رکھیں کے آپکا بچہ یا بچی یا اور کوئی بھی فرد اگر کوئی غلطی کر بیٹھے تو اس غلطی کو سدھارنے کے لیے اسے آپکی مدد لینے میں کوئی ڈر محسوس نہ ہو، وہ کھل کر آپسے بات کر سکے، اگر مار دھاڑ یا ڈنڈے سوٹوں سے بچے سدھرتے تو ہمارے ملک کا ہر فرد آج نہ صرف شریف ہوتا بلکہ ہمارے معاشرے میں اور بھی بہت سے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہوتی

کسی بھی معاشرے کی کردار سازی کی ذمہ داری اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد پر عائد ہوتی ہے ، جرائم میں ملوث برے لوگوں کے ساتھ اچھے لوگ بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں ، اچھے لوگوں کی خاموشی ان لوگوں کو مزید مضبوط سے مضبوط کرتی جاتی ہے یہاں تک کہ جرائم کو روکنا ناممکن ہوجاتا ہے، ہمیں معاشرے کی کردار سازی میں اپنا اپناکردار ادا کرنا ہوگاتاکہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک اچھا ماحول دے سکیں

ہمارے سرپرستوں کو جس عمر(12-20) میں بچے کے بگڑنے کا خدشہ ہوتا ہے( اور اسی خدشے کے باعث وہ ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہماری ہر ایک حرکت پر کڑی نظر کھتے ہیں) درحقیقت یہی وہ عمر ہے جب انھیں بچے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر کے بچے کی رہنمائی کرنی چاہیے… خدارا اپنے بچوں کی شخصیت کو اپنے کو سابقہ تجربوں اور معاشرتی بدفعلیوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ان میں خود اعتمادی پیدا کریں انھیں کچھ بھی نیا کرنے سے نہ روکیں روک ٹوک بچے میں تجسس پیدا کرتی ہے، اسے سرکش بناتی ہے لہذا بچے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کریں اور یاد رکھیں دوست بننے اور دوستانہ رویہ رکھنے میں فرق ہوتا ہے واضح رہے کہ فیصلہ بچےے کا اپنا ہوگا
لیکن اس فیصلے کے پیچھے رہنمائی اور رضامندی آپکی ہونی چاہیے!!!!

تحریر: پیرزادہ عبدالاحد خان

‎@Aahadpirzada

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں