Housing societies predict disaster 1

ہاؤسنگ سوسائٹیز تباہی کا پیش خیمہ

پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلنے میں ہر ادارے نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے چاہے وہ سرکاری ادارہ ہو یا پرائیویٹ ادارہ بالکل اسی طرح آجکل ہاؤسنگ سوسائٹیز والوں نے گورکھ دھندا شروع کیا ہوا ہے جو پاکستان کو ترقی کی طرف لے جانے کے بجائے تیزی سے تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے

پاکستان کے کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے لوٹ مار کر کے بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی کا کاروبار شروع کیا یا جو آج کل عروج پر ہے

مسلسل ہاؤسنگ سوسائٹیز بننے کی وجہ سے چونکہ گھروں کی تعمیر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس سے سریا سیمنٹ ریت بجری اور دیگر تعمیراتی اشیاءطلب کی وجہ سے تیزی سے مہنگی سے مہنگی ہو رہی ہیں اور اب غریبوں کو چھت بنانے میں مشکل پیش آ رہی ہے

اس کے علاوہ ہر چپے پر ہاؤسنگ سوسائٹی شروع ہونے سے زرعی رقبہ جات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں جسکی وجہ سے سے سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے

وزیراعظم عمران خان کے گرین پاکستان ویژن کے مطابق بھی زرخیز اور سرسبز زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانا سراسر غلط ہے جیسا کہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی بالکل بنجر زمین پر بنے گی اگر ایسا ہوگیا تو ہی پاکستان کے لئے بہتر ہوگا ورنہ غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا ہو گا

پاکستان کی بیوروکریسی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے میں بالکل ناکام ہو گئی ہے کرپشن اور رشوت ستانی کی وجہ سے بیورو کریٹس ان غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی جاری کر دیتے ہیں اس کے علاوہ تعلق اور رشتہ داری کی بنا پر بھی این او سی جاری کر دیے جاتے ہیں۔

چونکہ میں بھی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں ملازمت کرتا ہوں اس لئے میں بخوبی واقف ہوں کہ بیوروکریٹس این او سی تو دور کی بات ایک رپورٹ بنانے کے لیے بھی لاکھوں روپے رشوت وصول کرتے ہیں اور اس کام کے لیے انہوں نے اپنے فرنٹ مین رکھے ہوتے ہیں

آج دیکھیں میرے سرگودھا شہر میں 146 ہاؤسنگ سوسائٹیز وجود رکھتی ہیں اور ان میں دھڑا دھڑ غیرقانونی سیل کا سلسلہ جاری ہے کچھ ہاؤسنگ سکیمز تو ایسی ہیں جو لوگوں سے پیسہ بٹور کر بھاگ گئی ہیں یہ صرف سرگودھا میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہو رہا ہے

ہاؤسنگ سوسائٹی کے بڑھنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ پانچ سے سات سال کے بعد پاکستان کو سبزیوں اور پھلوں کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے لوگ بھوک اور افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اس لئے حکومت کو نوٹس لیتے ہوئے ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار کو فی الفور روکنا چاہیے تاکہ مستقبل میں غذائی اجناس میں کمی واقع نہ ہو اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن کے کچھ افراد بھی ملوث ہیں ہیں جس کی وجہ سے اس مافیا پر ہاتھ ڈالنا حکومت کے لیے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے

ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کے لیے بیوروکریسی کو کروڑوں روپے کی رشوت دی جاتی ہے تب جاکر منظوری ملتی ہے اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کرپشن کی آماجگاہ بن چکی ہیں خدارا ہاؤسنگ سوسائٹیز کو لگام ڈالیں کہیں دیر نہ ہو جائے

تحریر؛ صداقت حسین علوی

آپ صداقت حسین علوی کو ٹویٹر پر بھی @AlviViews فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں