siasidugout 63

‏گناہ کی جسٹفکیشن نہیں ہوتی

میں نے سوچا تھا کے اب اقبال پارک والے واقع پر بحث نہیں کرو گی لیکن چونکہ اب گریٹیر پارک والا مثلا ایک نیا رخ اختیار کر چکا ہے وہ بھی ٹویٹیر کے انویسٹیگیشن جرنلسٹس کی وجہ سے ، تو میں نے سوچا جرنلسٹ تو میں نے بھی بننا ہے اور ڈگری بھی لے رہی ہوں تو کچھ ہم بھی انویسٹیگیٹ کریں اور اپنا حصہ ڈالیں۔
تو شروع کرتے ہیں

جب یہ واقع ہوا تو اس واقع پر بحث کرنے والے 2 طرح کے لوگ تھے، ایک وہ جو کہتے تھے کے یہ سراسر زیادتی ہوئی ہے کسی کو بھی حق نہیں پوھنچتا کے کسی بھی لڑکی کی عزت اس طرح اچھالی جائے اور ایسے لوگوں کو درندے قرار دے رہے تھے۔
ایک دوسرے وہ لوگ تھے جو کہ رہے تھے کے لڑکی کی بھی غلطی ہے ،وہ ٹک ٹوکر تھی فحش ویڈیوز بناتی تھی اس کو وہاں جانا نہیں چاہے تھا۔ لیکن ایسا کرنے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔
تو اس بحث کے دوران کچھ لوگوں نے سوچا کے اس میں مزید تڑکا لگایا جاۓ،اور اقرار حسن اور شامی کیوں ساری ریٹنگ لے جایں۔
تو ایک انویسٹیگیٹ جرنلسٹ صاحبہ نے ایک شوشا چھوڑا کے یہ سب ایک پلان ہے جو کے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ لو جی پھر کیا تھا ہو گئی ہماری عوام شروع کے ضرور ایسا ہی ہوگا ویسے بھی ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے کا ویسے ہی بہت شوق ہے۔
تو ان جرنلسٹ صاحبہ کے ٹویٹ کے بارے میں ابھی لوگ بات کر ہی رہے تھے کے ایک صحافی صاھب نے بھی ٹویٹ کردیا کے محترمہ نے “نوا کٹا کھول دیا ہے” ساتھ ہی محترمہ نے اقبال پارک میں درندگی کا نشانہ بننے والی عائشہ کی ایک انسٹا گرام کی تصویر اپلوڈ کی اور کہا کے یہ واقع کے اگلے دن کی تصویر ہے تو یہ ثابت ہوتا ہے کے یہ ڈرامہ تھا بھلا محترمہ کیسے اس واقع کے بعد تصویر اپلوڈ کر سکتی ہے، ایک وڈیو بھی دکھائی کے اس میں لڑکی کے ساتھ دریندگی سے پہلے وہ کیسے لوگوں کے ساتھ تصویریں اور ویڈیو بنوا رہی ہے۔
اس کے بعد ایک اور وڈیو سامنے ای جس میں عائشہ نامی لڑکی گلا کرتی نظر آ رہی ہے کے آپ نے میرے ساتھ ایسا کر کے اچھا نہیں کیا، ایک اور اعترض جو سامنے آیا کے اس لڑکی کے ساتھ 400 لوگوں نے بدتمیزی کی تو اس کے منہ پر ایک نشان تک نہ تھا اور یہ واقع 14 تاریخ کو ہوا تو اسکا چرچا 17 اگست کو کیوں کیا گیا؟ یہ ضرور پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
لو جی فر کی سی سارا ٹویٹیر انے واہ ان محترمہ کی انویسٹیگیشن کا فین ہو گیا اور تاریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے۔

تو اب ہم اگر ان سب باتوں پر غور کریں تو کچھ باتیں اور بھی توجہ طلب ہے۔
پہلی بات بیشک وہ لڑکی ٹک ٹاک بناتی تھی لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کے اپ اس کی کپڑے پھاڑ دیں اور اسکو ہوا میں اچھالیں۔ مہذب معاشروں میں ایسی بیغرتی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی،

ایک ویڈیو اور منظر عام پر ای جس میں اس لڑکی کے ساتھ لڑکا ریمبو کہ رہا تھا ہم آپکو سرپرائز دیں گے تو وہ کون۔ سا سرپرائز تھا ؟ تو کیا وہ یہ ہی سرپرائز تھا کے وہ پاکستان کو بدنام کریں گے؟؟
تو یہاں میرا ایک سوال ہے کے آپکو اس بات کا کیسے یقین ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سازش کا ہی سرپرائز تھا ؟ یہ ویڈیو واقع سے پہلے کی ہے تو ہو سکتا ہے اس لڑکی نے یہ سرپرائز دیا ہو کے میں اقبال پارک جاؤں گی تو میرے فینز وہاں آ کر میرے ساتھ سیلفیاں بنا لیں۔ اس میں یہ تو کہی بھی ثابت نہیں نہ کے اس نے پاکستان کے خلاف سازش کی ہوگی۔اور اپکا یہ اعترض سرپرائز والا کہ اس لڑکی کی ساتھ ہونا ہی ایسے چاہیے تھا کیوں کے وہ لوگوں کو بلا کر وہاں گئی تھی تو یہ ختم ہو گیا کے سرپرائز کا مطلب اپنے فینز کو بلانا ہی تھا۔

اس کے بعد یہ اعترض کے لڑکی اس واقع سے پہلے تو بڑے مزے سے تصویریں بنوا رہی ہے اور لڑکا ريمبو اس کے گلے میں باہیں ڈال کے گھڑا ہے تو پھر 400 لوگ اگر اس کے کپڑے نوچ رہے ہے تو کیا غلط ہے اس میں ؟
تو گزارش ہے کے ريمبو کے ساتھ اس کی ایک نہیں بے تحاشا ویڈیوز ہے ہو سکتا ہے ريمبو اسکا قریبی دوست یا کوئی خاص ہو اور اگر اس نے اس کے گلے میں باہیں ڈال لی تو اس بات کو کیسے جسٹیفای کیا جا سکتا ہے کے 400 درندے مل کر اس کے کپڑے نوچ دیں۔ ایک لڑکی نہیں تو انسان ہو کر سوچیں کے ایک لڑکی کو بھرے مجمع میں نگا کردیا جاۓ اور کہا جائے کے اچھا ہوا ہے تمہارے ساتھ تو یہ اپ کے گھٹیا ہونے کی اور گھٹیا تربیت کی نشانی ہے۔

اس کے بعد یہ اعترض کے یہ واقع اتنی دیر کے بعد کیوں لایا گیا منظر عام پر تو ایک سوال آپ سے ہے کے اگر ہمارے گھروں میں کسی کے ساتھ اللّه نہ کرے ایسا ہو تو ہم کیا کریں گی ؟ اگر یہ پاکستان کر خلاف سازش ہوتی تو اس واقع کو اسی دن اچھالا جاتا کے آج یوم آزادی ہے اور مینار پاکستان سے ملحقہ پارک میں اتنا بھیانک واقع پیش آیا۔ پاکستان میں تو آزادی اور عزت کا کوئی محافظ ہی نہیں ہے۔اور اپکی سازش والی بیہودہ بات کا جواز بھی یہاں ختم ہو جاتا ہے۔
ایک اور بات جو تصویر والی کی جا رہی ہے تو یہ تصویر اگر واقع کے اگلے دن کی ہے تو مجھے بتایں اگر یہ کوئی سازش ہوتی تو کیا اس کہانی کے سكریپٹ رائیٹر اتنے کچے تھے کے انکو دھان ہی نہیں رہا کے تصویر اپلوڈ نہیں کرنی ورنہ ہم پکڑیں جایں گے۔
جب یہ واقع منظر عام پر آیا ہی نہیں تھا اس وقت تو تصویر اپلوڈ کرنے والا جواز تو ختم ہو گیا۔
ایک اور بات کی گئی کے 400 لوگوں نے درندگی کی لیکن چہرے پر ایک بھی نشان نہیں، تو اطلاعاً عرض ہے کے اس لڑکی کے کپڑے پھاڑ کر پرائیویٹ بوڈی پارٹس کے ساتھ دست درازی کی گئی ہے جو کے وہ لڑکی اپنی ویڈیو میں بتا چکی ہے تو کیا وہ اب یہ سب ثابت کرنے کے لیے آپکو نگا ہو کر پھر سے دیکھاے ؟؟

ایک ویڈیو کے جس میں وہ ٹک ٹاک بنا کر گلا کر رہی ہے تو اسکا گلا کرنا بنتا بھی ہے۔

یہ سارے اعترضات کا تسلی بخش جواب تھا۔ اگر اب بھی کوئی تسلی کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں ۔

اب اتے ہے ٹویٹیری انویسٹیگیشنیسٹ کی طرف

پہلی بات کے ایک محترمہ کے ٹویٹ سے پہلے کسی نے بھی ایسی کوئی بات نہیں کی اور جب انہوں نے کی تو اس کے بعد لوگوں نے اس پر بات شروع کی،،، اور اس کے بعد صدیق جان نے ٹویٹ کی محترمہ نے نوا کٹا کھولا ہے تو میرا سوال ہے کہ صدیق جان کو کیا پڑی کے ایک ٹویٹر یوزر کے پیچھے لگ کر کہے کے یہ نوا کٹا کھلا ہے،،،صحافت یہ ہے ؟؟
اور ٹھیک صدیق جان کے ٹویٹ کے بعد جب سب نے اس پر بات کی تو جو کچھ لاجکس دی جس کا میں جواب دے چکی ہوں ،، اس کے بعد وصال خان کا ٹویٹ آیا کے اب انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی بدنامی ہوگی تو ٹھیک اسی وقت ہی کیوں ایک ٹویٹ منظر عام پر آیا جس میں ایک غیر ملکی میڈیا اس مسلے کو ہائی لائٹ کر رہا ہے،، اور اس کے فورن بعد انڈین میڈیا کی باتیں ہونے لگی تو یہ سب اپ کے ٹویٹ کے بعد ہی کیوں ہوا اور وینا ملک صاحبہ جو کے سارا دن سے افلائن تھی آتی ہے اور آپ کے حق میں ٹویٹ کرتی ہیں۔ یہ سب اتفاق تھا یا یہ سب اپکی سوچی سمجھی سازش تھی ؟؟ یا پھر یہ ہو سکتا ہےکے جب آصف غفور صاھب DGISPR تھے تو انھوں نے کچھ لوگوں کو فالو بیک دیا تھا ، وینا مّلک کو بھی ان کے کافی قریب سمجھا جاتا تھا، تو اس کا یہ مطلب بھی تو ہو سکتا ہےکے صرف آپکو پیچھے سے انفارمیشن ای ہو کے اپ انکو بے نقاب کری ہم ذرا افغانستان میں مصروف ہیں،

یا اپکی انفارمیشن اور تجزیا ہمارے قومی اداروں سے بھی زیادہ ہے ،،،
اگر ایسا ہے تو یقین کریں میں اپکی سب سے بڑی فین ہوں۔

کیا آپ کے پاس میرے اعترضا ت کا جواب ہے ؟اگر نہیں ہے تو میں اتنا ہی کہوں گی شرم کریں صرف کچھ لائکس ریٹویٹ کی خاطر اتنا بڑا میس کریٹ کرنا کس قدر گھٹیا حرکت ہے۔ آپ بھی لڑکی ہیں اور سوشل میڈیا استمال کرتی ہے کل کو آپ کو کسی نے اس وجہ سے پبلک پراپرٹی سمجھ لیا تو اپنی انہی باتوں کی وجہ سے منہ چھپاتی پھریں گی۔
اس کے بعد ایک کے بعد ایک ویڈیو سامنے آ رہی ہے جس میں ہجوم میں خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ، تو کیا وہ بھی پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے ؟ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کے ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات ہوتے ہے اور کچھ لوگوں کی جسٹفیفیکیشن نے اسکو جائز قرار دیا ہوا ہے۔

آخر میں ایک بس اتنا ہی کہنا ہے کے اقرار الحسن اور شامی نے جو بھی کیا ہو یا یہ سب پلانٹڈ ہو میری درخواست بس اتنی ہے کے ایسے واقعات کو جسٹفای کرنے کے بجاے ایسے لوگوں کو سزا دیں اس سے پہلے کے یہ آگ آپ کے گھر تک پھنچے.

تحریر؛ سائرہ عبید

آپ سائرہ عبید کو ٹویٹر پر بھی فالو @Saira__Sheikh کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں