Growing Obscenity in Pakistan 7

پاکستان میں بڑھتی فحاشی

اج میں جس موضوع پر لکھنے جا رہی ہوں یہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا سنگین مسلہ ہے جس کا تعلق نہ صرف عورت بلکہ مردوں کے ساتھ ہونے والے جنسی جراءم سے منسلک ہے۔ پاکستان میں بڑھتی فحاشی اور اس سے مرتکب ہونے والے جنسی جراعم نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس فعل نے نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی پیش پیش ہیں۔ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ دور میں عورت کا محفوظ ہونا ایک انہونی بات ہے۔ مرد عورتوں کو اور عورتیں مردوں کو اسکے بڑھنے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ عورتوں کا مردوں سے اور مردوں کا عورتوں سے بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے، دونوں ایک دوسرے کے لیے خود کو غیر ضروری سمجھنا شروع کردیا ہے۔ یہاں سے بہت بڑی خرابی جنم لے رہی ہے۔مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو صرف جنسی ضروریات پوری کرنے کے لیے استمعال کر رہیے ہیں اور خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ چکا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی فحاشی کی ایک وجہ انٹرنیٹ پر موجود غیر اخلاقی مواد کا عام کرنا ہے۔ بات یہاں تک محدود نہیں بلکہ ہمارا ایلیکٹرونک میڈیا بھی اس میں پیش پیش ہے۔ ہمارے ٹی وی ڈراموں میں ایسا مواد دیکھایا جاتا ہے جو نہ ہی ہمارے مزہب کی ترجمانی کرتا ہے اور نہ ہی ہماری ثقافت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مغربی تہزیب کو پروان چڑھانے میں مصروف ہے۔ ہمارا معاشرہ اسلامی ہے اور اسلامی نظریات کی حفاظت کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔ مگر افسوس ہماری ریاست اس میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کہنے کو اسلامی ریاست ہے لیکن اس میں اسلامی قانون دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ہماری سیاسی جماعتوں، اور ایک مخصوص طبقہ جو مغربی نظریات سے متاثر ہے انھوں نے مل کر پاکستان کو ایک لبرل ریاست بنا دیا ہے۔ ہمارے موجودہ مساءل کی بڑی وجہ اسلام سے دوری ہے لیکن ہم اس پر توجہ نہیں دیتے۔ کھچ لوگ فحاشی کے بڑھنے کی وجہ عورتوں کے کم لباس کو قرار دیتے ہیں۔ بہت حد تک یہ بات درست ہے کیونکہ اگر ایک عورت ایسا لباس پہنے گی جو اسکے جسمانی اعضاء کو نمایاں کرے تو کسی نامحرم کے دل میں برے خیالات کا آنا عام سی بات ہے۔ ہمارے دین نے اسی لیے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے تاکہ اسے بری نظروں سے بچایا جاسکے۔
‘ صلاح الدین ایوبی نے کیا خوب کہا تھا کہ اگر کسی قوم کو بے غیر ہتھیار کے شکست دینی ہو تو اسے میں فحاشی عام کر دو ‘۔
ہمیں اس طرف توجہ دینی ہوگی کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں فحاشی عام ہوتی جا رہی ہے؟
کہیں یہ ایک عالمی سازش تو نہیں ہے؟
کیونکہ اگر ہم دیکھیں تو ڈارک ویب جیسی فحاش ویب سایٹس انگریزوں کی آلہ کار ہیں۔
خیر بحسیت قوم ہماری زمہ داری ہے کہ ہم ایسے عناصر کی روک تھام کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔
اللہ تعالی ہمیں اس شر سے محفوظ فرماۓ آمین۔

تحریر؛ شبانہ

آپ شبانہ کو ٹویٹر پر بھی @its_Shabana_12 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں