3

موجودہ عالمی منظر نامہ اور پاکستان

آج میں جس موضوع پر لکھنے جا رہی ہو یہ نہایت دلچسپ اور قابل غور ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں 2010 سے لے کر آج 2021 تک بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنھوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دوران سب سے سنگین مسئلہ دہشتگردی کا تھا جس کے خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا، اس کے سب سے بھانک اثرات پاکستان پر مرتب ہونے۔ 9/11 کے واقعے نے جیسے دنیا کا رخ ہی بدل دیا ہر طرف مسلمانوں کو دہشت گرد تصور کیا جانے لگا۔ اس کے بعد آنے والی افغان جنگ نے پاکستان کو بہت متاثر کیا اور اس کے اثرات آج بھی ہمارے ملک میں ہیں۔ امریکہ نے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنایا اور تکبر میں آکر اپنی تباہی کی ایسی بنیاد رکھی جس کا احساس اسے ابھی ہوا ہے۔ امریکہ اس وقت اندرونی طور پر کھوکھلا اور تقسیم ہو چکا ہے اور اپنے بدترین زوال کی طرف جا رہا ہے۔ امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ چین سے جو ابھرتی ہوئی دنیا کی سپر پاور ہے، چین نے بہت کم عرصے میں وہ کامیابیاں حاصل کیں ہیں جو باقی ممالک سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر یو کہے کہ دنیا اس وقت چین کی محتاج ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ چین اس وقت دنیا کا معاشی خب بن چکا ہے۔ دنیا کی جدید منصوعات چین سے ہی بنتی ہے۔ اس وقت دنیا کے سارے ملک چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں یورپی ممالک کی، سیانے کہتے ہیں کہ ہر عروج کا ایک زوال ہے اور یورپ بھی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اس کی بہترین مثال بریگزٹ قانون ہے جو 2019 میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پاس کروایا تھا جس سے برطانیہ یورپی ممالک کے اثرورسوخ سے نکل گیا تھا۔ برطانیہ کی عوام نے بڑی تعداد میں اس بل کی حمایت کی تھی۔ اب یورپی یونین کے 27 ممالک بچے ہیں وہ بھی وقت کے ساتھ الگ ہو جائیں گے اور پھر یورپی ممالک کھبی اکھٹے ہوتے تھے بس تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔
اب بات کرتے ہیں مشرق وسطی کے ممالک کی جو پچھلے 30 سالوں سے خانہ جنگی کا شکار ہیں۔
مشرق وسطی کے ممالک پروکسیس میں گرے ہوئے ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے۔ اسرائیل نے ان ممالک کو پوری پلیئنگ کے ساتھ تباہ کیا جس میں امریکہ  نیٹو کے ممالک اسکے اتحادی بنے اور دہشت گردی کے نام پر ان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
مشرق وسطی کے ممالک میں اسرائیل کے ظلم کا شکار ہونے والے تمام ممالک میں فلسطین سر فہرست ہے جس پر اسرائیل نے غیر قانونی قبضہ کر کے لاکھوں فلسطینیوں کو قتل کیا۔ لیکن افسوس کہ امت مسلمہ کے مظبوط ممالک نے اس پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اب تو حال ہی ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای جیسے ملک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے در پہ ہیں۔ابھی حال میں ہی بحرین نے حکومتی وفد اسرائیل بھیجا جس نے یہودیوں کے ساتھ تھرڈ ٹیمپل کی تصویر سامنے رکھ کر ظہر کی نماز ادا کی۔ اس پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ مسلم ممالک چند معاشی مفادات کے لیے اسلام کو نظر انداز کر دیا ہے اور اہلِ کفار کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔
لیکن ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پہلے عربوں کی تباہی کی پیشگوئی کر دی تھی، اب عرب ممالک اپنی تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔
اب سینٹرل ایشیا کے ممالک کی بات کرتے ہیں۔ ان ممالک کی بڑی طاقتوں میں چین روس پاکستان سر فہرست ہیں۔
چین نہ صرف اس خطے کی بلکہ پوری دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور روس جدید ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے۔ پاکستان نے اس وقت معاشی طور پر کمزور ضرور ہے لیکن پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پچھلے 20 سالوں میں جو کردار خطے میں امن کے لیے پاکستان نے ادا کیا وہ شاید کوئی اور ملک نہ کرسکے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ڈیڑھ لاکھ سے زائد جانو کا نظرانہ پیش کیا تب جا کے ملک میں امن قائم ہوا
اب پاکستان ایک پُرامن ملک ہے جس کی اہمیت سی پیک کی وجہ سے بڑھتی جا رہی ہے۔
سینٹرل ایشیا کے مختلف ممالک پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو دنیا اس وقت دو حصوں میں تقسیم نظر آہ رہی ہے۔
ایک طرف امریکہ یورپی ممالک آسٹریلیا چاپان اسرائیل تو دوسری طرف پاکستان ترکی روس چائنہ اور خطے کے دوسرے ممالک شامل ہیں۔
پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔۔، ہمیں بہت سے چیلینجیز کا سامنہ ہے۔اس میں سب سے اہم معاشی شعبوں میں مظبوطی ہے، آج بنگلادیش بھی ہم سے آگے ہے۔ ہمارا اضلی دشمن بھارت جو کسی دور میں معاشی طور پر ہم سے پیچھے تھا اج ہم سے 7 گناہ زیادہ مظبوط ہے۔
اسکے علاوہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں حائل ہے۔
پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو تمام سیاسی جماعتیں افہام و تفہیم سے معاملات طے کرے اور فلاحی کاموں میں حکومت کا ساتھ دیں۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی ابادی ہے جس کو کنٹرول کرنے کے لیے عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت کا ساتھ دے۔
اب  کچھ بات کرتے ہیں افغانستان میں بدلتی صورتحال کی، جس پر پوری دنیا کی نظریں ہیں کیونکہ افغانستان میں حال ہی میں امریکہ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 20 سال کی طویل جنگ کا خاتمہ ھوا۔ افغان طالبان نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے اور امریکی تسلط سے آزادی حاصل کی۔
15 اگست کو افغان طالبان نے قابل پر قبضہ کیا اور اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
اب طالبان ایک اسلامی نظام ملک میں نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ہم تمام ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
افغانستان کی مظبوطی پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ اگر افغانستان میں عدم استحکام ہوا تو پاکستان پر بھی اسکے اثرات آئیں گے۔
ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف افغانستان میں امن کے لیے کوشاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا امن پاکستان کا امن ہے۔
اب آخر میں کچھ بات کرتے ہیں کرونا وائرس کی جس نے پوری دنیا میں حیرت انگیز تبدیلیاں مرتب کی۔
کرونا وائرس کی ابتدا چائنہ کے شہر ووہان سے ہوئی۔ اس مہلک وبا کا پہلا کیس 17 نومبر 2019 کو رپورٹ ہوا۔ اس وائرس نے سب سے زیادہ تباہی امریکہ آور یورپی ممالک میں مچائی۔ امریکہ نے اس وائرس کو چینی وائرس کہا اور WHO سے مطالبہ کیا کہ اس پر تحقیقات کے لیے ایک وفد کو چاہنہ بھیجے۔ اس وبا کی وجہ سے چائنہ کو بہت بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا مختلف ممالک نے چائنہ پر سفری پابندیاں عائد کر دی۔
اس دوران لاکھ ڈاؤن کی پالیسی کو مختلف ممالک نے اپنایا جس سے لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں فوڈ سپلائی کی چین شدید متاثر ہوئی بڑی بڑی معیشتیں زمین بوس ہوئی جن میں بھارت امریکہ سر فہرست ہیں۔
کرونا وائرس کے آغاز سے ہی قیاس آرائیاں شروع ہوئی کہ یہ عالمی سازش ہے اور اسے دنیا کو ری سیٹ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جس میں امریکہ اسرائیل شامل ہیں۔
یہ بھی کہا جانے لگا کہ 1989 میں امریکا کے صحافی نے اپنے آرٹیکل میں بتایا تھا کہ 2020 میں کرونا وائرس آئے گا۔ بات یہی تک محدود نہیں بلکہ 2012 میں ایک لالی ووڈ فلم منظر عام پر آئی تھی جس میں وائرس کو دیکھایا گیا تھا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔
پچھلا سال تو ان قیاس آرائیوں میں گزارا لیکن 2021 میں اسکی ویکسین کو لے کر کافی سوالات اٹھے اور کہا جانے لگا کہ ویکسین کے زریعے انسانی جسم میں ایک چپ انسٹال کی جائے گی جو انسان کو کنٹرول کرے گی۔
کسی حد تک ہم کہ سکتے ہیں کہ ان باتوں میں سچائی ہے کیونکہ خفیہ طاقتیں دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر لانا چاہتی تھی جس کی وجہ سے انھوں نے کرونا کا ڈرامہ رچایا۔
بات کی جائے پاکستان کی تو ہم پاکستانیوں نے اس وبا کو سنجیدہ ہی نہیں لیا۔ اس وبا کو تقریباً دو سال ہونے والے ہیں لیکن ہم نے آسکا خوب مذاق اڑایا اور ایس او پیس کی دہجیا اڑائی۔
پاکستان میں اس وبا کا آغاز 26 فروری 2020 کو ہوا جب میڈیا پر خبر پہنچی تو پورے ملک میں خوف و ہراس چھا گیا۔ کیونکہ اس وقت پوری دنیا میں اس کا ڈر عروج پر تھا۔ حکومت نے فوراً لاک ڈاؤن لگا دیا جس کے ہماری معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے۔ پھر پاکستانی قوم نے اس وبا کے ساتھ چلنا سیکھ لیا اب بھی چھوتی لہر جاری ہے ملک میں لیکن حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کافی کار آمد ثابت ہوئی
دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہ وبا پاکستان میں بہت کم پھیلی۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے اس وبا کا مقابلہ کیا اور کر رہیں ہیں۔
اس وبا نے لوگوں کو ماسک کا عادی بنا دیا جسے پہننے میں ہم کتراتے تھے۔ اپنوں سے دور رہنا بھی سیکھ چکے ہیں۔ آئن لائن نظام کے عادی ہو چکے ہیں۔
اس وبا کے بعد کی دنیا یقین مختلف ہے لیکن ہمیں اب اس کے ساتھ ہی جینا ہو گا۔
تحریر ; شبانہ

آپ شبانہ کو ٹویٹر پر بھی @its_Shabana_12 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں