change and imran-khan 5

‏تبدیلی اور عمران خان

مجھ سمیت کتنے ہی لوگوں نے عمران خان کو ووٹ تبدیلی کے نام پر دیا تھا لیکن آج تین سال گزرنے پر تبدیلی آپکو ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتی ہے۔
ہاں کچھ بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کچھ بہتری آئی بھی ہوگی لیکن جس تبدیلی کے نعرے کے لیے میں نے اور باقی سب نے ووٹ دیا ہے اسکا نام و نشاں تک نظر نہیں آتا ہے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہے خان صاحب کے انصاف کے نظام پر تبدیلی کے نعرے کی جو کے کُھو کھاتے میں ہے ، یہاں انصاف آج سے تین سال پہلے بھی امیروں کے گھر کی لونڈی تصور کیا جاتا تھا اور آج بھی ، بلکے آج بدترین صورتحال بھی کہ سکتے ہیں آپ !!!!
جن خاندانوں کو کرپٹ کہتے کہتے خان صاحب اور انکی پارٹی کے لوگ تھکتے نہیں اور ان پر کرپشن ثابت بھی کروا چکے وہ تو آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں ،
ایک ملک سے باہر ہے تو ایک مزے سے اپنے گھر،
ایک کی بیٹی سڑکوں پر عمران خان اور اداروں پر حملے کرتی ہے تو ایک کا بیٹا سندھو دیش بنانے کا علان بھی کرتا ہے۔

اِنکو پیشی پر پیشی، ضمانت پر ضمانت رعایت پر رعایت مل رہی ہے اور غریب وہ ہی انصاف کے لیے آج بھی خوار ہو رہا ہے،
جو لوگ بڑے دھڑلے سے خان تیرے تے راضی آ کے تویٹس کرتے ہیں دیکھایں کہاں ہے تبدیلی؟کہاں ہے وہ انصاف جس کا دعوه خان صاحب اپنی ہر تقریر میں کرتے رہے ہیں۔ انکی 22 سالہ جدوجہد جس نظام کے خلاف تھی کہاں ہے وہ تبدیلی؟ان تین سالوں میں کسی غریب کو انصاف کہاں سے اور کب ملا ہے؟
غریب انصاف تو کیا دو وقت کی روٹی کو ترس گیا ہے۔ جہاں لوگوں کو ہر دوسرے دن مہنگائی کے جھٹکے لگتے ہوں انکو انصاف سے کیا لینا دینا،
کبھی آٹا منہگا تو کبھی گھی
کبھی چینی مہنگی تو کبھی دال
کبھی پیٹرول مہنگا تو کبھی سی این جی
کبھی بجلی مہنگائی تو کبھی گیس
اور جب مہنگائی پر بات کی جائے تو انتہائی بھونڈی دلیل دی جاتی ہے کے اچھے وقت کے لیے مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے۔
کیا مشکل وقت سے گزرنا صرف غریب کا مقدار ہے ؟ یہ قربانی ہماری اشرافیہ کیوں نہیں دیتی ہے۔
ہاں میں خود قربانی دوں گی اچھے وقت کے لیے اگر وہ ہی قربانی ایک بیورو کریٹ دے گا،ایک سیاست دان دے گا ، ایک جج دے گا اور ایک جرنیل دے گا۔انکی عیاشیاں ختم کریں جو یہ اور انکے بچوں ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے کرتے ہیں،
اس بات میں کوئی شک نہیں کے عمران خان قومی خزانے پر سابقہ حکمرانوں کی طرح نا چوری کی اور نا بوجھ ڈالا لیکن صرف ایک ان کے بچت کرنے سے کیا فرق پڑے گا ؟
اسکی۔ مثال تو ایسے ہی ہے کے گھر کا سربراہ خود تو بچت کرے لیکن گھر کے باقی افراد کو فضول خرچ کرنے کی چھوٹ دے کر سمجھے کے اس نے اپنی ذمداری پوری کرلی ہے۔

ہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کے اس بوسیدہ نظام کو بدلنا بہت مشکل ہے لیکن اسی نعرے پر آدھے سے زیادہ عوام نے خان صاحب کو ووٹ دیا ہے، اگر اس نظام کو بدلنے مشکل ہے۔ تو خان صاحب کو کم سے کم اپنے ووٹرز کو تو اعتماد میں لینا چاہیے کے اس نظام میں یہ یہ خرابی ہے اور کس وجہ سے وہ اسکو نہیں بدل پا رہے تو یقین کریں خان صاحب کے ووٹرز کے دل میں انکی عزت بڑھے گی۔ لیکن تو اگر خان صاحب نے بھی صرف پانچ سال پورے کرنے اور کرسی سے چمٹے رہنا ہے تو معذرت کے ساتھ اگلے الیکشن میں خان صاحب واضح اکثریت تو دور کسی صوبے میں بھی حکومت بناتے نظر نہیں آ ئیں گے

تحریر؛ سائرہ عبید

آپ سائرہ عبید کو ٹویٹر پر بھی فالو @Saira__Sheikh کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں