70

چار ستون

کہتے ہیں کہ کسی بھی عمارت کی تعمیر میں چار بنیادی ستونوں کا مضبوط ہونا نہایت ضروری ہے کسی بھی ایک ستون کے کمزور پڑ جانے کی صورت میں عمارت کا جلد یا بدیر گرنا اٹل ہے۔
کسی بھی ملک کی مثال عمارت کے جیسے ہے۔ مقننہ٬ نظام عدل٬انتظامیہ اور صحافت چار بنیادی ستونوں کی مانند ہیں۔ کسی بھی ایک نظام کی نااہلی یا کمزوری ملکی ترقی پہ گہرا اثر ڈالتی ہے۔
اس سب کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم وطن عزیز پاکستان کے ان چاروںستونوں پہ نظر ڈالیں تو بد قسمتی سے تمام ستون ہی کمزوری اور نا اہلی کا شکار ہیں کوئی بھی ستون پورا وزن نہیں اٹھا ا رہا تمام کے تمام ستون ریاست کے مفادات کی بجائے شخصیات کے مفادات کےلئے کام کرتےہوئے ہمیشہ سب اچھا ہے کی نوید سناتے رہے ہیں اور اگر کبھی کسی بھی ستون کی کمزوری یا نااہلی کا سوال اٹھا تو ملبہ ایک دوسرے پہ ڈالتےرہے نتیجتا عمارت کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں اور عمارت کے مکین عمارت کے منہدم ہونے کے خوف کے باعث نفسا نفسی کا شکار ہو گئے جبکہدوسری عمارتوں (ممالک) کے مکین مضبوط ستون کے باعث بلا خوف و خطر ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے کئی دہائیوں قبل ہی چاند پہ پہنچ گئےجس کا اثر یہ پڑا کہ ہم معاشی٬ سیاسی اور سماجی گراوٹ و بد اعتمادی کابھی شکار ہوتے چلے گئے اور ترقی یافتہ عمارتوں کے مکین اپنی ترقی کی باعث ہم سے اپنی مرضی کے کام لیتے رہے۔
ان سب وجوہات کو سمجھنے کےلئے فردا فردا ہر ایک ستون کی کمزوری کی وجوہات پر نظر دوڑاتے ہیں۔

1- مقننہ
ہماری مقننہ یعنی قانون ساز اسمبلی، عمارت کا سب سے اہم ستون ہے جس میں کئی ایسے بہروپئے موجود ہیں جو قانون سازی کرتے وقت ملکی مفادات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ذاتی، شخصی حتی کہ غیر ملکی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث ریاست کا سب سے اہم ستون وقت کےساتھ انتہائی کمزور نظر آنے لگا ہے

2۔ نظام عدل
نظام عدل وہ نظام جو قانون ساز اسمبلی کی جانب سے بنائے گئے قوانین کی تشریح کرنے اور انصاف کی فراہمی کا ذمہ دار بھی ہے مگر بد قسمتیسے یہ ستون بھی کمزوری اور نااہلی کا شکار ہے۔ امیر اور غریب کے لئےالگ الگ قوانین کی بات مملکت خداداد میں آج کل زبان زد عام ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی شخصیات کے لئے “انصاف” کی فوری فراہمی کی سہولتبهی موجود ہے نہ صرف ملکی بلکہ غير ملکی شخصيات کو بهی یہ سہولتفراہم کی جاتی ہے۔

3۔ انتظامیہ (بیوروکریسی)
درج بالا ستونوں کی طرح اس ستون کا حال بھی مختلف نہیں ہے وطن عزیزکی انتظامیہ جو گزرے وقتوں میں خطے کے ممالک سے کئی گنا بہتر اوردیگر ممالک میں ماڈل اور کلاس سٹڈی کے طور پہ پیش کی جاتی تھی، آجکل افسر شاہی کا شکار ہے. بہت سےملکی و عوامی فلاحی منصوبوں کیسست روی اور انتظامیہ کی نااہلی و ریاستی ذمہ داریاں نہ ادا کرنے کےباعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملکی ترقی کا پیہہ جیسے رک سا گیا ہونہ صرف یہ بلکہ یہ ستون حد درجہ شخصیت پرستی میں مبتلا ہے جس کےباعث عوام بھی اذیت میں مبتلا ہیں۔

4۔ صحافت
جدید دور میں صحافت کو چوتھے ملکی ستون کا درجہ حاصل ہے مگر دور جدیدکا یہ ستون دیگر ستونوں کی نسبت بہت جلد کمزوری کا شکار ہوا اور اس ستون کا کام مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا اور ملکی بیانیہ دیگر ممالک تک پہنچاناہے مگر بدقسمتی سے یہاں بھی شخصیت پرستی اور پیسے کے کھیل نےسب کچھ ماند کر دیا۔

تاہم اس سب کے باوجود ابھی بھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے، عمارت الحمداﷲ بافضل خدا قائم و دائم ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ستونوں کی مضبوطی پہ معمور مماروں کو چاہیے کہ برق رفتاری سے ستونوں کو صحیح معنوں میں مضبوط بنانے میں ایک دوسرے کا غیر مشروط طور پر ساتھ دیں. شخصیات کی بجائے ریاست کے مفادات کےلئے کام کریں تاکہ ریاست مدینہ کے قیام کا خواب جلد از جلد عملا شرمندہ تعبیر ہو سکے اورمکین بھی خوف و ہراس سے باہر آئیں ساتھ ہی ساتھ سیاسی٬ سماجی ومعاشی گراوٹ کا بھی خاتمہ ہو۔

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترےوہ فصل گل جسے اندیشئہ زوال نہ ہو

تحریر ؛ محمد شعیب موہل

آپ ٹویٹر @ShoaibMohal پر بھی فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں