63

برابری نہیں چاہئیے

‏آج ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ جو قابل بحث موضوع ہے وہ ہے ‘برابری’ کی ہے یعنی عورت اور مرد کی برابری۔

وہ لبرل عورتیں جو مردوں کیطرح برابری مانگنے کی بجائے اگر اپنے پیارے اسلام کے بتائے ہوئے حقوق ہی مانگ لے تو آج ہمارا معاشرہ اسطرح کی درندگی کا شکار نہ ہوتا

درندگی کا شکار وہ معصوم بچیاں اور پھولوں سے مہکتی بیٹیاں جو بدبودار کچرے سے اٹھائی جاتی ہے وہ معصوم پھولوں جیسی بچیوں کیلئے حقوق مانگنے وقت یہ لبرل طبقہ کہاں چلا جاتا ہے؟ یہ لوگ کس چیز کی برابری مانگتے ہیں۔

عورتیں کبھی برابری کی بات نہیں کرتی بلکہ وہ اپنے اسلام کے اصولوں کو مانتے ہوئے اپنے شوہروں کے ماتحت زندگی گزارنا پسند کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔
ترجمہ؛
“اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں اوڑھ کر رکھیں” (القرآن)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ عورتوں کو پردہ کا حکم فرما رہے ہیں کہ عورتیں کہ وہ اپنی اوپر چادر اوڑھ کر کر رکھیں یعنی وہ صرف گھر اور اپنے شوہر کیلئے زینت ہے۔ محفوظ چھت کے نیچے کھانا گرم کرنا، گھر پر کسی نا محرم کے آنے پر بھائی کا دروازہ آگے کرنا، بابا جانی کا سر پر ہاتھ رکھنے سے پہلے سر پر دوپٹہ لینا، شوہر سے ایک قدم پیچھے چلنا، یہ سب نا میری اور نا ہی عورتوں کی شان کو گھٹاتی ہیں بلکہ اس ہر عورت کی شان اور اضافہ ہوتا۔ میری اور ہر عورت کی شان تب گھٹتی ہے جب ننھی پریاں روندی جاتی ہے جب بیٹیاں رسوا کی جاتی ہے مجھے برابری نہیں بلکہ مجھے صرف ہر بیٹی اور ماں کا تحفظ چاہئے۔
خود کو ڈھانپنا میری ذمہ داری ہے لیکن ڈھانپے ہوئے کو بے آبرو سے بچانا کس کی ذمہ داری ہے؟
میں زینب، حریم، بشریٰ، نسیم، ماہم، نور اور نہ جانے کتنی بیٹیوں کے ساتھ کی جانے والی درندگی کا حساب مانگتی ہوں، مجھے ان کیلئے اسلام کے بتائے ہوئے حقوق چاہیے۔
برابری مانگنے کے نعروں سے بہتر ہے کہ اس کے بجائے اگر سب عورتیں گھروں میں موجود بھائی، بیٹے، اور شوہر کو عورت کی عزت کرنا سکھانے کا نعرہ لگائیں

مجھے برابری نہیں چاہیئے کیونکہ مجھے اچھا لگتا ہے جب بابا دور کھڑی گاڑی کو مال کے دروازے کے پاس لاتے ہیں، جب بھائی آپ کو آپ کی دوست کے گھر چھوڑنے اور لینے آتے ہیں، جب شوہر گھر آنے سے پہلے پوچھے کچھ چاہیے تو نہیں میں راستے میں ہوں، روڈ پر چلتے ہوئے آپکو محفوظ جگہ پر چلانا، میں کیوں برابری مانگوں جب یہ سب میرے لیے کڑکتی دھوپ میں سایہ ہے، سمندر جیسا سکون ہے، فزا میں جھومتی ٹھنڈک ہے، مجھے یہی چاہیئے.

مرد کو میرے اسلام نے بڑا رتبہ دیا ہے میں اور آپ برابری مانگ کر اپنے دین کے آگے کھڑے ہونے والے کون ہیں ؟ اللہ کے سارے بنائے ہوئے قانون انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں وہ ذات بھلا کیسے انسان کے نقصان کا سوچ سکتا ہے جو ذات اس سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

باری تعالیٰ کا فرمان ہے۔

ترجمہ؛
“یقیناً یہ قرآن بلکل سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے” (القرآن)

ضرورت اس امر کی ہے مرد کو جو درجہ اللہ نے عطاء فرمایا ہے وہ اپنے اس رتبے کا صحیح استعمال کریں، بیٹی کی آمد پر خوش ہو کر اسکی اچھی دیکھ بھال کریں، ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، بہنوں کا محافظ بنے اور بیوی کو اپنی زندگی کو مکمل کرنے والی خوبصورتی سمجھ کر اس کا خیال رکھے اور دوسروں کی ماں، بہن بیٹی کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے تب یہ معاشرہ ایک پُر امن معاشرے کے طور پر بن کر اُبھرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں