siasidugout 478

بھیڑ چال

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ

اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نا ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ.
قرآن کی تعلیمات تمام بنی نوع انسان کے لئے ہیں، اور بہت واضح ہدایات موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر ہم ان پر عمل پیرا نہیں ہو پاتے تو یہ ہماری اپنی کوتاہی ہے۔
آج کا دور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور ہر خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہے۔
صحافی ہوں یا رہودٹر،کالم نگار ہوں یا یو ٹیوبر ہر چھوٹی سے چھوٹی خبر کے منتظر رہتے کہ جلد ازجلد ہم تک خبر پہنچے اور بس ہم سب سے پہلے کا لیبل لگا کر سرخرو ہو جائیں۔
ففتھ جنریشن وار کا شوروغوغا اکثر ہم سنتے، یہ ففتھ جنریشن وار فئیر،ہائبرڈ وار کا طریقہ ہے جس کے ذریعہ جھوٹ کواتنی خوبصورت پیکنگ اور اتنی تیزی سے پھیلایا جاتا کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی اور محیر العقول بندوں کی عقل بھی دھوکا کھا جاتی۔ یہ قوموں کو تباہی کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس میں کوئی سرحدی جنگ نہیں کی جاتی بلکہ نظریات پر ضرب اتنی کاری لگائی جاتی کہ باقی بس کنفیوژن ہی بچتی اور آخرکار قوم زوال پذیر ہو کر اپنی موت آپ مر جاتی۔ اس گیم میں سب سے اہم کردار کسی بھی سوسائٹی کا وہ طبقہ ہوتے جو سوشل۔میڈیا،سائٹس استعمال کرتے۔
اس سے پہلے فورتھجنریشن وار کے دوران ہمارے معاشرے میں اخلاقی اقدار کو اتنا پست کردیا گیا کہ ہم آنے والے کسی بھی ریلے کو برداشت کرنے کی اہلیت کھو بیٹھے۔ دو دہائیوں میں امن کی آشا کے نام پر جو تماشا لگایا گیااس نے ہمارے اسوقت کے بچوں، اور آج کی نوجوان نسل پر بہت برے اثرات مرتب کئے ہیں۔ جن کا خمیازہ آج ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اس پرفتن دور میں ہر اطراف سے خبروں کی بھرمار ہے اور سیکنڈ کے دسویں ئلحصہ میں خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں جا پہنچتی، فایدہ یہ کہ بات دنیا کے جس بھی کونے سے ہو،ہمیں فوری اطلاع ملے تو اپنے لئے پلاننگ کاوقت مل جاتا،کہ ہمیں کیا بہتر اقدامات کرنے اس سے نمٹنے کے لئے۔ مثال کووڈ کی لے کیجئے، ووہان میں جو ہوا فوری سب ہر جگہ پہنچااسر سب ممالک نے اپنی بساط کے مطابق آگاہی پروگرام اور حفاظتی پلانزبنا کر خود کو اس وبا سے بچایا۔
لیکن اس برق رفتاری سے ملنے والی خبروں کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوتا کہ ہم تحقیق نہیں کر پاتے کہ کیا خبر سچ ہے یا جھوٹ، جبکہ قرآن کا حکم ہے کہ اگر کوئی فاسق کوئی خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر کیا کرو۔ بغیر جانے بوجھے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہر سوشل میڈیا یوزر اپنا فرض عین سمجھتا کہ خبر کو سب سے پہلے آگے شئیر کردے، نتیجہ یہ نکلتا کہ معاشرہ میں بے چینی،گروہ بندی اور انتشار پھیلتا۔ سب ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے۔ مثال کے لئے حالیہ تازہ ترین واقعی جو چودہ اگست کی ٹک تاجر عائشہ کی ویڈیو کے حوالہ سے پیش آیا۔ تمام دن ہر سوشل میڈیا یوزر پر حالت جنگ کی کیفیت دکھائی دی، کوئی مرد کو برس بھلا کہہ رہا کوئی عورت کو کوزے دے رہا۔
بنا تحقیق بات کو ہر کسی نے پھیلایا، اور آخر کار جب کچھ دوسری حقیقتیں نظر آئیں تو سب ششدر رہ گئے کہ کس طرح حقائق کچھ اور تھے اور پیشک ھ اور کئے گئے
ہم ایسے ٹدیپس کا آئے دن شکار ہوئے نظر آتے، اور ہمارا ا،لی دشمن ہماری اس کمزوری سے بھرپور فایدہ اٹھاتا ہے۔ ایک پراپیگنڈہ میسج یاڈرامہ پلانٹ کیا جاتا، پھر سب متعلقہ لوگ یا ہم خیال گروپ اس واقعہ میں حقیقت کا رنگ بھر کر سادہ لوح عوام کو پیچھے لگا لیتا۔ اور یوں ہم انجانےمیں دشمن کے آلہ کار بن جاتے۔
اگر قرآن کی روشنی میں چلیں تو قومی و اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کسی بھی خبر کو بناتصدیق آگے نا پھیلائیں اور ففتھ جنریشن وار جو کہ دراصل پراپیگنڈہ وارہے کا حصہ نا بنیں۔
یہی ہماری بقاء کے لئے اب پہلااصولہونا چاہئے۔
اپنے دماغ کے تمام بلب روشن کیجئے
جدھر جدھر بلب فیوزہگ ادھر علم کی روشنی سے اس بے نوری کو ختم کیجئے۔
دشمن کے ہاتھ بھیڑ چال کا شکار ہو کر آلہ کار بننے کے بجائے اپنی عقل اور سمجھ بوجھ سے چیزوں کو پہچانیں اور اگر کوئی خبر پہنچے تو پہلے تصدیق کریں پھر آگے بڑھائیں۔
اللہ ہمیں قرآن فہمی کی دولت سے مالا مال کریں۔ آمین۔

تحریر؛ حمیرا الیاس

آپ حمیرا الیاس کو ٹویٹر پر بھی @humma_g فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بھیڑ چال“ ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ عمدہ تحریر لکھی ہے اللہ پاک آپکو مزید کامیابیاں عطا فرمائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں