77

بطور والدین کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ؟

پاکستان کے ایک شمارے کے اندازے کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 46 ملین ہیں
اس بات سے اندازہ لگائیں
کہ سوشل میڈیا ایک حقیقت بن چکی ہےاس کے بغیر زندگی گزارنا اب مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں
تو ایسے میں لازم ہے کہ “والدین اور اساتذہ پوری ایمانداری سے اپنے بچوں اور طالب علموں کو سچ اور جھوٹ،غلط اور صحیح، جائز اور ناجائز کے درمیان فرق کے ساتھ ساتھ مثبت اور منفی رویوں کی بھی پہچان کروادیں۔
گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہورہا ہے اور ہمارا نوجوان طبقہ اس کا بڑھ چڑھ کر استعمال کرتا ہے اور اس سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔
یہ بات قابلِ فکر ہے کہ کوئی بھی “کم تعلیم یافتہ معاشرہ” بآسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سےدورہوتاچلاجاتا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر ایسے گمنام صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز ومزاح کی آڑ میں گالم گلوج ،بےحیائی اور دہشت پھیلاناہوتا ہے،بڑے متحرک ہیں۔
ہم سب اس سنگین صورتحال سےآگاہ تو ہیں لیکن روک تھام کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ معاشرے میں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے حوالے سے آگاہی کی ا شد ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کےغلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کروانا ہوگا تاکہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ رسائی سےپہلے اور رسائی
کے دوران ان کی بھرپور نگرانی کریں.

تحریر؛ مفیدہ شاہ

آپ مفیدہ کو ٹویٹر پر بھی @muffff9 فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں