33

عورت۔۔۔۔ انقلابی عزم و ہمت کا پیکر

دورقدیم تا دور جدید تمام شعبہ حیات سیاسی، معاشی، سماجی و ثقافتی تاریخ میں عورت کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔اگرچہ عورت کو بہت سے ایسے ادوار سے گزرنا پڑا جہاں اسکے حقوق کی پامالی کی گئی مگر صنف نازک نے ہمت نہیں ہاری بڑے صبر و تحمل اور بہادری سے کام لیا اور زندگی کے ہر شعبے میں اپنی بات کا لوہا منوایا،کبھی رضیہ سلطانہ کبھی جھانسی کی رانی بن کر ملک سے محبت اور بہادری کا ثبوت دیا تو کبھی مدر ٹریسا بنکر انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی،ماں کے روپ میں قوم کے مستقبل کی پرورش کی،بیوی کے روپ میں بھترین دوستی کی مثال قائم کی تو بھن اور بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق اور زینت کو دوبالا کیا غرض یہ کہ عورت کا ہر روپ ایثار و محبت اور شفقت کا حامل رہا ہے۔ بلا شبہ روئے زمین پر انسان کی بقا ایک ہی صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے۔سماج کی تشکیل و ترقی میں جتنا ہاتھ مرد کا رہا ہے اتنا ہی عورت کا بھی ہے۔انسان کسی بھی منصب و حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون احسان ضرور ہوتا ہے۔ بارہا سننے میں آتا ہے کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہ بات عورت کے مقام کو بالا کرتی ہے بھلے ہی تحریری تاریخ مردوں کی تاریخ ہو مگر جیسے جیسے قدیم تہذیب کے آثار دریافت ہو رہے ہیں ویسے ویسے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ معاشرے میں مرد کی موجودہ حیثیت ہمیشہ سے نہیں تہی بلکہ اس کا یہ تسلط و برتری آہستہ آہستہ تاریخی عمل کے ساتھ قائم ہوئی ہے۔ آثار قدیمہ کے شواہد سے یہ بات ثابت ہو گئ ہے کہ ابتدا میں مادرانہ نظام رائج تھا اس زمانے میں عورت سب سے زیادہ متحرک اور فعال ذات تھی کہ جس نے تہذیب و تمدن کو آگے بڑھانے میں اپنی ذہانت اور صلاحیت کو استعمال کیا۔گورڈن چائلڈ نے اپنی کتاب “تاریخ میں کیا ہوا؟”آثار قدیمہ کے شواہد کی بنیاد پر ان تمام کاموں کی تفصیل دی ہے جن کی ابتدا عورتوں نے کی تھی مثلا پتھر کے زمانے میں عورتیں زمین جوتتی تھی، اناج پیستی تھی، انہیں دھاگہ بنانے کے فن سے واقفیت تھی وغیرہ وغیرہ ۔

دور حاضر پر نظر ثانی کریں تو صنف نازک کی قیادت قابل ستائش ہے،گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تمام شعبہ حیات میں اپنی ذہانت کا ثبوت پیش کر رہی ہیں۔ اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہیں، سماجی برائیوں اور ناانصافیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتی ہیں۔ 8 مارچ 1957 عالمی سطح پر وہ اہم تاریخ ہے جب امریکہ کے ایک کپڑا مل میں مزدور خواتین نے کام کے اوقات کو سولہ گھنٹے سے دس گھنٹے کرنے اور اجرت بڑھانے کے لئے پہلی بار صدائے احتجاج بلند کی تھی۔ اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا آخر کار ان مزدور خواتین کو جدوجہد کا صلہ ملا۔ 8 مارچ1951 کو ناروےکی عورتوں نے پہلی عالم جنگ میں ہوئی انسانی تباہی و بربادی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔8مارچ 1917 کو روس کی خواتین نے امن و بقائے باہمی کے لیے آواز اٹھائی تھی اس طرح دھیرے دھیرے 8 مارچ عالمی سطح پر خواتین کے لیے حق،خود اختیاری اور عزت و افتخار کا دن بن گیا اسی مناسبت سے ہر سال 8 مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے۔

صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی، شفقت و مہربانی اور در گزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔یہ خواص کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ تمام خواتین کی اجزائے ترکیبی میں شامل ہیں۔ لیکن عورت سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق بہم پہنچانے جائیں جن میں پہلا حق تعظیم و اکرام ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزز جانا ان کا احترام کیا، انکے حقوق کی پاسداری کی انکے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

تحریر : محمد حنظلہ شاہد

آپ محمد حنظلہ شاہد کو ٹویٹر پر بھی فالو @HanzalaMalik92 کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں