siasidugout 174

‏عورت حسین ہو کے بھی خوش بخت نہیں

خاموشی بھی زبان رکھتی ہے
اسکا ادراک مجھے تب ہوا جب ایک پبلک ٹرانسپورٹ کے سٹاپ پر
میں اکثر ایک خوب صورت نوجوان لڑکی کو دیکھتی، وہ حسین آنکھوں والی غالبا اپنے بیٹے کے ساتھ جس کی عمر لگ بھگ کوئی سات یا آٹھ سال ہو گی
وہ میرے پاس کھڑے روز بس کا انتظار کرتی

بس کے انتظار میں دس سے پندرہ منٹ کھڑا ہونا پڑتا تھا میں نے کبھی اُس سے بات نہیں کی نہ اُس نے کبھی مُجھ سے ایک اجنبیت سی تھی مگر کُچھ تھا اسکی آنکھوں میں جو مجھے تجسس رہتا ۔
ایک دن وہ مُجھے حسب معمول دوبارہ نظر آئی عید تھی تو شاید وہ معمول سے زیادہ تیار ہوئی تھی اور سنگھار اسکا اور معتبر کر رہا تھا اسے ، اُس کے ہاتھوں کی مہندی بہت خوبصورت لگ رہی تھی، میں نے ذرا قریب سے دیکھا تو اُس کے ہاتھوں پہ کچھ نشان تھے جیسے کسی کے نوچنے کے نشان ، ویسے ہی نشان اُس کے بازو پہ تھے ، خوبصورت مہندی میں بھی بدصورت نشان نُمایاں تھے جو مجھے اندر تک چھلنی کر گئے
میں نے نظر بھر کر اُس کے چہرے کو دیکھا اُس کی آنکھیں آج نمی سے بھری ہوئی اور افسردہ تھیں لیکن آنکھوں کو انتہائی خوبصورتی سے موٹا موٹا کاجل لگا کر غم چھپانے کی کوشش کی گئی صاف دکھائی دے رہی تھی لیکن کاجل سے بھی آنکھوں کی سُوجن اور درد نہیں چھپایا گیا ، یقیناً اُس کی آنکھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ، مُجھے کچھ پوچھنا بہتر نہیں لگا لیکن عجیب سا شک اور وسوسہ تھا دل میں ،
ایسا نہیں کہ میں نے کبھی کسی عورت کو روتے سسکتے یا غموں کو ہنسی میں چھپاتے نہیں دیکھا تھا ، مگر اسکا خوب صورت چہرہ الگ ہی کہانی بیان کر رہا تھا، میں نے اس کے بیٹے کو پیار کیا اور مسکرا کر کہا آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں ، وہ ہلکے سے مُسکرائی اور بولی “ رشتوں سے ملی بدصورتی کو چھپانے کے لیے یہ حسن بھی عطا ہے اور ان رشتوں کے بد صورت رویوں کو سہنے کے لئے عورت کو خوبصورت دِکھنا پڑتا ہے
میں لمحہ بھر کے لئے ساکت ہو گئی الفاظ گویا میرے حلق میں اٹک گئے
بات تو سمجھ گئی تھی میں پہلے ہی لیکن؟؟؟؟

بقول ساحر لدھیانوی ؛

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

تحریر؛ رابینہ خان

آپ رابینہ خان کو ٹویٹر پر بھی ‎@Rabinakhan78 فالو کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں