siasidugout 163

اپنی مردانگی کی حفاظت کریں

مینارِ پاکستان، یادگارِ پاکستان، پاکستان کی عظمت کا نشان سمجھا جانے والا مقام، پاکستان کا فخر، کچھ لوگوں کے باعث، پاکستان کی بدنامی کا باعث بن کر رہ گیا. اس واقعے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، ثابت بھی ہو چکا ہے کہ یہ تریا چلتّر تھا، شہرت حاصل کرنے کا چسکا، جس نے فی زمانہ برے بھلے کی تمیز ہی بھلا دی ہے، لوگ اب اس مقولے کو سچ ثابت کرتے ہیں کہ
“بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا”.
لیکن اس سب سے قطع نظر کچھ سوالات ضرور چھوڑ گیا یہ واقعہ اذہان میں.
مرد کیا ہے ؟؟
عورت نے اس کو بلایا تو وہ چلا جاتا ہے کہ مردانگی کا سوال ہے، عورت کے نامناسب لباس پر اس کے جذبات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں کہ بھئی مرد ہے” روبوٹ” نہیں،
کوئی کھلے عام بےحیائی پر اکسائے یا چھپ کر
بہک جاتا ہے، کہ بھئی مرد ہے، عورت نے حیا کا پاس نہیں رکھا تو مرد کیا کرے

میرا نہیں خیال کہ یہ سب اعمال مردانگی کا اظہار کرتے ہیں. کیونکہ ہم ایک مشہور قصّہ بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں، جس کی صداقت پر کوئی شک بھی نہیں، کہ ایک صاحبِ جمال مرد کو ایک با حیثیت، باثروت، حسین ترین خاتون نے دعوتِ گناہ دی اور بات نہ ماننے پر بدنام کرنے کی دھمکی بھی دی، مگر وہ “مرد” مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہتا ہوا اس دلکش ترغیب سے بچ نکلا کہ

قَالَ مَعَاذَ اللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ رَبِّىٓ اَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ اِنَّهٝ لَا يُفْلِـحُ الظَّالِمُوْنَ (سورہ یوسف 23)

کہا اللہ کی پناہ، وہ تو میرا آقا ہے جس نے مجھے عزت سے رکھا ہے، بے شک ظالم نجات نہیں پاتے۔

اور رہتی دنیا تک بتایا کہ مردانگی اسے کہتے ہیں،
مرد ایسے ہوتے ہیں،جو کھلے عام اور درپردہ ہر طرح کے گناہ سے اللہ کی پناہ طلب کرکے اپنے نفس کو شکست دے دیا کرتے ہیں.
اور اصل مردانگی تو اپنے نفس کو پچھاڑنا ہی ہے.
بے شک مرد “روبوٹ” نہیں ہے، مگر “حیوان” بھی نہیں ہے.
تو کسی عورت کا کردار جیسا بھی ہو اگر سامنے “مرد” ہے، تو اللہ کی پناہ طلب کرکے سنبھل جائے گا، اور اگر “حیوان” ہے، تو بہک جائے گا

بہکا تو بہت بہکا، سنبھلا تو ولی ٹھہرا
اس خاک کے پتلے کا ہر روپ نرالا ہے

دعاؤں کی طلبگار

تحریر ؛ مونا سکندر

آپ مونا سکندر کو ٹویٹر پر بھی ‎@moona_sikander فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں