siasidugout 131

امیر سے امیر تر کاسفر کیسے؟

ہمارے اردگرد اکثر دیکھنے میں آیا کہ پیسے کی دوڑ لگی ہے اور سب اس دوڑ میں بھاگ رہے،یہ جانے بنا کہ پیسہ کتنا اہم ہے ہماری زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے۔ ہم اسدور میں یوں اندھے ہو چکے کہ اس میں رشتے ناطے،دین ایمان،عزت غیرت ہر چیز بھلائے بیٹھے ہیں۔ ابتدائے آدمیت سے ہی کچھ چیزیں آدم کی سرشت میں موجود ہیں انہی میں سے ایک ہے اپنی انا کی تسکین، اور اس انائیت میں باقی سب ہیچ ہو جاتے اور اپنی ذات اولی و اعلی ہو جاتی۔ جب تک اسمیں دوسرے متاثر نا ہوں تب تک معاملہ ٹھیک رہتا لیکن انسانی سرشت کا لالچ کا کیڑا اسے کسی کل سکون نہیں لینے دیتا۔ اور مزید سے مزید کی حرص و ہوس میں مسلسل مبتلا کئے رکھتا،اور وہ سب انسانی رشتوں اور انسانیت کے تقاضوں کو بھول کر بس اپنی غرض کی تجوریاں بھرنے میں مگن ہو جاتا۔
انسان نے ناجانے کب کامیابی کا معیار بے تحاشا دولت و ثروت کو بنایا اس کی تاریخ تو نہیں ملتی، لیکن ہابیل و قابیل کے جھگڑے سے ایک چیز واضح طور پر سمجھ آتی کہ ہر انسان اپنی تعریف کئے جانا پسند کرتا، اور اس مقصد کے لئے دوسرے کو نیچا گرانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ انسانیت
کے مرتبہ سے جب ہم نیچے گرتے تو غیر انسانی رویوں سے فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے اردگرد ہر ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہمیں پیسے کی محبت میں اندھے لوگ دکھائی دیتے ہیں, جن کے نزدیک غیر تو غیر اپنوں کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔
تعلیمی اداروں میں دیکھیں تو مالکان کو بس پیسے بنانے سے غرض ہے،اس مقصد کے نہلئے والدین کو تمام سبزباغ دکھائے جاتے، یہ باور کروایا جاتا کہ جو تعلیم ہمارے ادارے میں شہر کے کسی بھی اور ادارے میں ممکن ہی نہیں، پرائیویٹ سکولز وہی درسی کتبکیفوٹوکاپی اپنیجلدکے ساتھ تھوڑی بہت کتابت کی تبدیلی سے اپنے نام سے بیچتے،وہ کتب کا سیٹ جو ہزار بارہ سو میں مل جاتا، پرائیویٹ ادارے اسے تین سے چار ہزار روپے میں بیچتے۔ ایک کاپی ایوریج سائز کی چالیس سے پچاس روپے میں آ جاتی اسے سو سے ڈیڑھ سو میں بیچا جاتا، فرق صرف اتنا کہ باہر والا پیج سکول مونوگرام کا ہے۔ اور اتناکچھ اینٹھنے کے باوجود اساتذہ کااستحصال۔کیا جاتا، کم سے کم تنخواہ آفر کی جاتی ساراسارا دن ان سے کام لیا جاتا، اور چھوٹی سی غلطی پر گالی گلوچ تک کی جاتی۔ وہی ڈاکٹری اور انجینئرنگ کی ڈگری جو سرکاری ادارے میں بہت سستے میں حاصل پوتی،لاکگوں روپے لگا کر وہ ڈگری ملتی۔ اب جو بندہ چالیس پچاس لاکھ پانچ سالہ ڈاکٹری کی ڈگری پر لگائیے،اولا’ اس کے پاس یہ محنت کی کمائی کا پیسہ نہیں، دوئم وہ یہاں پیسہ پھرعوامکی جہبوںسے سودسمیت نکالے گا ہی۔ اور یوں ایکvicious circleشروع ہوتا جو لا متناہی ہے۔
آی ڈاکٹر صاحب ہیں ریڈیالوجسٹ جن کی ایک چیک آپ کی فیس ایک ہزار روپے ہے، ان کے پاس ایک دن میں تقریبا” ایک سو مریض آ ہی جاتے،ایک دن کے ایوریج لاکھ روپے، اور ایک ماہ کے تیس لاکھ ان کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے اور دو ہسپتالوں میں کام کرتی ہیں، ادھر بھی مریضوں کے حساب سے کمیشن، تو ایک گھر جس کی ماہانہ آمدن چالیس پچاس لاکھ ہو،وہ عام انسان کو انسان سمجھے گا؟
پھر ہم کہتے معاشرے میں بے چینی بڑھ رہی،اگر ہم کپڑوں کی دکانوں پر چلے جائیں، ہینڈسم اماؤنٹ لے جاکر ہی فیملی کے ایک سیزن کے کپڑے خرید سکتے، دوکاندار منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے، پوچھ کر دیکھیں تو بس شکوہ، کہ پورا ہی نہیں پڑتا۔ شکرگزاری نہیں ہے تو بس پیسہ کمانے والے روبوٹ بم جاتے،اور نتیجتا’ اولاد کی تربیت کاوقت نہیں مل رہا، اسانید کے امیر تر ہونے کی دوڑ نے غریب کو غریب تر کر دیا۔ اس معاشرتی تفاوت کا نتیجہ ہمیں دکھائی دے رہا، ہر ریڑھی والا تک پیسہ بنانے کے لئے دھوکا دیتا دکھائی دیتا، پیاز سامنے صاف ستھرا رکھے گا، تول۔کے دیتے وقت خراب ڈال دے گا، یہی حال فروٹس اور دوسری سبزی کا ہوتا۔ آجکلہمیں Actemra کی کم یابی کے بہت سے میسجز مل رہے،اب کہتے یہ کہ موجود نہیں، لیکن اگر دگنی رقم ہم دیں تو ہمیں اسکی موجودگی کی یقین دہانی کروائی جاتی۔
غرضیکہ ایک نفسانفسی کا عالم ہے، جس میں ہر کوئی اپنی تجوری بھرنے کے طریقے سوچ رہا،ہم۔اپنے بچوں کے کیرئیر کا تعین بھی اسی حساب سے کرتے،ہم۔انہجں کبھی نہیں ابھارتے کہ بیٹااستاد بننا اور معماران وطن کی تربیت پر کام کرنا، ہر والدین کے منہ پر ڈاکٹر انجینئر وڈاافزر یا فوجی کے کیرئیرز، وجہ؟؟؟ معاشی خوشحالی کی فارنٹی۔سب اپنی جگہ ٹھیک لیکن کہیں پر انسانیت کے لئے جگہ چھوڑ دینی چاہئے، اسانید کو امیر تر بنانے والے ہم عام لوگ ہی ہیں،ہمہی ان ٹائیکونزکاغرور توڑنے کی اہلیت رکھتے،ضرورت اس امر کی ہے کہ سمجھدار لوگ آگے آئیں اور اصل معنوں میں اصلاح معاشرہ پر کام کریں۔

تحریر؛ حمیرا الیاس
آپ حمیرا الیاس کو ٹویٹر پر بھی @humma_g فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

امیر سے امیر تر کاسفر کیسے؟“ ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ ہما آپی نے مین پوائنٹ ہائی لائٹ کئے ہیں ایک زبردست اور جامع تحریر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں